Skip to content


Immigration Deal

جنوری یا فروری 2006 میں ایک شخص نے ابو کو کہا کہ آپ تو بے حد خوش قسمت ہیں کہ آپ کا کام ہو گیا۔ امریکہ میں کچھ عرصے میں امیگریشن بند ہو جانی ہے یا مزید سخت کر دی جانی ہے۔ یہ صاحب ان دنوں پی ایچ ڈی سٹارٹ کر رہے تھے۔ اللہ ان کے ارادوں میں ان کو کامیاب کرے۔ میں نے ان کی بات سن کر عام پاکستانی کی طرح امریکہ کے رقبے اور پاپولیشن کی بنیاد پر کہا تھا ان کو کیا پتہ ہو ایسے ہی باتیں مار رہے ہیں۔ اس ہفتہ امریکہ میں ایک انتہائی اہم امیگریشن ڈیل ہوئی۔ مجوزہ ڈیل پر صبح پیر 21 مئی 2007 سے بحث ہونی ہے۔ چاہے اینڈ ریزلٹ مجوزہ نکات سے مختلف ہو لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں۔ اس کے علاوہ پاپولیشن سینسر بورڈ نے اپنے اعداد و شمار بھی جاری کئے۔ ایک تو یہ بورڈ ہمارے سینسر بورڈ کی طرز کا نہیں دوسرے ان کے اعداد و شمار ہمارے وزرا کی طرح نہیں۔

شائد 1980 کی دہائی میں آخری دفعہ امیگریشن نرم کر کے ان لاکھوں لوگوں کو قانون کی روشنی میں لایا گیا تھا۔ کہ جو کہیں سے ملازمت خاص طور پر زراعت پیشہ ملازمت کا سرٹیفیکیٹ دیکھائے گا۔ امریکی زمینداروں نے 500 سے 5000 ڈالر لے کر کتنے ہی لوگوں کو ملازمت کے سرٹیفیکیٹ دے کر پیسے کمائے تھے۔ زمانہ معصوم تھا کمپیوٹر ہوتا نہیں تھا اور تیز رفتار authentication ممکن نہیں تھی۔ گورا مزاج تھا کہ جو اگلا کہہ رہا ہے وہ سچ ہے۔ (یہ تو اب ہمیں جان گئے ہیں اور یقین نہیں کرتے :P ) لہذا میری برادری کے کچھ لوگ اس طرح امریکہ میں قانونی ہوئے۔ بچپن میں جب کبھی سالوں بعد اس گلی جانا ہوتا تھا جس گلی کا ہر گھر ہماری برادری کا ہے اور جس گلی کے ہر سال ہر مہینے کسی نہ کسی گھر کا سپوت باہر سے آیا ہوتا ہے۔ تو وہاں مجھے ڈرائنگ روم کے دروازے کھلے دیکھ کر بڑی حیرانی ہوتی تھی (ہماری امی جو ہمیں تالے میں گھر بند رکھتی تھیں کہ زمانہ بڑا خراب ہے) اندر صرف ایک کمرے کی تزئین و آرائش لاکھوں کی ہوتی تھی۔ ان جگہوں پر سپوتوں کے ہاتھ میں مختلف بوتلیں جو عام دکانوں پر نظر نہیں آتی تھیں اور جن سے دادی بچاتی تھیں کہ نہیں ادھر اس طرف مت جاؤ۔ جب کبھی خاور کی جٹوں کے بارے میں رائے پڑھتا ہوں تو میری نظر میں وہی گلی اور اس کے مکین گھوم جاتے ہیں۔ شکر ہے میرے دونوں “جٹ بھرا” آجکل بہت مصروف ہیں نہیں تو یہ میری عزت افزائی بھی کر سکتے ہیں۔ جہانزیب نے پڑھ لیا تو ہو سکتا ہے  اسی اتوار بات کریں۔ ان لوگوں کی اکڑ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ امریکہ انسان کو کیا بنا دیتا ہے۔

