بل پڑھ کر یہ مت سمجھیں کہ میں امیگریشن بل پر کوئی اپ ڈیٹ دینے لگا ہوں۔ حالانکہ اس کے پوائنٹ سسٹم پر بات کرنا رہ گئی ہے۔ نہ میں صدر کلنٹن کے بارے میں رتب اللسان ہونے لگا ہوں۔ یہ بل وہ ہیں جو پاکستان میں “تراہ” نکال دیتے ہیں۔ چاہے بجلی 24 میں سے 25 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کے نام پر غائب ہو لیکن بل ایسے آتا ہے جیسے سارا دن اور ساری رات 1000 واٹ کے بلب جلائے گئے ہیں۔
پاکستان میں ہماری امی کا قاعدہ تھا کہ بل یا بچوں کی پراگریس رپورٹ (ہماری کارگزاریاں) ابو کو آتے ساتھ ہی نہیں دیتی تھیں۔ آنے کے دو تین گھنٹے کے بعد ابو کو یہ ساری چیزیں دیکھائی جاتی تھیں۔ یہاں الٹ حساب ہے اول تو امی ڈاک دیکھتی نہیں اس وقت تک جب تک علم نہ ہو کہ پاکستان سے خط آ رہا ہے اور اگر دیکھ بھی لیں تو ساری کی ساری میری ٹیبل پر رکھ دیتی ہیں۔ یعنی اب ہم صبح بستر سے 10 بجے نکلے تو جا کر میل چیک کریں جو آنکھیں بندے نے نہیں بھی کھولنی ہوتی وہ بھی بل دیکھ کر کھل جاتی ہیں
لہذا جس ہفتے بل نہ آئے وہ ہفتہ بڑا بے چین رہتا ہے۔ مجھے سب سے برا بل بجلی کا لگتا ہے کیونکہ گھر والوں کے مطابق جتنی بجلی میں استعمال کرتا ہوں وہ یہ سب مل کر کرتے ہیں۔ جیسے کمپیوٹر چلاتے وقت فل روشنی اور ساتھ میں ٹی وی خوامخواہ چلتا ہے۔ یا سردیوں میں ہم لاؤنج میں ہیٹر چلتا چھوڑ کر خود بستر میں گھس جاتے تھے یا نہانے گھسے اور اس کے دو گھنٹے بعد کوئی گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی میں ہیٹر چلتا چھوڑ آیا ہوں۔ ابھی بھی میں کچن تک پانی پینے جاتا ہوں اور واپسی پر پنکھا بند ہوتا ہے۔ گھر والوں کے مطابق گرم وقت میں گھر میں نہیں گزارتا ورنہ اے سی بھی چلا چکا ہوتا۔
پاکستان میں بجلی سے زیادہ ٹیلیفون کے بل نے تنگ کیا ہوا تھا۔ نیٹ کی وجہ سے ابا جان کا خیال تھا کہ لائن رینٹ نکال کر 700 میں سے باقی جتنا بل آتا ہے وہ سارا نیٹ کا ہے کالز تو جیسے کوئی کرتا نہیں تھا۔ لہذا ہمارے ابا جان کو یا تو آخری تاریخ پر یاد آتا تھا کہ بل جمع کرانا ہے یا پھر اس کے بعد لہذا بل ہمارے سر کر دیا جاتا تھا کہ تم چلاتے تو جمع بھی کراؤ۔ مئ جون میں نہر کے کنارے بیٹھے سب پڑھ رہے ہیں ڈیڑھ گھنٹے بعد لیکچر لینا ہے اور آپ کو اس ٹھنڈک بھرے ماحول کو چھوڑ کر بل جمع کرانے جانا پڑتا ہے۔ لاہور کے رہنے والے مئی جون میں جب بل جمع کرانے قطار میں لگتے ہیں ان کو تو بخوبی علم ہو گا کہ کیا حال ہوتا ہے۔ ہماری قوم کو شروع سے ایسا ہر جگہ ذلیل کیا گیا ہے کہ قوم کو علم ہی نہیں ہوتا کہ جیا کیسے جاتا ہے۔ (جیا علی کے بارے میں سوچنے سے پرہیز کریں
)
