خاور کھوکھر
128 views Published June 2nd, 2007 in peoples profile.خاور کھوکھر، اردو بلاگرز میں شائد سب سے الگ۔ ان کا انداز اس قدر مختلف ہے کہ قدیر جیسے میسنے معاف کیجئے گا معصوم لوگ تو خوامخواہ ہر بات میں کہہ دیتے ہیں کہ اوئے ان کا دھیان رکھنا۔ وہ کچھ لکھ نہ دیں۔
کچھ دنوں پہلے میں نے ایسے ہی سوچا کہ نہ جانے خاور کیسے بات کرتے ہونگے۔ کیا تب بھی پنجابی بولتے ہونگے یا اپنے لطیفے سناتے ہونگے۔ بس اسی دن کسی بات پر میں نے ان کو میل کر کے کہا کہ یہ کر دیں تو ان کا جواب آیا کہ ذرا skype پر تشریف لاؤ۔ میں نے ابھی تک مائیک نہیں لیا۔ اس بات پر قدیر میری بہت عزت افزائی کر چکا ہے۔ خاور نے لحاظ رکھ لیا لہذا کہا کہ تم لکھتے جاؤ میں بولتا ہوں۔ بس اب میں لکھوں اور وہ بولیں۔ یعنی literally وہ سنائیں اور ہم سنیں والا حال تھا۔ شکر ہے انہوں نے کھری کھری سنانے سے پرہیز کیا۔ ورنہ میں تو ان کو کچھ سنانے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ لہذا حفظ ما تقدم کے طور پر ان کا فون نمبر لے لیا کہ کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اسی دوران قدیر آیا اور حسب معمول جلدی جواب نہ پا کر اس نے میری شان میں گستاخی کرنی تھی لہذا اس کو بتا دیا کہ خاور سے بات کر رہا ہوں تم دو منٹ کے لئے غائب ہو جاؤ۔ قدیر کا جواب تھا دھیان سے کوئی لطیفہ نہ سنا رہے ہوں۔
خاور بات انتہائی سنجیدگی اور متانت سے کرتے ہیں۔ الٹے بندے کے الٹے سیدھے جوک بھی برداشت کرتے ہیں۔ جاپان میں بھی بٹ صاحب کے ہوٹل پر بندے اکٹھے کئے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی کسی صاحب نے خاور پر علم جھاڑا انہوں نے مجھ کم علم و کم عقل سے پوچھا تو میں نے اس بندے کی تائید کر دی پوچھا تھا کہ نعمت کی جمع کیا ہے؟ میں نے کہا نعمتیں تو اس بندے نے کہا کہ نہیں انعام میں نے کہہ دیا کہ ہاں 8 میں کسی ٹیچر نے بتایا تھا۔ امی سے بعد میں پوچھا تو امی نے کہا کہ نہیں یہ درست نہیں۔ عربی میں نعم اور نعمت کا بتایا ہو گا جس کی وجہ سے تم نے کہہ دیا کہ وہ درست کہہ رہا ہے۔ بس اسی سے میری تعلیم اور یادداشت کا حال دیکھ لیں۔
اس کے بعد معجزہ کی ڈیفینیشن اور اس کے پس منظر بیان کرنے کی فرمائش ہوئی۔ میں سمجھ گیا کہ مجھے پنڈ کے عالم ٹکرے ہیں جن کا مقابلہ خاور کے بس کی بات ہو میرے بس کی بات نہیں۔ لہذا معذرت کر لی۔ اس میں قصور میری نالائقی سے زیادہ خاور کے اسٹیٹمنٹ کا تھا کہ “اوئے ایہہ اردو دے بڑے وڈے بلاگر نے، بدتمیز دے ناں تو لکھدے نے” ترجمہ۔ ” یہ اردو کے بڑے بلاگر ہیں بدتمیز کے نام سے لکھتے ہیں” میں نے پوچھا کہ میں بڑا بلاگر کب سے بنا؟ مقصد تھا کہ کہوں کہ ابھی تو میں معصوم بچہ ہوں انہوں نے کہا کہ میاں دیکھو دو چار تو اردو میں لکھتے ہیں اور پرانے لکھنے والے کتنے ہیں لہذا تم اب چوں چاں مت کروں۔
خاور کو بات سے بات نکالنے کا فن خوب آتا ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ قدیر، جہانزیب اور شعیب کی طرح یہ نہیں کہتے کہ چپ کیوں ہو کچھ بولو اور بندہ سوچ میں پڑ جائے کہ بولے کیا؟ پنجابی بولتے ہیں تو جس کا مناسب سمجھیں مطلب بھی بیان کرتے جاتے ہیں۔ ان سے بات کرنے کے بعد مجھے بھی عادت پڑ گئی دو تین لوگوں سے پنجابی میں بات کر چکا ہوں۔ ورنہ تو یہاں انگلش میں کاؤ کاؤ کرنے سے فرصت نہیں ہوتی۔
ان کی باتیں بہت مزے کی ہوتی ہیں جیسے خاور نے بتایا کہ کھوکھر بھی جاٹ قوم میں سے ہیں لیکن کمہار کہلواتے ہیں۔ کسی بندے کے بارے میں بھی ذکر تھا کہ وہ ہر کسی کو خوامخواہ گالیاں دیتا تھا تو ایک دن ان کے پیچھے پڑا تو انہوں نے کیا فرمایا۔ ہاہاہا ویسے مجھے نہیں پتہ تھا کہ گاؤں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ صدر مشرف کو ناپسند کرتے ہیں لیکن آپ کی رائے جانتے ہوئے رواداری میں کچھ نہیں کہتے۔ ابا جان سے ابھی تک ادب سے پیش آتے ہیں ویسے میں سوچتا تھا کہ ابا جان کو بھی جواب دے دیتے ہونگے لیکن ان کے بارے میں ادب کا لحاظ رکھتے ہیں۔ باقی کچھ دوستوں کے “ابوں” کی تعریف بیان کی تھی جو کہ لکھنے سے پرہیز کر رہا ہوں۔