دو ماہ قبل ایمنیسٹی انٹرنیشل نے ٹیکساس میں ایسے قیدخانوں میں غیر قانونی لوگوں سے بات چیت کے کر اعداد و شمار جاری کئے۔ ان کو law agencies نے چھاپے مار کر مختلف فیکٹریوں سے گرفتار کیا۔ ان میں سے سب سے زیادہ تعداد میکسیکن لوگوں کی تھی۔ علاقے میں گردش کرتی افواہ کے باعث ایک خاتون کو کسی نے کہہ دیا کہ اگر تم کہو گی کہ تمہارا american born بچہ ہے تو تم سے چھین لیا جائے گا۔ اور تمہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔ (امریکہ میں فوجی ضرورت بہت بڑی گئی ہے اور ان میں یہ بات بہت عام ہے کہ ان کے سنگل لوگ جنکی فیملی نہ ہو فوج میں چلے جاتے ہیں) لہذا ایک ماں کو ایسا کیسے گوارہ تھا لہذا اس نے گرفتاری کے وقت پوچھنے پر انکار کر دیا کہ اس کا بچہ نہیں۔ اب ماں قید خانے میں ہے اور چند ماہ کا بچہ گھر میں بھوک سے رو رہا ہے۔ اسی طرح ایک خاتون کے دو بچے 16 سالہ بیٹی اور 14 سالہ بیٹا گھر بیٹھے ہیں کیونکہ امی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایسے خاندانوں کے ٹوٹنے کا دباؤ کافی تھا۔

ہمارے اسٹور پر ایک میکسیکن آتا تھا۔ یہ لوگ بہت معصوم تھے اور سیدھے سادھے تھے۔ کبھی کسی قسم کی تلخ کلامی تو دور کی بات میں نے کبھی ان کو اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا تھا۔ ابھی دو ہفتہ قبل اس کی تصویر اخبار میں دیکھی۔ اس نے ورجینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک افریقن امریکن لڑکے کی گاڑی ہٹ کر دی۔ وہ لڑکا اس رات سڑک پر کسی دوسری گاڑی کو گھسیٹ کر سڑک پر لانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ میکسیکن اس قدر گھبرایا کہ بھاگ کر درختوں میں چھپ گیا۔ پولیس کے آنے پر لوگوں نے بتایا تو اس کو پاس ہی درختوں سے گرفتار کر لیا گیا۔ ہٹ کرنا ایک  جرم ہے اور ہٹ اینڈ رن دوسرا۔ اب ان پر دو فردیں عائد ہو گئیں۔ قتل الگ۔ وہ کیوں بھاگا؟ الیگل امیگرنٹ ایک ہی جھٹکے میں سارے خواب چکنا چور۔

لیکن سب سے بڑا دباؤ تھا بزنس کی طرف سے۔ امریکہ میں بزنس چاہے سمال ہو یا لارج اس کو تحفظ کیسے فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ بڑی دلچسپ ہے اور میں دل سے قائل ہوں کہ اس ملک کو حق ہے کہ ساری دنیا پر راج کرے۔ یہ کروڑوں امیگرینٹس فیکٹریوں اور ایسے کاموں میں ہچکچاتے نہیں جن کو امریکی کرنا پسند نہیں کرتے۔ جیسے گیارہ ستمبر کی پکڑ دھکڑ کے بعد نیویارک میں ٹیکسی چلانے والے سب بھاگ گئے کیونکہ سب کے سب الیگل تھے۔ اس کے بعد امریکہ میں ہر شخص اور ہر ادارہ معلومات فراہم کرنے لگے۔ جیسے پہلے dmv یا سوشل سیکیورٹی کے لئے ان ایجینسیز کے لئے جاسوسی کرنا فرض نہیں تھا لیکن اب یہ بھی شامل ہیں۔

