خدا کیا ہے؟

خدا کیا ہے؟ یہ ایک بڑے مزے کا سوال ہے جس کو میں ہر شخص سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس کے نزدیک خدا کیا ہے؟ ضروری نہیں کہ آپ مجھے خدا ایک نور ہے کا تڑکہ لگا دیں اس سے آپ کی نا اہلی ظاہر ہو گی۔ اگر آپ کہیں کہ خدا کے بارے میں کچھ سوچنے پر علما نے منع فرمایا ہے تو میں آپ کی طرف ایسے دیکھونگا جیسے آپ کے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔ کہیں کہیں مجھے لگتا ہے کہ اس اسٹیٹمنٹ نے مسلمانوں کو اٹھا کر اتنا پیچھے دھکیل دیا کہ وہ پتھر کے دور میں جی رہا ہے۔

خدا کیا ہو گا؟ یہ کچھ کچھ سوال مرنے کے بعد کیا ہوگا جیسا ہے۔ لیکن مجھے فضول باتیں سوچنے کا بڑا شوق ہے لہذا الٹی سوچوں پر معذرت قبول کریں اور بتائیں کہ آپ کے نزدیک خدا کیا ہے؟ (خدا کے لئے کوئی یہ مت لکھ دے کہ اللہ کو خدا لکھنا صیح نہیں)

مسلمانوں کا خدا ایک ایسی ہستی کا ہے جس کے ذمے فرائض تو بہت ہیں لیکن حق دو چار بھی نہیں۔ چاچے کی بیٹی سے شادی نہیں ہوئی تو خدا کا قصور۔ مامے نے نوکری پر نہیں رکھا تو خدا کا قصور۔ گھر میں پڑی تلوار کو زنگ لگ گیا اور رات کو کوئی سپر سانک طیارہ بم برسا گیا تو خدا کا قصور کہ تلوار کو زنگ سے محفوظ کیوں نہیں رکھا۔ امی کو شوگر ہو گئی یا ابا جان ہارٹ پیشنٹ ہو گئے تو بھی خدا کا قصور۔ یہ بیچ کی بات ہے کہ آپ کے خیالات و حرکات ابا جان کو کارڈیالوجی کی سیر کروا لائے۔

مسلمان مجھے بنی اسرائیل کی طرح کے لگتے ہیں جو کہتے ہیں اے خدا تو نے یہ نہیں کیا تو وہ نہیں کیا۔ آفرین ہے بنی اسرائیل پر کہ اس ایک غلطی کے بعد آج تک کوئی غلطی نہیں کی۔ اس کے الٹ مسلمان ہر چیز کا الزام خدا پر دھر کر چپ کر جاتے ہیں۔

میں نے کچھ عرصہ پہلے خدا سے شکوہ کیا تھا۔ یہ بھی اسی قسم کی بات تھی اسی رات خدا نے ایک سوال پوچھا وہ دن اور آج کا دن خدا سے منہ چھپاتا پھرتا ہوں اس نے پوچھا بتا کیا اس رات ایک مرد بھی ایسا تھا جو اس شادی قافلے میں شریک تھا اور زندہ ہے؟ اگر زندہ ہے تو مجھ سے کیسا شکوہ؟ اگر وہ سب مر جاتے تو مجھ سے پوچھتا کہ اے خدا تو کہاں تھا؟ اب چپ کر۔

میں چاہتا ہوں کہ مسلمان اب انتہا پسندی کی ہر دو قسموں سے نکل کر اعتدال پسندی کی طرف مائل ہوں۔ دین کی تشریح ضروری نہیں کوئی ایسا شخص ہی کرے جس کے نام کے ساتھ بڑے بڑے سمجھ نہ آنے والے جھانوی مولانا شیخ پیر سید وغیرہ لگے ہوں۔ ان کی تشریح آپ اپنی عقل سے بھی کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کی تشریح سو فیصد درست ہو لیکن اگر آپ اس کو مختلف علما سے پوچھ پوچھ کر اپڈیٹ کرتے رہیں تو بہتر ہے۔

