شعیب صفدر، میرے دو جٹ بھرا میں سے ایک۔ یہ علم نہیں کہ بڑا ہونے کا اعزاز کس کے پاس ہے۔ جہانزیب کی شادی یا نکاح
ہوا ہے تو لگتے تو وہ ہی بڑے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے انہوں نے نصیحت جو کھینچ کر ماری تو سیدھی دل پر لگی، کس کے؟ ان کے اپنے۔ مجھے نصیحت کی گئی کہ خود اعتمادی کا دعویٰ نہ کرنا میں نے کہا بھیا میں جواب تفصیل سے دونگا۔ وہ بعد ابھی تک نہیں آئی۔
ان کے معاملے میں نقصان یہ ہے کہ بندے کے ساتھ ساتھ وکیل سے بھی نبٹنا پڑتا ہے۔
ابھی جو میں نے لکھا کہ دل پر لگی تو اس کا اجمال کچھ یوں ہے کہ مجھے نصیحت مار کر خود میرے بارے میں تفتیش کرتے رہے۔ اب مجھے ادھر ادھر سے خبریں ملیں کہ جناب میرے چال چلن کی انکوائری کمیشن بیٹھائے ہوے ہیں۔ لیکن جناب ڈائریکٹ بات نہ کریں۔ میں نے ان کا نمبر لے کر ان کو دو ایس ایم ایس صبح دوپہر شام کی طرز پر کئے بھی لیکن جواب ندارد
میں تو سمجھا شائد گھبرا گئے ہیں کہ بدتمیز انسان ہے کہیں بدتمیزی نہ کر دے۔ پھر شائد ہمت پکڑی کہ دیکھو ہم نے صدر کو نہیں چھوڑا تو یہ کیا چیز ہے لہذا پرسوں فون کیا۔ جب تک میں موبائل ڈھونڈ ڈھانڈ کر اس تک پہنچا تب تک فون بند ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میں نے رات کو جہانزیب کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ شعیب نے فون کر کے میسج چھوڑا ہے کہ لوگ امریکہ میں فون اٹینڈ نہیں کرتے تو لے کیوں لیتے ہیں؟ میں نے ان سے بات کرنے کے بعد شیعب کو فون کھڑکا دیا۔
شیعب اس وقت مچھلی منڈی میں تھے۔ (امید کرتا ہوں یہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا
) ارشاد ہوا کہ مخالف وکیل دندیاں نکال رہا ہے میں اس کے دانت کھٹے کر لوں تم جا کر سو صبح فون کرنا۔ ان کو پھرنے کا کتنا شوق ہے اس سے اندازہ لگائیں کہ ابو نہ روکتے تو 12 مئی کو سیر سپاٹے پر جا رہے تھے۔ ابھی بھی جب دوبارہ فون کیا تو کہتے یار ابھی ایک منڈی سے نکلا ہوں تو دوسری میں پہنچ گیا ہوں (جملہ معترضہ، میں نے جملے کو حسن بخشنے کے لئے منڈی کے ساتھ مچھلی ہٹا دیا۔ شیعب نے کہا تھا کہ ایک مچھلی منڈی سے نکلا تو دوسری مچھلی منڈی میں پہنچ گیا ہوں)
شعیب چیف جسٹس کے بڑے حامی ہیں۔ ان کے خلاف مذاق میں بھی کچھ کہہ دیں شعیب کا مذاق فورا ختم ہو جاتا ہے اور ایسے بات کرتے ہیں جیسے صدر سے بات کر رہے ہوں
شعیب کی اتنی بھاری بھرکم شخصیت کے مقابلے میں آواز اتنی بھاری نہیں۔ میں تو سمجھا کہ فون پر کسی پکی عمر کے بندے کی طرح کی آواز ہو گی جس کا گلا عدالت اور چیف جسٹس کی حمایت میں بیٹھ چکا ہو گا۔ لیکن یہاں تو صدا بہار آواز تھی۔ اگر وکیل نہ ہوتے تو ابرارالحق کے مقابلے میں یہ بھی کوئی نہ کوئی ترانہ بنام صدر پاکستان نکال کر شہرت حاصل کر سکتے تھے۔ اس کے مقابلے میں میری آواز L یہ تو جن کو دن رات سننی پڑتی ہے کوئی ان سے پوچھے۔
شعیب پہلے بندے ہیں جو پاکستان سے کال کر لیتے ہیں۔ ورنہ پاکستان سے یہی فرمائش ایس ایم ایس یا میسنجر پر وصول ہوتی ہے کہ ذرا کال تو کرنا۔ نامعلوم قدیر کراچی گیا تھا تو ان کے پاس کیوں نہیں گیا تھا۔ یہ تو شائد قدیر اور شیعب کا اندرونی معاملہ ہو ویسے دونوں اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ نہیں تو مجھے بتا دیں میں روشنی ڈال دونگا۔
میرے خیال سے پہلی دفعہ کے طور پر اتنا کافی ہے
میں نے تو بڑی کوشش کی ہے کہ ہتھ ہولا رکھوں نامعلوم ان کو برا نہ لگ جائے اور اگر لگ بھی جائے تو کیا ہوا میں تو کل پرسوں غائب ہونے والا ہوں لہذا مجھے miss کرنے کی قطعاُ ضرورت نہیں
میں جیسے ہی چانس بنا آن لائن ہو کر کھری کھری سن لونگا۔
Popularity: 13% [?]



























شعیب صاحب کی چاندی ہونے والی ہے
کیونکہ میرے بلاگ پر بھی ان کی شان میں کچھ چھپ رہا ہے
جب میں کراچی گیا تھا تو شعیب نے دعوت ہی نہیں دی ۔
آواز کے بارے میں درست کہا ہے، میں نے پہلے وائس میل سن کر کہا کہ یہ کون بچہ ہے جو مفت میں فری ہو رہا ہے۔ پھر تین دفعہ پیغام سنا تو سمجھ آئی نعرے لگا لگا کر آواز ایسی ہو گئی ہے ۔
ویسے یہ تبصرہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ آواز میری شخصیت کو کم کردیتی ہے۔۔۔ اس لئے تقریری مقابلہ میں بھی شروع ہی میں نکل جاتا تھا!!! اور میری بنائی ہوئی تقریر کسی اور کو پکڑا دی جاتی تھی!!!
سلام
قدیر احمد رانا: شعیب کی تو واقعی میں بڑی چاندی کی ہے ٓپ نے لیکن سنا ہے پھر ٓپ کی بھی چاندی ہوءی ہے فون پر۔
جہانزیب: سر ہتھ ہولا رکھیں
شعیب صفدر: شکر ہے مجھے قدیر کی قسم کا فون نہیں لگایا ٓپ نے