ہم لوگ بحیثیت قوم بہت عجیب قوم ہیں۔ تھانیدار قسم کی۔ بات حوصلے سے سنیں اور اسی طرح جواب دینے کے بجائے گالم گلوچ اور ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں۔ میں عام طور پر کسی کو اتنی اہمیت دینے کا قائل نہیں کہ وہ میرے سر پر چڑھ کر بیٹھ جائے۔ نہ کسی کو اتنی پرواہ ظاہر کرواتا ہوں اگر کسی کی رائے اچھی لگے تو اس کی دل میں قدر کرتا ہوں اس کی خوش آمدی سے پرہیز کرتا ہوں اگر کسی کی بات پسند نہ آئے تو اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ کیا پتہ میرے سمجھنے میں غلطی ہو۔ نہ تو مجھے فرشی آداب آتے ہیں کہ میں کسی کے لئے بچھتا چلا جاؤں نہ مجھے ہیرو بننے کا شوق ہے کہ میں خوامخواہ لوگوں کے سر ہوتا پھروں۔
ہماری قوم میں گنواروں میں تو تھانیداروں والی عادتیں ہوتی ہی ہیں یہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ہیں۔ عام طور پر لوگ ان کو پڑھے لکھے جاہل کہتے ہیں۔ انسان کی ذہنی نشوونما کے تین مدارج ہیں پہلی تو اس کی پیدائش سے لے کر ایک سال کی عمر تک دوسری ٹین ایج اور تیسری ٹین ایج کے بعد۔ اگر دوسری طرح سے دیکھیں تو پہلی سکول دوسری بیچلرز اور تیسری ماسٹرز کے بعد۔ میرے ذاتی خیال میں ماسٹرز کے بعد انسان کے مزاج اور سوچ میں ٹھہراؤ پیدا ہوتا ہے جو اس سے پہلے نہیں ہوتا۔ دو سوالوں کے جوابات میں بہت عرصے سے تلاش کر رہا ہوں جو مجھے ابھی تک نہیں سمجھ لگے۔ ایک کہ تعلیم میں ایسی کیا چیز ہے جو انسان کو گنوار سے الگ کرتی ہے؟ دوسری وہ کیا وجہ تھی کہ مسلمانوں سے علم رخصت ہوا۔
میرے ایک انکل تھانیدار تھے۔ ان کی عادت تھی کہ گاڑی تیز چلاتے تھے۔ سڑک پر کوئی ٹھیلا وغیرہ ہوتا تو اس کو اڑا دیتے تھے۔ یعنی بریک نہیں لگانی اگلے کا نقصان کر دینا ہے۔ آخر ایک مقابلے میں کام خراب ہوا اور ان کی نوکری چلی گئی۔ اس کے بعد بھی اکڑ وہیں کی وہیں۔
ہماری عادتیں عجیب ہیں۔ کسی کے بیٹے نے کچھ کیا تو بیٹے سے ڈریں اور اس کے ابا جان کو پکڑ لیں کسی کے باپ نے کچھ کیا تو اس کے معصوم بچوں کو طعنے۔ کسی کے دور دراز رشتہ دار کو پولیس نے پکڑ لیا اور آپ نے سارے خاندان کو چور بنا دیا۔ پاکستان میں تو یہ عجیب حرکت ہے کہ بندہ مفرور ہوتا ہےاور گھر والے تھانے اور جو چھڑانے جائے اس کو بھی وہاں بٹھاتے جاتے ہیں۔
اسی طرح ہم لوگ ہوتے کچھ نہیں اور باتیں ایسی کہ بس۔ پچھلے دو سالوں سے میرے ان دو سوالوں کا ابھی تک جواب یہی سوچ پایا ہوں کہ مسلمانوں نے عالم اور بزرگ کی عزت کرنا چھوڑ دی۔ اپنی عقل کو برتر جانا اور ان کی تحقیر کی۔ بچے دیکھو انٹر کے اور جذباتیت۔ میں نے پہلے کہا کہ میں کسی کو سر چڑھانے کا قائل نہیں۔ لیکن میں عالم اور بزرگ کی تحقیر نہیں کرتا۔ کیونکہ ایک کے پاس علم ہے تو دوسرے کے پاس تجربہ۔ مجھے نئے سرے سے تجربے کرنے یا کتابوں کو گھنگھالنے کی ضرورت نہیں۔ ان سے جو پوچھو فٹ جواب ملے گا۔ میں چاہے ان سے شدید اختلاف رکھو لیکن کسی تیسرے بندے کو نہ تو ان کے خلاف کچھ کہتا ہوں نہ کچھ کرتا ہوں۔