اس بل کے ساتھ ہی کچھ لوگوں میں خوشی دوڑ گئی ہے اور کچھ لوگ پاکستان میں رو رہے ہیں کہ کیوں بھاگے۔ خیر اس ڈیل میں ایسے لوگ جنکی یہاں فیملی ہے اور اب ان کے لئے فیملی بریک اپ اچھی چیز نہیں ان کو فیس کے علاوہ 5000 ڈالر ہر ایک غیر قانونی شخص کے لئے پے کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد 7 سے 13 سال کے عرصے میں ان کو امیگریشن دی جائے گی۔ فیملی کے سربراہ کو اپنے ملک جانا پڑے گا۔ اور دوبارہ واپس آنا ہو گا۔ یہ بات واضح نہیں کہ اگر واپس جائے گا تو کتنے عرصے میں واپس آ سکتا ہے۔ جیسے ایک سال تک کی مدت کے لئے تو بہت سے لوگ راضی ہونگے۔ گیسٹ ورکر کے لئے دو سال کا ویزہ ہو گا جس کو دو دفعہ ری نیو کرایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہر دو مدت کے درمیان ایک سال کے لئے اپنے ملک واپس جا کر رہنا لازم ہے۔

لبرل طبقے کے مطابق بل قابل عمل نہیں ہو گا اور اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ کنزرویٹو کے مطابق ایسے لوگوں کو چھوٹ دینا صیح نہیں۔ میں نے پہلے کہیں لکھا تھا کہ برطانیہ نے الیگل لوگوں کے لئے دونوں طرح کی اسٹڈی کی کہ ان کو نکال باہر کرنے پر کتنا خرچہ ہے اور ان کو لیگیلائز کرنے پر کتنا ٹیکس ملے گا۔ اسی طرح امریکہ میں دوگنا فائدہ متوقع ہے۔ پہلے تو فیکٹریز کو کوئی نقصان نہیں ہوگا جیسے اسی پکڑ دھکڑ سے فیکٹریوں کی پروڈکشن متاثر ہوتی ہے اس کے علاوہ ان کروڑوں لوگوں سے ٹیکس ملے گا۔ لہذا ملکی مفاد میں یہ بہتر ہے۔

اب کنزرویٹو کی مخالفت؟ امریکی پاپولیشن سینسر بورڈ (یہ فلموں والا بورڈ نہیں بلکہ سینس یعنی محسوس یا عقل و دانش قسم کا بورڈ ہے :P ) نے کہا کہ امریکی پاپولیشن تو اکتوبر میں 300 ملین ہو گئی ہے لیکن اب پہلی دفعہ گورے اور نان گورے یعنی white اور non white کے درمیان ratio 2:1 ہو گئی ہے یعنی ہر دو گوروں کے مقابلے میں ایک دوسری نسل کا بندہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ دوسری تمام قوموں میں برتھ ریٹ گوروں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ لہذا mitt romeny نے کنزرویٹوز کے ایک delegation میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی غلطی پر چھوٹ دینا صیح نہیں۔ اور یہ ڈیل تو سراسر amnesty ہے۔ جس کو شرکا نے بہت سراہا۔ میرے خیال سے یہ ڈیل اتنی پرکشش نہیں میں اس کے 7 سال کے انتظار کی حمایت تو کرتا ہوں کہ بہرحال جو لوگ قانونی تقاضے پورے کر کے لائن میں لگے ہوئے ہیں ان کا حق پہلے ہے لیکن واپسی اور گیسٹ ورکزر جیسے پروگرام میرے خیال سے قابل عمل نہیں گیسٹ ورزکرز یہاں شادی کر لیں گے جو ایک دلچسپ ٹاپک ہے اس پر پھر کبھی صیح۔

Popularity: 9% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Posted in امریکہ نامہ.

214 views

0 Responses

Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.



Some HTML is OK

or, reply to this post via trackback.

CommentLuv Enabled