امریکی ایمبیسی کی طرف سے یاد دہانی کے آخری خط کو آئے دو ماہ گزر گئے۔ اس دوران غور و فکر ہوتا رہا۔ ابو کی طرف سے غور اور باقی سارے خاندان کی طرف سے فکر :P ۔ ماموں باہر سے ہر ہفتے فون کر کے پوچھتے رہے۔ چچا بھی سبھی ابو کو کہہ رہے تھے۔ ابو کبھی کاپی پینسل پر عمر کا حساب لگائیں۔ پھر کہیں اچھا دیکھتے ہیں۔

آخر مئی 2005 کے درمیان میں ایک دن دفتر سے چھٹی کر کے پاسپورٹ آفس گئے۔ میں نے جانے سے پہلے پوچھا کہ سب چیزیں لے لیں؟ کہتے ہاں۔ میں نے کہا ابھی فوٹو کاپی کروا لیں۔ فرمایا وہاں بہت دکانیں ہیں۔ میں نے کہا سب اوریجنل ساتھ رکھ لیں۔ کہا گیا نہیں وہاں بہت رش ہوتا ہے گم ہو سکتی ہیں کوئی ضرورت نہیں۔ (اس وقت پاسپورٹ آفس ریلوے اسٹیشن کی طرف کہیں پر تھا اور سارے لاہور کے لئے وہی تھا۔ بعد میں شائد اگست میں ایک اور پاسپورٹ آفس برکت مارکیٹ گارڈن ٹاؤن میں مکمل ہو کر کھولا گیا)

11 بجے کے قریب فون کر دیا کہ اوریجنل آئی ڈی کارڈ گھر پڑے ہیں وہ فوٹو کاپی کروا کر لے آؤ۔ :P پوچھا ان فوٹو کاپی دکانوں کا کیا ہوا؟ جواب میں فون بند ہو گیا :P خیر چچا نے اپنی فیملی کے بھی پاسپورٹ بنوانے تھے لہذا وہ بھی اپنی چیزیں لے آئے اور ہم پاسپورٹ آفس پہنچے۔ اس سے پہلے ہم فوٹو کاپی کروا آئے تھے۔ ہمارے گھر کے اطراف کا حال تھا کہ residential area درمیان میں تھا اور اس کے اطراف میں 3 طرف مارکیٹس تھیں اب اگر آپ کا کام ایک طرف نہیں بنا تو اس کے بالکل مخالف دوسری سمت جانا پڑتا تھا۔ شکر اس دن پہلی طرف ہی کام بن گیا۔ ورنہ اکثر دونوں طرف کے چکر لگنا لازمی ہوتا تھا۔

پاسپورٹ آفس (ایبٹ روڈ والے) پر جب بھی جائیں ایسا لگتا ہے جیسے سارا پاکستان باہر جا رہا ہے (میں بھی انہیں میں شامل تھا :P ) دودھیال میں اکثر لوگوں کا یقین ہے کہ باہر جانے تمام مسائل کا حل ہے۔ لہذا ہم بچپن سے ہی اکثر شوق کے مارے چکر لگاتے رہتے تھے سب سمجھاتے تھے کچھ نہیں ہے وہاں گاڑی میں بیٹھنا پڑے گا لیکن ہم ہر دفعہ نہیں تو ہر دوسری دفعہ ضرور پہنچ جاتے تھے۔

اس چھوٹی سی جگہ پر بد انتظامی جو ہماری قوم کا خاصہ ہے بخوبی اندازہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں پر تین مختلف آفسز ایک ساتھ قائم کر دئے گئے تھے۔ ایک تو پاسپورٹ آفس تھا ایک فلم اسٹار “نادرہ” کا :P معاف کریں نادرا یعنی بالغوں کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والی فرم اور تیسرے آفس کا نام بھول گیا۔ یہ پیچھے کر کے تھا شائد واپڈا کا۔