امریکہ میں کسی جگہ کوئی لمبی لمبی لائن نہیں لگتی۔ نہ جا کر جمع کرانا پڑتا ہے۔ ڈاک کے ذریعے بل گھر آ جاتا ہے۔ اسی میں ایک لفافہ ہوتا ہے آپ بل میں سے مطلوبہ حصہ الگ کریں اتنے ڈالر کا چیک لکھیں اور اس لفافے میں ڈال کر بھیج دیں بس آپ کا بل پے ہو گیا۔ جیسے شروع شروع میں میں نے ایسے ہی میل کرنا شروع کر دیا۔ لیکن اب کریڈٹ کارڈ پر سارے بل پے کر دیتا ہوں اور اس کے بعد آنلائن ہی بیٹھ کر کریڈٹ کارڈ بل بھی بینک سے پے کر دیتا ہوں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اس لائن سے نجات ملی۔ ویسے میرا خیال ہے کہ ابا جان کے ذمہ یہ ہو تو وہ یہاں بھی بل آخری تاریخ گزرنے کے بعد جمع کرانے کی سوچیں جبکہ میں نے کام یہ پکڑا ہوا کہ جس دن بل آتا ہے اس کے ایک گھنٹے کے اندر پے کر دیا جاتا ہے (ایک گھنٹے میں بندہ آنکھیں کھول کر منہ ہاتھ دھو لیتا ہے
) ویسے یہاں چونکہ ڈاک کے ذریعے پے کرنا ہوتا ہے لہذا کوشش کریں کہ due date سے 3 دن پہلے ہر حال میں اس کو پوسٹ کر دیں۔
امریکہ آنے سے پہلے میرے ذہن میں دو بڑی غلط فہمیاں تھیں کہ بجلی کے کھبمے کہیں نظر نہیں آئیں گے اور جس طرح پاکستان میں بل ریڈر ہوتے ہیں وہ یہاں پر نہیں ہونگے۔ جس طرح ٹیلیفون کا میٹر محکمہ کے پاس ہوتا ہے ویسے ہی ہو گا لیکن یہ بات غلط ہو گئی۔ بجلی کے کھمبے بھی تھے اور میٹر بھی۔ اور بہت وافر مقدار میں تھے۔ اب ہم انتظار میں بیٹھے کہ میٹر ریڈر دیکھیں کیا کرتا ہے اور کیسے۔
میٹر ریڈر صاحب ہر ماہ نہیں آتے نہ یہ آپ کے بیک یارڈ میں مٹر گشت کرتے ہیں۔ یہ گاڑی میں بیٹھے ہوتے ہیں اور گزرتے جاتے ہیں ان کی گاڑی میں لگے آلات خود ہی سب میٹروں سے گفت و شنید کر کے ریڈنگ نوٹ کرتے جاتے ہیں۔ نیچے کی دو تصاویر میں فاصلہ دیکھیں کہ سڑک سے میٹر تک کا کتنا فاصلہ ہے۔
اس کے بعد اگر یہ صاحب اپریل میں چکر لگا گئے ہیں تو بچت کی خاطر محکمہ ان کو مئی میں نہیں بھیجے گا بلکہ مئی کا بل ایوریج جو آپ استعمال کرتے ہیں وہ کیلکولیٹ کر کے بھیج دیا جاتا ہے۔ اب یہ دوبار جون کے لئے تشریف لائیں گے اور مئی کے بل میں جو جمع تفریق کرنی ہو گی وہ جون کے بل میں کر کے بھیج دیا جائے گا۔
جیسے آپ کا بل اپریل میں تو صیح تھا لیکن مئی میں ایوریج استعمال سے آپ نے 10 ڈالر زیادہ کی بجلی استعمال کی لیکن بل 10 ڈالر کم پے کیا لہذا اپریل اور جون کے درمیان میٹر کی ریڈنگ سے بل نکال کر مئی والی رقم نکال کر باقی بل جون کا بن جائے گا۔ (جیسے اس دفعہ میرا بجلی کا بل 77 ڈالر ہے جبکہ اس سے پچھلے دو ماہ میں نے 130 اور 110 دیا ہے۔ لہذا اگر یہ ایوریج بل ہے تو اگلے ماہ زیادہ آئے گا اور ہم یہ کہیں گیں کہ نہیں اے سی چلایا ہے اس لئے زیادہ آیا ہے)
بل نامہ سن لیا۔ میرے کمپیوٹر کی تصویروں میں جو cpu پر ایک pile سا نظر آ رہا ہے ہو پتہ ہے کیا ہے؟ ادا شدہ بل اور کیا؟
Popularity: 7% [?]
Popularity: 7% [?]