کیا آپ کو پکا یقین ہے کہ مرنے کے بعد یہی سوالات ہونگے کہ نمازیں کتنی پڑھیں؟ قرآن کتنے ختم کئے؟ میرے خیال سے یہ ایک مثال تھی کہ اے بندوں تم سے پوچھا جائے گا کہ زندگی کیسی گزاری اب نماز اور قران پر زور ہے عمل نہیں۔ جو نہ پڑھے اس کو حقارت سے دیکھیں کہ لو یہ کیا جنتی ہو گا؟ چاہے آپ کے مقابلے میں گناہ کرتا ہی نہ ہو اور آپ نے نماز قران کے لبادے پہن کر گناہ کرنے کا لائسنس حاصل کر لیا ہو۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ مسلمانوں کا کیا حال ہو گا کہ ان سے پوچھا جائے کہ تم اعلی تعلیم حاصل کر سکتے تھے کیوں نہ کی؟ تم فلاں چیز ایجاد کر سکتے تھے کیوں نہ کی؟ تمہارے پاس مواقع تھے اور دولت بھی پھر بھی؟ اگر اس قافلے میں شریک مردوں سے سوال ہو گیا کہ بتا تو ایسے وقت مر کیوں نہیں گیا؟ تو پھر؟ ایسے میں بندہ بحث تو کرنے سے رہے کہ اے اللہ نماز اور قران کے سوال کا وعدہ تھا یہ تو پرچہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔

چلیں واپس خدا پر آتے ہیں۔ کہ خدا کیا ہے؟ ضروری نہیں آپ کوئی عالمانہ بیان دے کر متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ آپ بتائیں کہ خدا کے بارے میں آپ کا نظرئیہ کیا ہے؟ آپ نے خدا کو ہمیشہ ایسے ہی جانا یا سمجھا یا آپ نے خدا کو نئے سرے سے جاننے کی کوشش کی اور اس کو پہلے سے مختلف پایا اور کیا کبھی دل نے دھڑک کر خدا کی وحدانیت کا کلمہ پڑھا؟

اب سوال کہ یہ دل کی گواہی کیسی ہوتی ہے؟ باقیوں کو تجربہ ہو نہ ہو مجھے تین چار دفعہ ہوا ہے۔ ابھی حالئہ اسی ہفتہ ہوا ہے تو میں نے سوچا لوگوں سے بھی پوچھوں کہ ان کے ساتھ کبھی ایسا ہوا کہ نہیں؟

مسلمان عام طور پر مسلمان اس لئے ہوتے ہیں کہ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتے ہیں اور ساری زندگی وہیں گزار دیتے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ کوئی مسلمان کسی دوسرے معاشرے میں جا کر بھی مسلمان رہے۔ میں ایک فورم کا بہت شکر گزار ہوں کہ اس کی بدولت اشفاق احمد کی کسی بات نے میرے ایک سوال کا جواب دیا کہ مسلمان اور مومن میں کیا فرق ہوتا ہے۔ کہ مسلمان رب کو ماتا ہے اور مومن رب کی مانتا ہے۔

دل کی گواہی وہ ہوتی ہے جب ایک دم اچانک دل کہتا ہے کہ واقعی خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔ میرے ساتھ پہلا تجربہ 2003 میں ہوا میں جب پہلی دفعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جانے کے لئے بس کی سب سے پچھلی row میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا تو شہر سے باہر نکل کر کیکر کے درختوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہاں ان درختوں کو اور صحرا کو دیکھ کر پانی کی کمیابی اور پھر ان درختوں کا نظام بیان نہیں کر سکتا لیکن دل نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ پہلا تجربہ تھا۔

دوسری دفعہ کا یاد نہیں آ رہا کل تک تو یاد تھا لیکن کل تیسرا واقعہ یاد نہیں تھا :P تیسرا تھا جب سائنس میوزیم میں ماں کے پیٹ میں انسان کے مختلف مراحل دیکھے اس کے کافی دنوں بعد وہ سب یاد آیا ساتھ میں قران کی ایک آیت اور بس پھر گواہی دے دی گئی۔ اس کے بعد چوتھا واقعہ ہے honey bees کا جی ہاں یہ ایک ننھی سی مخلوق اس نے امریکہ اور یورپ کے کچھ حصے میں آفت مچا دی ہے۔ اس پر کل پرسوں یاد رہا تو لکھونگا :P