اس چھوٹی سی جگہ پر سب سے زیادہ مزہ تب آیا کرتا تھا جب آپ ایسی مخلوقات بھی دیکھ لیتے تھے جو عالیشان گھروں میں رہتی ہیں اور اے سی کے بغیر کہیں نہیں رہ سکتی۔ لہذا یہ اس بھیڑ میں اپنی گاڑی ہارن بجا بجا کر اندر لے آتی تھیں۔ ایسے لوگوں پر حیرانی ہوتی تھی کہ دو قدم نہیں چل سکتے۔ یہاں کینٹین والے کی خوب موج ہوا کرتی تھی اور دوگنے منافع پر چیزیں بیچ بیچ کر اس کا تو پاکستان امریکہ بنا ہوا تھا۔ جو بوتل باہر 9 روپے کی تھی وہ 14 روپے کی بیچ رہا تھا۔

پاسپورٹ آفس میں پہلے خواتین اور مردوں کی ایک ہی لائن ہوتی تھی۔ ایسے میں خواتین کے احتصال کے مناظر بخوبی دیکھائی دیتے تھے۔ لہذا اکثر اس جگہ پر کسی نہ کسی کو اجتماعی پھینٹی پڑ جاتی تھی۔ اس سال سے انہوں نے ان کی الگ الگ لائین بنا دی۔ نتیجتا اللہ کے بندے اپنی خواتین کو بلوں کی ادائیگی کی طرح پاسپورٹ کے حصول کے لئے لانے پر غور و فکر کرنے لگے۔ ہم چونکہ پینڈوں لہذا ہم خود ہی لائن میں لگنے کے لئے گھر سے صیح سات بجے نکل پر وہاں پہنچ جاتے تھے کہ اس زمانے میں قائدہ یہی تھا۔ جبکہ پاسپورٹ آفس نو بجے کھلا کرتا تھا۔ وہاں ابا جان نے ہم سے ہمارا موبائل مانگ لیا ہم نے پوچھا کیوں؟ فرمایا گیا کہ ان کا بیلنس ختم ہو گیا تھا۔

اب دو پاسپورٹ آفس ہیں۔ (گارڈن ٹاؤن والا لاہور کے بڑے حصے کو کور کرتا ہے جبکہ ایبٹ روڈ والا لاہور سے باہر رہنے والوں کے لئے مختص کر دیا گیا ہے) گارڈن ٹاؤن والا کافی جدید ہے لیکن پھر بھی ایبٹ روڈ جانا پڑے تو خاص طور پر اور گارڈن ٹاؤن جا رہے ہوں تو عام طور پر پانی کی بوتل اور کافی ساری کھلی ریز گاری ساتھ لے جائیں۔ کیونکہ فوٹو اسٹیٹ، بینک، کینٹین سبھی جگہوں پر گرمی اور کام کی وجہ سے لوگ اکتائے ہوئے اور آپ کو بےوقوف سمجھ کر لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ضروری نہیں کہ فوٹو کاپی والا 10 روپے میں سے پانچ واپس کرے اور اس وقت جلدی میں آپ پرواہ نہ بھی کر سکتے ہیں۔ مجھے جاتے ہی گرمی کے مارے ابو کا حال دیکھ کر پانی لانے بھاگنا پڑا تھا۔ وہاں عام طور پر آپ کسی کو کہہ کر جا سکتے ہیں کہ یار میں ذرا پانی لے کر آیا لیکن عموما کوئی نیا آنے والا جس کو نہیں علم ہوتا اور اتنا رش دیکھ کر اور وقت کم پڑتا دیکھ کر کہ اتنے بجے درخواستیں وصول ہونا بند ہو جائیں گیں بول پڑتے ہیں لہذا تلخ کلامی سے احتیاط بہتر۔