خاور سے ایک بات پوچھنا یاد نہیں رہتی۔ اکثر جگہ اپنی جوانی کا ذکر کرتے ہیں۔ میں نے کہنا تھا ذرا ایک قسط وار سلسلہ شروع کر کے نوجوانوں کا بھلا کر دیں آپ کے بلاگ پر ٹریفک بڑی بڑھ جائے گی
ابھی بھی لوگ وہاں جا کر چسکے لے لیتے ہیں لیکن شریف بننے کی فل کوشش کرتے ہیں۔ اگلی نشست میں ان سے شریف کی ڈیفینیشن پوچھوں گا۔ ساتھ میں شریف اور میسنے میں فرق۔ ان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ شائد وہ فحش گو ہوں جس کو الٹے لطیفے سنانے کے علاوہ کوئی کام نہ ہو لیکن ان کی گفتگو انتہائی سلجھی ہوئی تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ وہ پہلے رخ کو چھوڑ کر نئے انداز کی طرف مائل ہوئے ہیں لیکن اس کو چھپا نہیں رہے لہذا لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ اصل بندہ کون ہے۔
خاور نے اپنی زندگی کی کچھ دلچسپ باتیں بتائیں۔ بہت کم لوگ ایسا حوصلہ رکھتے ہیں۔ 2 سال پہلے میں نے جب ان کا تعارف پڑھا تھا تو قران سے محبت اور عورتوں میں دلچسپی کا لکھا ہوا تھا۔ ساتھ میں انکل اجمل کا سوال تھا کہ دو الٹ چیزیں اکٹھی کیسے؟ کچھ لوگوں کو شائد وہ منافق لگیں لیکن مجھے وہ کھرے انسان لگے تھے کہ کچھ چھپانے کی کوشش نہیں کرتے۔ نا تو نیک اور پرہیز گار بن کر سر پر چڑھتے ہیں نہ الٹے کاموں کی دعوت دیتے ہیں۔ خاور کا اپنے بارے میں کیا کہنا ہے وہ میرے خیال سے اگلے ایک دو سالوں میں ان کے کسی کام کے ہو جانے پر وہ خود ہی لکھ دیں گیں۔
Popularity: 8%
Popularity: 8%
128 views
Related Posts
- ہم اس لئے گھورتے ہیں۔ On December 7, 2007, 15 Comments
- خواتین بالکل مت پڑھیں۔ نہیں تو اپنی ذمہ داری پر پڑھیں۔ شکریہ سارا قصور راشد کامران کا ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ سب لوگ صدر پاکستان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ ایسے میں انہوں نے “قوفیوں” کے کہنے پر ایک تحریر لکھ دی۔ اس کے بعد فرحت نے بھی لکھی اور تو اور قبلہ
- سیاسیات On January 14, 2008, 2 Comments
- اگر ہیلری یا اوبامہ کوئی بھی ڈیموکریٹ امیدوار بن کر الیکشن لڑ کر جیت بھی جاتا ہے تب وہ کس کو نائب صدر بنائے گا؟ کیا ہیلری اوبامہ کو نائب صدر کی آفر کرے گی؟ کیا اوبامہ ہیلری کو ایسی آفر کرے گا؟ یا وہ جان ایڈمنڈ کو ترجیح دے گا۔ نیو ہیمپشائر ڈیبیٹس میں
Random Posts







اتنے بڑے اُردو بلاگر ہو کر آپ نے خاور صاحب کی تعریف میں اتنا زیادہ وقت ضائع کیا اور تعریف پھر بھی مکمل نہ ہو سکی ۔ خاور صاحب کی مکمل تعریف کیلئے صرف ایک فقرہ کافی ہے ۔ “خود ساختہ اور جہاں دیدہ آدمی ہیں جو ہر ماحول کو بخوبی سمجھ لیتے ہیں”۔
[reply to this comment]
ضاور باریک بین ہیں اور چھوٹہ چھوٹی باتوں کو ضوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ ابھی انہوں نے اپنی تازہ تحریر میں کرنا اور کہنا میں فرق بیان کیا ہے۔
[reply to this comment]
بدتمیز: تم میرے خلاف پروپیگنڈے سے باز آ جاؤ گندے !
چونکہ میں نے تم پر طویل مقالے لکھ کر تمہارا منہ کالا کرنا ہے اس لیے ابھی نہیں لکھ رہا ۔ دوسروں سے فارغ ہو لوں تو تمہیں دکھاؤں گا اپنی صلاحیتیں
:@
[reply to this comment]
سلام
اجمل انکل: ہاہاہا میں کہاں بڑا بلاگر ہوں۔ اور ٓ
آپ کے خیال سے وقت ضائع کیا۔ یہ مزے کی اسٹیٹمنٹ ہے۔
میرا پاکستان: خاور نے کہا ہے کہ اس پوسٹ پر نو کمنٹس۔ پھر کہتے مجھ سے سارا کچھ پوچھتے ہو بعد میں لکھ ہی نہ دینا کہ خاور تے بس ایوی ای اے۔
قدیر احمد رانا: سر میں نے ٓآپ کے خلاف کب پراپیگنڈہ گیا؟ اور کونسی صلاحتیں؟ کچھ ہوتی تو ٓآپ کچ کر مر نہ لیتے؟
[reply to this comment]