میں بہت عرصے سے اس بارے میں لکھنا چاہ رہا تھا کم و بیش سال سے۔ لیکن اس لئے نہیں لکھتا تھا کہ کہیں کوئی یہ نہ سمجھے کی کسی کی خوش آمد کرنی ہے یا نمبر بنانے ہیں۔ یہاں ایک صاحب کی رائے سے اکثر لوگ متفق نہیں ہوتے۔ دین و ایمان کا مسئلہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے۔ اب چونکہ آپ ان صاحب سے مقابلہ نہیں کر سکتے تو آپ ان کے والد سے گستاخیاں کر لیں کیونکہ اسلام نے آپ کو اجازت دی ہوئی ہے کہ آپ اسلام کے حق میں فحش گوئی سے لے کر گالم گلوچ تک سب کر سکتے ہیں۔ اور اس پر ثواب اور حوروں کی تعداد بھی دگنی ہے۔ اس کے بعد کچھ لوگ جو ان سے کسی حد تک متاثر ہیں یا دوسرے الفاظ میں تھوڑی بہت نقل ماری کرتے ہیں وہ ان سے اختلاف رائے نہیں کر سکتے علم کی کمی کے باعث لیکن سمجھ بھی پوری نہیں آتی کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ لہذا آپ ایسے ایسے لطیفے مارتے ہیں کہ ہنس ہنس کر برا حال۔
اب چونکہ یہ صاحب کرتا دھرتا افراد میں شامل ہیں تو ان کی تھوڑی بہت ضرورت ہے لہذا آسان حل یہ ہے کہ ان سے پنگا نہ لیں اور ان کے والد صاحب کے ساتھ جو مرضی کر لیں کیونکہ آپ کی اخلاقیات بھی اس کی اجازت دیتی ہے کیونکہ عقل کل ہونے کے باعث آپ بزرگی کا لحاظ نہیں رکھ سکتے۔
پہلے صاحب کے متعلق لوگوں کی رائے بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک وہ عالم ہیں دوسرے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اسلام کے خلاف بات کی ہو، ضروری نہیں جو بات مجھے اسلام کے خلاف لگ رہی ہو وہ سچ مچ اسلام کے خلاف ہو لہذا بات سمجھنے کی کوشش کی جائے نہیں تو گزارش کریں کہ اس کی مزید تشریح کر دیں۔ ان صاحب کو بھی ضرورت ہے کہ اپنی بات تھوڑی سی وضاحت سے لکھ دیا کریں۔ ابھی انہوں نے کافی عرصے بعد کسی موضوع پر لکھا اور مجھے خوشی ہوئی لیکن ساتھ ہی کسی اور صاحب نے بدمزگی پیدا کر دی۔
ان صاحب کے بارے میں ایک بات عقل والوں کے لئے کافی ہے کہ میں کسی جگہ پر قرآن سے متعلق بات کر رہا تھا ایسے میں ایک اور صاحب نے اپنی عقل کو برتر جانا میں نے کہا حوالہ نہیں دے سکتا لیکن مجھے علم ہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ میں نے پڑھا ہے۔ ان صاحب پر حیرانی ہوئی کہ یہ بات ان کو کیوں نہیں علم۔ تب انہی مذکورہ صاحب نے قرآن کے اس مقام کا حوالہ فراہم کر دیا۔ کیا میں ان سے بہتر ہو سکتا ہوں؟ میری مدہوشی کا یہ عالم کہ بات کرتا ہوں لیکن یہ علم نہیں کہ یہ کہاں ہے؟ کیا یہ شخص مجھ سے لاکھ درجے بہتر نہیں؟ کیا اعتراض کرنے والے قرآن کو پڑھ اور سمجھ بھی سکتے ہیں؟
دوسرے صاحب جو ان کے والد ہے ان کے بارے میں کسی کو اپنی رائے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے آپ اپنے باپ کو بھی ان کے نام سے مخاطب کر کے بلاتے ہو جیسے “او فلاں ایدھر تے آ” یا تربیت ہی ایسی ہوئی ہو اگر تربیت کے بعد میری طرح خراب ہو گئے ہیں تب لطیفہ بننے سے تو باز رہا کریں۔ ان صاحب نے دنیا دیکھ رکھی ہے۔ ان کا مشاہدہ اور ذہانت کس سے چھپی ہوئی ہے؟ کل کے پھٹو ایک انڈے میں بند کیسے اپنے آپ کو ان سے بہتر عقل کا مالک سمجھ سکتے ہیں؟
Popularity: 9% [?]
Popularity: 9% [?]