اب لوگوں سے پوچھ رہا ہوں تو خود بھی بتا دوں کہ خدا میرے لئے کیا تھا یا کیا ہے؟ ٹین ایج سے پہلے مجھے صرف اتنا پتہ تھا کہ خدا ایک غضب ناک شخص ہے جو غصہ بھی ہوتا ہے اور خوش بھی۔ ٹین ایج میں خدا کو سمجھنا شروع کیا۔ اس کی پہلے سے موجود ڈیفینیشن کافی نہ تھیں لہذا میں نے ادھر ادھر سے اس کو تلاش کرنا شروع کیا۔ اب خدا میرے نزدیک کیسا ہے یہ صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کی عمر 60 70 سال ہو اور وہ اپنے بچوں کے بچوں کو گود میں لے کر بیٹھا ہو۔ بس اس وقت جتنا پیار اس شخص کو اس بچے سے ہوتا ہے خدا ویسا ہے۔

ویسے خدا کا سب سے پسندیدہ روپ میرے لئے ایک سفید بھالو جیسا تھا۔ جی ہاں ایک سفید بھالو جس کے ہاتھ پاؤں یا چہرہ مجھے کبھی نظر نہیں آیا لیکن اس کے بڑے سے وجود سے چپک کر اپنے دل کی ساری باتیں کہنا اور اس کی سفید فر میں اپنے آنسو بھگونا۔ ایسے وقت جو جو مانگا ہمیشہ ملا۔ اپنے خدا کو جاننے کی کوشش کریں۔ خدا وہ نہیں جو آپ سن کر سمجھتے ہیں خدا وہ ہے جو آپ اس کو محسوس کر کے بنا دیتے ہیں۔

Popularity: 10% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 10% [?]

375 views

 

 

Related Posts

  • عشق دی مستی On January 15, 2008, 3 Comments
  • ریٹڈ آر اپنی ذمہ داری پر پڑھیںآجکل مجھے مستی چڑھی ہوئی ہے۔ ایک خاتون نے تو باقاعدہ میری بلائیں لیں کہ بچہ بڑا خوش لگ رہا ہے۔ البتہ امی نے ناک بھوں چڑھائی کہ آجکل میری مستی سے سب سے زیادہ تنگ وہیں ہیں۔ آجکل پر ہی کیا موقوف ہمیشہ سے تنگ ہیں۔ ایک افریقن
  • "Lips Of An Angel" On December 23, 2006, 0 Comments
  • Honey why you calling me so late? It’s kinda hard to talk right now. Honey why are you crying? Is everything okay? I gotta whisper ’cause I can’t be too loud Well, my girl’s in the next room Sometimes I wish she was you I guess we never really moved on It’s really good to hear your voice say my


11 Responses to “خدا کیا ہے؟”

  1. 1 اجمل

    جواب انشاء اللہ کل میرے بلاگ پر آپ کو ملے گا ۔
    اور ہاں میں اسلئے مسلمان ہوں کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا اوراس لئے مسلمان رہا کہ میں نے بہت چھوٹی عمر میں اللہ کی قدرت کا نظارہ کیا ۔

