کچھوا
161 views Published May 28th, 2007 in گھر کے ارد گرد.چند دن پہلے میرا کزن اپنے گھر کے لان کی گھاس کاٹنے لگا تو وہاں ایک مادہ کچھوا انڈے دینے آئی ہوئی تھی۔ اس نے گھونسلے میں انڈے دے رکھے تھے اور اب اس کو پاٹ رہی تھی۔ مادہ کچھوا غلطی یہ کر بیٹھی کہ دن کی روشنی میں گھونسلے کو پاٹ رہی تھی۔ ارد گرد کے بچے اس کو تنگ کرنے لگے۔ ماموں جان سدا کے رحمدل ان سے رہا نہیں گیا وہ تو آدھی رات کو سنسان جگہ پر بھی گاڑی روک کر ایسے کچھوں کو سڑک سے اٹھا کر کچے میں چھوڑنے سے نہٰں ہچکچاتے کہ کسی گاڑی کے نیچے آ کر کچلا نہ جائے یا کسی کا ایکسیڈینٹ نہ ہو جائے تو اب بھی ان سے رہا نہیں گیا گاڑی نکالی اور چلے اس کو درختوں کے جھنڈ میں چھوڑنے۔ اس سے پہلے میرے کزن نے فرمائش کی کہ اس کو یہاں دیکھاتے جائیں۔
Popularity: 32%
Popularity: 32%
161 views
Related Posts
- None Found
Random Posts









ڈفر’s last...
ہمارے یہاں کراچی میں کچھوؤں کی افزائش کے لئے کی محفوظ مقامات مختص ہیں۔ ہاکس بے سے لے کر سینڈز پٹ اور گڈانی کے ساحلوں تک اکثر اسکولز بھی بچوں کو وہاں لے کر جاتے ہیں۔ مچھیروں اور ساحل پر آنے والے لوگوں کو اس بارے میں مسلسل آگاہی دی جاتی رہتی ہے۔ تفریح کے لئے سینڈز پٹ جانیوالوں کو تو اکثر کچھوؤں کے انڈے اور کچھوے ملتے ہیں۔ اور رات کے وقت کچھوؤں کے ساحل پر آنے کا منظر تو بہت ہی خوبصورت ہوتا ہے۔
نعمان نے بالکل صحیح پوائنٹ آوٹ کی یہ سبز کچھوے بڑے جناتی سائز ہوتے ہین اتنے کہ ان پر انسان سوار ھو سکتا ہے لیکن احتیاط سے ورنہ یہ پانی کے قریب پہنچ کر اتنی تیزی سے اندر جاتے ہیں کہ آپکا آخری سفر بھی ہو سکتا ہے
سلام
نعمان: ٹی وی پر کچھوﷺں کی فلمیں اکثر دیکھای جاتی رہی ہیں۔ لیکن رپورٹس ان ساحلوں کے بارے میں سواءے ایک فارم کے علاوہ حوصلہ افزا نہیں۔ بہت سے لوگ تو ان کو صرف شوقیہ طور پر مارنے میں مزہ محسوس کرتے ہیں۔
احمد: ٓپ کی بات شائد درست ہو میرے خیال سے صیح نہیں۔ کیا آپ کو ذاتی تجربہ ہے یا اس کا مشاہدہ کیا ہوا ہے؟