پاسپورٹ آفس میں قائدہ یہ ہے کہ وہاں پہلے ڈھائی تین بجے تک درخواستیں وصول ہوتی ہیں اور عین وقت پورا ہونے پر کھڑکیاں بند کر دی جاتی ہیں۔ پہلے یہاں آپکا کام پورا ہو جاتا تھا اب آپ گھر جائیں اور وقت پر جا کر اپنا پاسپورٹ وصول کر لیں۔ اب پاکستان کو ہوش آیا کہ لوگوں کی رجسٹریشن بہت ضروری ہے جس کا عام تاثر ہے کہ یہ سب امریکہ کے اشارے اور فنڈز پر ہوا ہے۔ ہم لوگوں کو کافی معاملوں میں امریکہ کا قصور نظر آتا ہے لیکن میرے خیال سے یہ ایک انتہای بہترین قدم تھا۔ اس سے بھیڑ اور رش کو آرگنائز کرنے اور فراڈ میں کمی بینکنگ سیکٹر اس طرز پر قائم کرنے میں مدد ملے گی جیسا یہاں پر قائم ہے۔ یہاں موٹر وے پولیس کے ایک اہلکار کسی میجر صاحب کے نوکر بنے ہوئے تھے۔ یہ میجر صاحب صدر مشرف کی طرف سے موٹر وے پولیس کو تحفہ تھے۔ ان اہلکار نے لائن کی پرواہ کئے بغیر جا کر کھڑکی پر اپنا تعارف کروایا اور میجر صاحب کا پیغام دے کر درخواست وصول کرنے کا کہا۔ اندر بیٹھا بندہ شائد گرمی سے بے حال تھا یا پھر میری طرح الٹے دماغ کا تھا۔ اس کو کہتا جا کر لائن میں لگیں۔ اس اہلکار نے پھر کہا تو کہتا دیکھو اگر میں موٹر وے پر غلطی کروں تو تم کیا چالان نہیں کرو گے؟ کرو گے نہ تو مجھے بھی میری ڈیوٹی کرنے دو۔ کاش ایسے کچھ اور بندے اور پیدا ہو جائیں۔

اس کے بعد ایک بڑے ہال پر آپ کا بایو ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے لئے بھی اچھی اپروچ استعمال کی گئی ہے جو کہ پہلے نادرا کے آفس میں استعمال کی گئی تھی۔ اس وقت کچھ کچھ الیکٹرونکس خراب ہو چکی تھیں اب تو کافی کچھ خراب ہو چکا ہو گا یا شائد ساتھ ساتھ ٹھیک ہوتا رہا ہو۔ اس ہال (یا حال :p) میں جانے کے لئے آپ جب اپنی درخواست جمع کراتے ہیں تو آپ کو نمبر الاٹ کر دیا جاتا ہے۔ اس پرچی کو دیکھا کر اندر حبس بھرے ہال میں بے حال ہوں نمبر آنے پر آپ جا کر الیکٹرونک فارم میں اپنی معلومات کا اندراج کرائیں۔ الیکٹرونک دور میں signatures ختم اور واپس انگوٹھے چھاپنے کا دور آ گیا ہے :P ۔ یہاں انگوٹھے کا نشان دیں۔ اس کے بعد آگے تین اور جگہیں ہیں جہاں آپ کا فوٹو سیشن ہوتا ہے :p یہاں پر بھی نمبر آنے پر جائیں اور ایک عدد تصویر دے دیں۔ اس کے بعد اگلے ہال میں جا کر دوبارہ نمبر آنے کا انتظار کریں یہاں اپنے اصل ڈاکیومنٹس دیکھا کر تصدیق کروائیں اور فارم سبمٹ کر دیں۔