  2. 2 ابو حلیمہ

    السلام علیکم
    با تمیز بھأی، آپ نے تو خدا کو اپنے تخیل کا ایک کیریکٹر ہی بنا دیا ہے۔ جو باتیں آپ نے لکھی ہیں وہ سننے میں کؤی نٔی نہیں ہیں۔ یہاں شمالی امریکہ میں زیادہ تر عیسأی لوگ جو اپنے دین کا علم زیادہ نہیں رکھتے پر دین پر مہارت کی مہر لگانا چاہتے ہیں وہ اسی طرح خدا کی اپنے حساب سے تعریف کرتے رہتے ہیں۔
    اسلام میں خدا ہمارے تخیل پر نہیں بلکہ سنت و حدیث اور قرآن سے جانچا جاتا ہے۔ ہر انسان میں کؤی نہ کؤی روحانی کیفیت ہوتی پر یہ روحانی کیفیت ہی خدا نہیں ہوتی ہاں اس کیفیت کے توفیق خدا تک پہنچا جا سکتا ہے بشرطیکہ کیفیت کے ساتھ ساتھ انسان ان احکام پر بھی عمل کرے جو خدا نے انسان کے لیے ضروری قرار دیے ہیں۔مثلاً انسان اگر سارا دن تسبیح کرتا رہے لیکن نماز نہ پڑھے، تو اس کو خدا کا قرب کیونکر نصیب ہو گا۔
    جس طرح آپ ڈاکٹروں سے پوچھ پوچھ کر اپنے مرض کا علاج خود نہیں کر سکتے اسی طرح آپ کسی عالم فاضل کی مدد کے بغیر دین کی باریکیاں بھی نہیں سیکھ سکتے۔ آپ کو کچھ عرصہ امریکہ میں ہو گیا ہے اور آپ نے اپنے طرح طرح کے مشاہدات کا ذکر اپنے بلاگ پر کیا۔ ایک چیز جو آپ نے یہاں کے لوگوں میں دیکھی ہو وہ یہ ہے کہ یہ لوگ کؤی بھی کام کرنے کا ڈھنگ پہلے صحیح طریقے سے سیکھ لیتے ہیں اور پھر بعد میں اپنے تجربے کرتے ہیں جیسا کہ اگر نیا کیمرہ خریدا تو اس کا مینؤل پڑھتے ہیں اور پھر تجربہ کرتے ہیں۔ ہم لوگ بغیر کتابچہ پڑھے اس کیمرے کے ساتھ تجربہ شروع کر دیتے ہیں جس سے وقت کا ضیاع تو ہوتا ہی ہے، اس کے علاوہ معلومات بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔ میں نے یہ مثال اسی لیے دی ہے کہ آپ کا بھی یہی تجربہ رہا ہے۔ بس بات یہ ہے کے کسی بھی کام کے لیے اس کا سیکھنا ہی شرط نہیں بلکھ اس کا صحیح سیکھنا شرط ہے۔

    آپ نے اشفاق احمد کا ذکر کیا کہ انہوں نے مسلم اور مومن کی تعریف کیسے کی۔ اگر آپ حدیث کی کتاب دیکھیں تو آپ کو کسی اور کی نہیں بلکہ حضور صلعم کی اپنی تشریح اس معاملے میں ملے گی۔

    اگر آپ واقعی دیانت داری کے ساتھ دین کو سیکھیں اور صحیح سیکھیں (جس کی لیے میرے حساب سے استاد کی ضرورت لازمی ہے) تو اللہ تعلی آپ کو وہ فہم و فراست ضرور دے گا جس سے آپ اس کے دین کی تشریح کر سکیں۔ لیکن اگر آپ نے کیمرے کی طرح قرآن و حدیث کی کتابوں کو پھولنا شروع کر دیا تو پھر آپ یہ توقع نہ رکھیں کہ آپ دین کی تشریح بھی کر پأیں گے اور جو آدھ پون شرح جو آپ نے دین کی اپنے مزاج کیمطابق کی ہو گی اس کو دوسروں کو سکھانے کا تو سوچیں بھی مت۔ وہ کسی کا بھلا تو شاید نہ کرے لیکن گمراہ ضرور کرے گی۔ پھر آپ اللہ کے حضور یہ جوابات تو بعد میں دیں گے کی نمازیں کتنی ہیں اور ختم کتنے کیے ، پہلے آپ کو یہ جواب دینا پڑے گا کہ فلاں کو گمراہ کیوں کیا۔
    میری بات شاید آپ کو پسند نہ آ رہی ہو لیکن ایک بھأی کی حیثیت سے میں بتانا فرض سمجھتا ہوں کہ ہمیں اللہ تعلی سےاستغفار کرتے رہنا چاہیے اور ڈرتے رہنا چاہیے( ایمان بین الخوف والرجا) کیونکہ کیٔی دفعہ ہمارے خیالات میں وسوسوں کی ملادٹ ہو جاتی ہے اور ہم جو کچھ سوچ رہے ہوتے ہیں وہ اس زندگی کے گنجل کو سلجھانے کی بجأے اور الجھا دیتے ہیں۔ ہمیں اللہ تعلی سے یہ امید بھی ہر طور رکھنی چاہیے کہ وہ ہمیں اس کی قدرت سمجھنے اور اپنا ایمان مضبوط رکھنے کی توفیق دے۔