209 views
Related Posts
- بھگوڑا کون؟َ On June 19, 2009, 35 Comments
- http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100651146&Issue=NP_LHE&Date=20090619 بہت سے لوگ آجکل بحث کر رہے ہیں کہ نواز شریف کا ملک چھوڑنا اس کو قومی لیڈر ثابت نہیں کرتا۔ کرے نہ کرے سانوں کی؟ لیکن جان بچانے کو اگر بی بی اتنے سالوں باہر رہ سکتی ہے اور گارنٹی ملنے پر ہی ملک واپس آتی ہے تو اس کو کیوں بھلا دیا جاتا
- خادم اعلیٰ On September 13, 2008, 0 Comments
- http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100482112&Issue=NP_LHE&Date=20080913 :taye: :thinkin/ جدہ کی گرمی لگ گئی یا لندن کی ٹھنڈ؟ AKPC_IDS += "311,";Popularity: 7% [?] Share and Enjoy:
- Harry Potter and the order of the phoenix On June 1, 2007, 0 Comments
- you should know by now that I am a fan of harry potter. So I cant wait to see the 5th part of the movie series. Some says that this part is goin to be the last part. well how knows it can be. So the date is set to july 13th. lets c if
- New Presidential coins On January 7, 2007, 0 Comments
- A new presidential dollar coin will be appearing in circulation beginning February 16, 2007. United States Mint officials for the first time revealed designs for the presidential dollar coin series at a November 20, 2006 ceremony held at the Smithsonian Institution’s National Portrait Gallery.The dollars are to be produced because of the Presidential $1 Coin
- مزید کارڈز پلیز On March 16, 2008, 7 Comments
- میں نے کریڈٹ کارڈ کیسے لیا یہ ایک درد بھری کہانی ہے۔ سارے درد سہہ کر مرہم ملا تھا۔ اب سال ہو چلا ہے اور دل پھر سے کریڈٹ کارڈ اپلائی کرنے کے لئے مچل رہا ہے۔ اصل میں میرے سر پر جس چیز کا خناص سوار ہو جائے وہ ہر صورت پورا کرکے چھوڑنا
- امریکی کرنسی۔ On January 8, 2007, 4 Comments
- امریکہ عجیب ملک ہے۔ لوگ بےوقوف ترین ہیں۔ میڈیا پر آنکھ بند کر کے “ایمان لے آتے ہیں” ان کو بے وقوف بنانے والوں کو تعداد بھی کم نہیں۔ ہر کمپنی اور ہر بندہ ان کو بےوقوف بناتا ہے۔ پیسا کمانے کے جو ڈھنگ اور طریقے یہاں میں نے دیکھے اور کہیں نہیں دیکھے۔ ان
- 50 Cents in da club On August 24, 2007, 0 Comments
- Go, go, go, go, go, go Go, shorty It’s your birthday We gon’ party like it’s your birthday We gon’ sip Bacardi like it’s your birthday And you know we don’t give a fuck cause it’s not your birthday! [Chorus (2x)] You can find me in the club, bottle full of bub Look mami i got the X ,if you into takin drugs Im into
- Harry Potter and the Deathly Hallows On July 22, 2007, 0 Comments
- Muggles beware, dark lord is at large, roaming through countries killing peoples and he has killed the 2nd best after dumbledor, none other than mad eye moody. well atleast upto page 105, moody is dead with the dead body missing. I ordered harry potter and the deathly hallows back in march. during the time amazon contacted
- The Male Brain, Explained On August 20, 2008, 0 Comments
- یہ ایک بڑے مزے کا آرٹیکل ہے۔ چونکہ ماشاللہ سب بہت ignorant ہیں اور لنک کرنے پر پڑھیں گے نہیں لہذا میں نے اس کو دلچسپ کرنے کی خاطر اپنے کمنٹس ساتھ دے دئیے ہیں۔ پڑھیئے اور سر دھنئے، پر اپنا، میرا نہیں۔ Women have puzzled over it for years—why the
- Last Breath On July 28, 2007, 0 Comments
- Simply awesome. From those around ,I hear a Cry A mouthful sob,a Hopeless Sigh. I hear their Footsteps leaving slow, And then I know my Soul must Fly. A chilly wind begins to blow, Within my Soul from Head to Toe. And then ,Last Breath escapes my Lips, Its time to leave and I must go. So it’s true,(But it’s





























پچھلی کسی پوسٹ نے آپ نے لکھا تھا کہ گھر کے لان تصویریں لینے کی وجہ سے پولیس آپ کے گھر آگئ تھی، اس کا کیا بنا؟
اب تو جناب بل جمع کرانے کا اس سے بھی سہل نسخہ عام ہوچکا ہے۔ آپ سارے بل بمع کریڈٹ کارڈوں کے اپنے بنک کے ذریعے الیکٹرونک وصول کریں اور ان کی ادائیگی اسی اکاؤنٹ سے آٹومیٹک کردیں۔ نہ آپ کو روزانہ میل چیک کرنی پڑاکرے گی اور نہ ہی بل کے لیٹ ہونے کی فکر ہوگی۔
اب تو پاکستان میں بھی بہت آسانی ہو گئی ہے ۔ نادرا کیاسک کے ذریعے لائن میں نہیں لگنا پڑتا۔
سلام
میرا پاکستان۔ پتہ نہیں۔ پھر تو تشریف نہیں لائے۔ شائد شرما گئے کہ کیا تفتیش کرتے پھر رہے ہیں۔
نہیں بینک کو اتنی تکلیف نہیں دی۔ کمبختوں نے کریڈٹ کارڈ جو نہیں دیا۔
نہیں دراصل میل مین آنے سے ریمائینڈر کی طرح بن جاتا ہے۔
قدیر احمد: نادرا کے کس کی طرح؟ وہ تو کراچی میں شروع ہوئی تھی۔ کیا ہر جگہ ہو گئی ہےْ اس پر ذرا روشنی ڈالو۔