یہ سارا کام بہت جلد ہوتا ہے۔ اگر رش کو دیکھیں تو تو بہت جلدی ہو جاتا ہے۔ اتنے رش میں کسی وجہ سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا نمبر تین دفعہ کال ہو کر لسٹ سے نکل جاتا ہے۔ جیسے میرا نمبر باقی فیملی سے پیچھے تھا۔ میرے ساتھ میری چھوٹی سی کزن تھی۔ اس کی ٹوئن چاچو کے پاس تھی اور یہ میرے پاس۔ میں باقی سب کو ڈھونڈ رہا تھا لہذا اس کا نمبر نکل گیا۔ ایسے میں گھبرانے یا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں سرور روم ڈھونڈنا شروع کر دیں۔ ناک کر کے اندر داخل ہو جائیں اور پرچی دیکھا  کر ریکویسٹ کر دیں کہ یہ نمبر کال کر دیں۔ احتیاطا بتا دیں کہ کس جگہ پر کال کریں جیسے بایو ڈیٹا پر یا تصویر پر یا تصدیق پر۔ تھوڑی دیر میں نمبر کال ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ 15 دن کے لئے فارغ ہیں۔ receipt کے ساتھ ایک موبائل نمبر دے دیا جاتا ہے کہ 15 دن کے بعد آنے سے پہلے فون کر کے معلوم کر لیں۔ ویسے مجھے یہ قدم پسند آیا تھا کہ بلوں پر لوگوں کے موبائل نمبر لکھ دئے گئے تھے۔ کیونکہ عام طور طور پر بجلی والے فون کریڈل سے اتار کر کہتے تھے کہ بزی اس لئے ہے کہ بہت فون آ رہے تھے اب موبائل ایسے کرنے سے رہے۔ لہذا اس سال لیسکو کو فون نہ لگ رہا ہو تو بل پر موبائل نمبر ڈھونڈیں :P

Popularity: 9% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 9% [?]

211 views

 

 

Related Posts

  • Imagine On June 28, 2007, 8 Comments
  • چھوٹے بچے جتنے imaginary ہوتے ہیں شائد ہی اتنا کوئی ہو۔ ان کی تخیل کی اڑان بہت اونچی اور ان کی سوچ اس قدر دور کی ہوتی ہے کہ بڑے عام طور پر سوائے ہنسنے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ اور چونکہ وہ بڑے ہوتے ہیں لہذا ان کا خیال ہوتا ہے کہ بچے بےوقوف
  • The Male Brain, Explained On August 20, 2008, 0 Comments
  • یہ ایک بڑے مزے کا آرٹیکل ہے۔ چونکہ ماشاللہ سب بہت ignorant ہیں اور لنک کرنے پر پڑھیں گے نہیں لہذا میں نے اس کو دلچسپ کرنے کی خاطر اپنے کمنٹس ساتھ دے دئیے ہیں۔ پڑھیئے اور سر دھنئے، پر اپنا، میرا نہیں۔ Women have puzzled over it for years—why the
  • میری نظر میں On November 10, 2007, 3 Comments
  • صدر؟ مملکت پاکستان جناب؟ جنرل؟ پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے بعد قوم؟ سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کی اکثریت کو سمجھ نہیں لگ سکی۔ اس میں صدر کا قصور نہیں۔ اکثریت کو اردو نہیں آتی۔ آئیے میں کوشش کرتا ہوں مجھے جیسے صدر کے خطاب کی سمجھ لگی ویسے آپ کو بھی سمجھانے کی کوشش
  • gps now On October 29, 2007, 2 Comments
  • I wrote about gps a while ago and now finally I am ready to buy one but I am a bit confuse what to chose n what not to. We are sorted down to garmin now but the question remains which one, I mean which model? I am not that multimedia so mp3 player, FM transmitter,
  • سن تو سہی On January 7, 2008, 0 Comments
  • خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اور کچھ دیا نہ دیا ایک ٹیپو سلطان ضرور دے دیا۔ ٹیپو سلطان کا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ غداروں کا قلع قمع تو نہ کر سکا لیکن غداروں کو اپنا ایک قول دے گیا۔ اگر ٹیپو نہ ہوتا تو ہمارے سارے مرنے والے لیڈران اور چمچان
  • welcome vista On February 14, 2007, 0 Comments
  • Windows Vista, a long awaited version of windows was finally out for rtm in late december and for general public on 31st january. I have always been a windows fan and appriciate microsoft’s work (no doubt i am strongly agaisnt their pricing monopoly). I had windows 98 on my pc ever since 2001 when I purchased


0 Responses to “پاسپورٹ آفس”

  1. No Comments

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • بدتمیز: گندم کی اسٹوریج کا مسئلہ؟
    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2860
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (659) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 368124

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->