  3. 3 زکریا

    شاید پاسکل بوئر یا سکاٹ اٹران آپ کو بتا سکیں اس بارے میں مگر کرسٹوفر ھچنز سے نہ پوچھنا۔ :-P

  4. 4 اجمل

    روزِ محشر اللہ تعالٰی کیا پوچھیں گے ۔ یہ میں بتا نا بھول گیا تھا ۔ اس کا مختصر ذکر حدیث شریف میں موجود ہے ۔ میں دوبارہ مطالع کر کے انشاء اللہ جلد اس کے متعلق بھی کچھ بتانے کی کوشش کروں گا ۔

    ابو حلیہ صاحب کی بات سے مجھے یاد آیا کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے عملی انجنیئر بنایا لیکن میں نے ترکیب استعمال پڑھے بغیر کبھی کسی مشین وغیرہ کو ہاتھ نہیں لگایا ۔ ایک دفعہ ایک پڑھے لکھے صاحب نے ان کی کوئی چیز ٹھیک کرنے کا کہا ۔ میں نے ترکیب استعمال کی کتاب اور سرکٹ ڈایاگرام مانگا تو کہنے لگے تم کیسے انجنیئر ہو ؟ میں نے ان سے کہا کہ اگر میں انجنیئر نہ ہوتا تو یہ مطالبہ نہ کرتا ۔

  5. 5 Rashid Kamran

    غالب گمان يہي ہے كہ اس معاملے ميں “يوريكا” كا نعرہ شايد ابھي تك لگا ہي نہيں۔۔ كن سے پہلے اور فيكون كے بعد تو ہم ہيں ہي نہيں تو لا محدود كا احاطہ كيونكر ممكن ہو۔ محدود عقل كے ليے ميرا خيال ہے صورہ اخلاص ہئتي اور سورہ رحمان جمالياتي رخ پيش كرتي ہے اور شايد خدا بھي يہي چاہتا ہے كہ ابھي كے ليے بس اتنا ہي۔۔ ورنہ آدمي يہي كہے كہ
    خدا ايسے احساس كا نام ہے
    رہے سامنے اور دكھائي نہ دے

  6. 6 بدتمیز

    اسلام علیکم

    اجمل انکل: بہت شکریہ۔ ٓآپ کے بلاگ پر میرا تنبصرہ شائع نہیں ہوتا۔

    ابو حلیمہ: میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں لیکن میری یہ کوشش اس لئے نہیں تھی کہ میں دین پر مہارت کا ثبوت دوں۔ جن چیزوں کو اللہ نے چھپا رکھا ہے میں ان کو سامنے لا کر مزید اپنے لئے عذاب کیوں بڑھاؤ؟
    ہاہا یقینن یہ میری خامی ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ ایک بات ہر جگہ پر لاگو نہیں ہوتا۔ ضروری نہیں کہ میں اگر کیمرہ یا ریموٹ ایسے سیکھا ہوں تو دین بھی ایسے ہی سیکھا ہونگا۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ مین نے دین پر کافی کتب پڑھ رکھیں ہیں؟
    مجموعی طور پر مجھے آپکا انداز پسند آیا میں چاہونگا کہ آپ میری فضولیات کی نشاندہی کرتے رہیں۔ میں بنیادی طور پر ایک کمزور انسان ہوں اور اکثر غلطیاں کرتا رہتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ اپنے خیالات فقہ اور شریعت سے برتر سمجھ کر پیش کروں چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو میرے نزدیک ہر مذہب کے نظریات و احکامت میرے نظریات سے بلند ہیں۔