239 views
Related Posts
- None Found


























مسلماوں کی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ ان کی خود غرضی ہے۔ اس خود غرضی سے غیر اپنی عقل کو استعمال کرکے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں یعنی فی زمانہ غیر مسلمانوں سے زیادہ سمجھدار اور عملیت پسند ہیں۔ مسلمان خواب دیکھنے والے اور صرف دعاؤن پر بھروسہ کرنے والے رہ گئے ہیں۔ خود غرضی کی لعنت ایک عام مسلمان سے لیکر ان کے حکمرانوں تک میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرکوئی سب سے پہلے پاکستان کی طرح سب سے پہلے میں کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔
تعلیم آدمی کو کیوں سیانا بناتی ہے یہ آپ اپنے ارد گرد عملی نمونوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کچھ لوگ اس سیانےپن کو منفی حربوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
مجھے آپ پڑھے لکھے جاہلوں میں ہی شمار کریں اس لیے اپنی رائے کے بجائے مستند عالم کی رائے شیر کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے اپنے ایک لیکچر کے دوران کہا جسکو میں اسطرح دہراؤں گا کہ “ مسلمانوں کی تنزلی کا سب سے بڑا سبب انکی رد عمل کی نفسیات ہے۔ اپنی تمام خرابیوں کا ذمہ دار مغرب کو ٹہرا کر ہم نے اپنی تمام توانیاں رد عمل پر صرف کرنی شروع کردیں۔ ہمارا نصاب اور ہمارا حساب صرف اور صرف رد عمل کی پیداوار ہے اور بجائے تعمیری کاموں کے ہم ہر وقت اپنے آپ کو خود ساختہ حالت جنگ میں رکھے ہوئے ہیں اور بجائے مسابقت کے مخالفت پر زیادہ زور صرف کر رہے ہیں۔ نتیجہ اسکا یہ کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم“۔میرا خیال ہے ذیل میں دیے گئے دو لنک اس بلاگ میں اٹھائے گئے کئی سوالات کے جواب دیں گے۔
http://www.ghamidi.org/Audio_Video/Maghrabi_Saqafti_Yalghar-I.wmv
http://www.ghamidi.org/Audio_Video/Maghrabi-Saqafti_Yalghar-II.wmv
اسلام علیکم
میرا پاکستان: خود غرضی تو ایک بڑی وجہ ہے لیکن خود غرضی ضرورت تھی۔ یہ دینا کا قانون ہے کہ کمزور جی نہیں سکتا جب تک خود طاقتور نہ بن جائے یا اس کو سپورٹ حاصل نہ ہو۔ اس کے علاوہ کیا وجہ تھی؟ خود غرضی تو دوسری قوموں مٰں بھی تھی۔
راشد کامران: لنکس فراہم کرنے کا شکریہ میں ان کو دیکھ کر ہی کچھ کہہ سکوں گا۔
آپ طنز اچھا کر لیتے ہیں۔ لیکن آسانی سے کر جاتے ہیں جس کو میرے جیسے بیوقوف بھی سمجھ جاتے ہیں۔ کرتا دھرتاؤں کی اکڑ بھی دیکھ لیا کریں۔ ان کو ان کا والد یاد کرانے کا مقصد انہیں شرم دلانا بھی تو ہو سکتا ہے؟ اب مشرف ایک غلط آدمی ہے لیکن گالیاں اس کے باپ کو بھی پڑتی ہیں گو ابھی تک اس کے والد کی پہچان نہیں ہو پائی۔ ایک لمبی قطار ہے اور اس کی بازگشت مجھے امریکہ بھارت اور اسرائیل سے بھی سنائی دے رہی ہے۔
آپ خود کو اقلبندی کے لباس میں بند کرتے ہوئے اقلمندی کرتے ضرور ہیں لیکن طنز کرنے کی پریکٹس کی ضرورت ہے۔ جہاں تک نقل مارنے کی بات ہے وہ کچھ خاص پلے نہیں پڑی، ایک نام صرف ایک آدمی کے لیے نہیں ہوا کرتا سینکڑوں ہزاروں کا بھی ہوتا ہے۔
وسلام
سلام
بدتمیزیاں: شکر ہے آپ نے جھانکا۔ ورنہ کچھ کمبخت مجھ پر الزام دھر رہے تھے کہ بدتمیزیاں کے نام سے بھی میں ہی ہوں۔ اب وہ کمبخت پڑھ نہ لے۔
دیکھیں بات تو وہی ہے۔ کیا میں اس قدر مرتبہ حاصل کر چکا ہوں کہ کسی سے تلخ کلامی کروں؟ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں کسی کو برا کہہ رہا ہوں تو کیا اس کا بلوسطہ طور پر بنی صلی اللہ عیلہ آوالہ وسلم سے بھی دل کھٹا نہیں کر رہا؟
میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ جس سے اختلاف ہو اس سے حد میں رہ کر بحث کرنی چاہئے تا کہ کچھ علم میں اضاف ہو سکے۔
رہی بات جہاں تک نقل مارنے والی وہ میرا یقین کریں ٓآپ کے لئے نہیں کہی گئی بلکہ ان لوگوں کے لئے جو ان جیسے نظریات پیش کرتے ہیں لیکن ان کے والد سے بدتمیزی کرتے ہیں۔ وہی نطریات جنکے ٓآپ مخالف ہیں۔
امید ہے تسلی ہو گئی ہو گی۔
وسلام