    زکریا: اتنے مشکل مشکل نام اب مجھے یاد کیسے ہونگے؟ ویسے اپنا نہیں بتایا اور ٹیگ میں نے اس لئے نہیں کیا تھا کہ کچھ لوگ اپنے مذہبی نظریات شئیر کرنے سے شرماتے ہیں لہذا زبردستی نہ کروں لیکن آپ تو کچھ لکھتے۔

    راشد کامران: میرے خیال سے یوریکا کا نعرہ بہت سے لوگ لگا چکے۔ چاہے یہ انا الحق کی صورت ہو یا پھر اجمیر شریف کی سرزمین پر۔ ہمارے معاشرے میں ایسے نعرے لگنے بند ہو چکے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کم از کم ایک ایسے شخص سے ضرور ملوں جو اللہ کا نیا روپ مجھے دکھا سکے۔ دوسری طرف میری کوشش ہے کہ میں عام مسلمان کو اللہ کی صیح طاقت اور قدرت پر غور کرنے کی دعوت دوں ہم نے اللہ کو بالکل بھی اس کا صیھ مقام نہیں دے رکھا۔ بلکہ عہدوں کی لسٹ میں خدا کا رتبہ سب سے کم حیثیت کا رکھا ہے۔
    جیسے وقت پڑنے پر گدھے کو باپ بنانے کی عادت ہماری ہے ویسے مشکل پڑنے پر اللہ اللہ کرنے کی عادت ہے۔

  7. 7 زکریا

    بدتمیز: نام انگریزی میں لکھ دیتا ہوں

    Pascal Boyer
    Scott Atran
    Christopher Hitchens

    بوئر اور اٹران سائنسدان ہیں جو انسانی دماغ اور مذہب پر ریسرچ کرتے ہیں۔ بوئر کی کتاب میں نے ابھی ختم کی ہے۔ انہیں پڑھ کر انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ لوگ مذہب، خدا وغیرہ کے بارے میں کیسے اور کیا سوچتے ہیں۔ انسانی دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خدا کا ہمارا اندونی کانسیپٹ کچھ حد تک ایک طاقتور ژخص کا ہی ہوتا ہے چاہے ہمارا مذہب جتنا سکھائے کہ خدا بالکل مختلف ہے۔

    ہچنز ایک انگریز صحافی ہے اور اس نے ایتھی ازم کے حق میں اور مذہب کے خلاف کتاب لکھی ہے جس کا عنوان اللہ اکبر سے چرایا ہے۔ میں اپنے بلاگ کی سائیڈبار پر اسے اپنے پڑھے کے لئے شامل کر چکا ہوں کہ ہچنز سے اختلاف اپنی جگہ مگر ہے اچھا لکھاری۔

    باقی رہی میرے نزدیک خدا کیا ہے تو اس پر اس وقت لکھوں گا جب مجھے کچھ علم ہو گا۔ ویسے بھی اس موضوع پر لکھوا کر کیوں مجھے مروانا چاہتے ہو :-P

  8. 8 زکریا

    بوئر کی کتاب کے تجزیے کے لئے بائے دا بلاگ :-)

    اور کچھ روابط بوئر اور اٹران سے متعلق۔

  9. 9 بدتمیز

    معلومات فراہم کرنے کا شکریہ۔ جب میں بچگانہ سوچوں سے چھٹکارا حاصل کرلوگا تب ان کو ضرور پڑھونگا۔

  10. 10 زکریا

    مگر انہین بچگانہ سوچ کے ساتھ پڑھنے کا زیادہ مزہ ہے :-P

  1. 1 خدا کیا ہے ؟ کا جواب « ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ What Am I * * * * * * * * * ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کیا ہوں

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...
    • ریحان: اب اگر میرے والدین آپس میں کزنز تو میں پھر زہنی مریز کنفرم

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2859
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (658) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 382622

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->