امریکہ میں آج کل صدر بش پیچھے ہو گئے ہیں۔ اور ساری توجہ 2008 کے صدارتی الیکشن کے امیدوار لے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ابتدائی speeches ہو چکی ہیں۔ امریکہ میں عہدے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہوتی۔ اور پاکستان کے برعکس لوگ بھی خوامخواہ کسی کی مخالفت یا حق میں جذباتی نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں تو عام عوام سے لے کر بڑے بڑے لوگ عجیب عجیب حرکات اور بیانات دیتے ہیں۔
امریکہ میں پہلے انسان کو خود کچھ کر دیکھانے کا موقع دیا جاتا ہے یعنی جو خود کو اہل ثابت کر لے اس کا ہاتھ پکڑا جاتا ہے۔ باقی سب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں امیدوار بھی اسی کوشش میں ہوتا ہے کہ کوئی انگلی پکڑ کر چلائے اور لوگ بھی اسی تلاش میں ہوتے ہیں کہ جہاں کوئی انگلیوں پر ناچنے والا ملا اسی کو اہلیت جانا۔
صدارتی امیدوار بننے کے لئے اہلیت ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے آپ کو super thinker ثابت کرتے ہوئے stand out کیا جائے۔ جیسے ڈیموکریٹ امیدوار Barack Obama نے تقریر اچھی کی تھی تو وہ ڈسکور ہو گئے اور نتیجتا صدارتی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد ہوتا ہے fund raising یعنی چندہ جمع کرنا۔ جو جتنے زیادہ پیسے جمع کر لیتا ہے وہ اتنا ہی مظبوط امیدوار بن جاتا ہے اور اس کی نامزدگی کے امکانات اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں۔ ہر سال امریکی صدارتی انتخابات پچھلی دفعہ کی نسبت مزید مہنگے سے مہنگے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس چندے کے علاوہ امیدواروں کی ذاتی دولت اور آمدنی بھی ایک بڑا impact factor ہوتا ہے۔
اس وقت ڈیموکریٹس کی طرف سے دو مظبوط امیدوار ہیں ایک Barack Obama اور دوسری Hilary Clinton اس کے بعد ری پبلیکن کی طرف سے تین بڑے نام ہیں ایک تو نیویارک کے مئیر Rudolph Giuliani اس کے بعد John Mccain اور Mitt Romney ان تمام صاحبان کے درمیان پارٹی کے اندر سخت مقابلے کی توقع ہیں۔
Barack Obama
ان کے بڑے جرم یہ ہیں پہلا یہ صاحب افریقن امریکن ہیں۔ دوسرا ان کی والدہ امریکن اور والد مسلم افریقن تھے۔ تیسرا ان کا مکمل نام barrack Hussain Obama ہے۔ سب سے بڑا جرم یہ کچھ عرصہ انڈونیشیا کے ایک مسلم اسکول میں پڑھے ہیں جس کو مدرسہ کہا جاتا ہے۔ انتہائی مقناطیسی شخصیت کے مالک ہیں اور ٹھوس رائے رکھتے ہیں۔ ان کا ایک اور جرم واحد سینیٹر ہونا ہے جنہوں نے صدر بش کے جنگی جرائم کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ ورنہ ڈیموکریٹس تک نے مخالفت نہیں کی تھی۔ وجہ عقلمندوں کو معلوم ہونی چاہئے۔ مگر ان کا کمال دیکھیں منتخب ہونے سے قبل کھل کر مخالفت کی اور پھر بھی سینیٹر بن گئے۔ ان صاحب کو اچھی خاصی میڈیا وار کا سامنا کرنا پڑے گا اول ان کے جرائم ہی اس قدر شدید اور ناقابل برداشت ہے دوسرے یہ جنگ مخالف ہیں جبکہ جنگ “وقت کی ضرورت” ہے۔ جہانزیب کی پوسٹ کے مطابق ان کے خلاف فاکس چینل نے اپنا “کام” دیکھانا شروع کر دیا ہے۔
Hilary Clinton
جیو امریکہ کے ناظرین نے بالخصوص اور پاکستان کے ناظرین نے بالعموم ایک کیپشن دیکھا ہو گا سفیر پاکستان پروگرام کا جس میں مسز کلنٹن کہتی ہیں کہ that market should be filled by peoples from Pakistan یہ اچھے وقتوں کی بات ہے۔ اب مسز کلنٹن تبدیل ہو چکی ہیں۔ تبدیلی کی بات بعد میں کرتا ہوں۔ سابق صدر کلنٹن پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ جان کیری کے لئے وہ خاطر خواہ کام نہ کر سکے ورنہ ان کا جیتنا یقینی تھا۔ اس وقت Al-gore بھی صدارتی دوڑ میں شامل ہیں لیکن امریکہ میں ہارے ہوئے کو دوبارہ نامزد نہیں کیا جاتا کیونکہ عوام اس کے خلاف پہلے رائے دے چکی ہوتی ہے۔ لہذا مسز کلنٹن کی campaign کے لئے کلنٹن کے ساتھ ساتھ الگور بھی اچھی خاصی مدد ہونگے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ مسز کلنٹن نہ صرف پارٹی نامزدگی حاصل کر لیں گی بلکہ انتخابات بھی جیت جائیں گیں۔ وجہ؟ فاکس چینل اگر براک اوبامہ کی مخالفت کر رہا ہے تو کچھ تو بات ہے۔ جراسک پارک فیم ہدایتکار Steven spielberg مسز کلنٹن کے لئے 30 تاریخ کو فنڈ ریزنگ کا کام کر رہے ہیں۔ یہ صاحب کٹر یہودی ہیں۔ اس کے علاوہ وال اسٹریٹ کے ایک بینکر بھی مسز کلنٹن کے لئے جلد ہی فنڈ ریزنگ کا کام کرنے والے ہیں یہ صاحب بینکر ہیں وال اسٹریٹ پر ہیں تو کیا ہونگے؟ میری ذاتی رائے میں مسز کلنٹن جیت کر مسلمانوں کو سائے میں لا کر ماریں گیں۔
Rudolph Giuliani
یہ صاحب سابق مئیر نیویارک سٹی ہیں۔ 911 کے وقت انہی کے کندھوں پر مئیر کا بوجھ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر twin towers کا وہ تمام ملبہ کسی کی رسائی تک نہ پہنچ پانے اور اس کو “ٹھکانے” لگانے کا بھی الزام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ صاحب جرائم پیشہ افراد میں سے ایک تھے اس لئے ان سے نمٹنے کا طریقہ اچھی طرح جانتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بڑے فلرٹ قسم کے انسان تھے۔ ایک شادی کرتے تھے اور اس کے ہوتے ہوئے مزید عورتوں کے پیچھے پڑ جاتے تھے ایک کے بعد ایک شادی کی۔ اس کے علاوہ شائد بیٹے سے بھی کسی بات پر جھگڑا چل رہا ہے۔
John McCain
یہ صاحب صدر بش کے سب سے مظبوط سپورٹرز میں سے ایک ہیں۔ ان کو اپنی اسپورٹ کے ساتھ ساتھ صدر بش کے کرتوت کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ عوامی رائے عراق وار پر تبدیل ہو چکی ہے اخبارات کو اجازت نہ تھی اور چھوٹی سی خبر اب آدھے صفحوں کے مرنے والوں پر آرٹیکلز کی شکل اختیارات کر چکی ہے ایسے میں یہ پاکستان میں تو ہیں نہیں کہ اپنے بیان سے مکمل یو ٹرن لے لیں لہذا بہت بری طرح پھنس چکے ہیں۔
Mitt Romney
یہ صاحب انتخابات کے حوالے سے اہم ریاست سے تعلق رکھتے ہیں۔ ریاستوں کا کردار اس قدر اہم ہیں کہ time zone کے فرق کی وجہ سے گئے وقتوں میں جب east coast کے نتائج سامنے آتے تھے تو ان ریاستوں میں ایک گھنٹے کے دوران نتیجہ الٹ جاتا تھا۔ ان کا جرم مورمن فرقے سے تعلق رکھنا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں احمدی یا مرزائی حضرات ہیں اسی قسم کا فرقہ مورمن فرقہ ہے۔ تاریخ پڑھنے والوں کو دونوں فرقوں کی جڑ ڈھونڈنے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ میں فرقہ یا رنگ کی بنیاد پر کسی کو نشانہ بنانا قانونی طور پر جائز نہیں لیکن یہ تفریق آپ کو عام ملے گی۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ ڈیمو کریٹس کے دونوں امیدواروں کے درمیان پارٹی کے اندر کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔ لیکن ہیلری کلنٹن یہ مقابلہ جیت لیں گیں۔ کیونکہ اب سے ڈیڑھ ماہ قبل ہیلری 15 ملین ڈالر کے ساتھ تھیں جبکہ جان ایڈورڈ کافی پیچھے رہ چکے تھے اور مسٹر اوبامہ نے ابھی تک اپنے فنڈز کی ہوا نہیں لگوائی تھی۔ ایک ماہ قبل مسز کلنٹن نے 25 ملین ڈالر فنڈز کا اعلان کیا تو جان ایڈورڈ مقابلے سے باہر کھڑے دیکھائی دئے جبکہ براک اوبامہ نے 24 ملین ڈالرز کے فنڈز جمع کرنے کا اعلان کر کے مسز کلنٹن کو شدید شاک پہنچایا۔ اس کے بعد ہی کچھ صلاح مشورے ہوئے جس کا نتیجہ فاکس چینل پر دیکھا جا سکتا ہے اور بینکر اور ہدایتکار صاحب کے اعلانات سامنے آئے۔
مسز کلنٹن کے جیتنے کے بعد میرے خیال سے راڈلف جولیانی ری پبلیکن کی طرف سے امیدوار ہونگے اور ان دونوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے جس کا نتیجہ شائد مسز کلنٹن کی جیت کی صورت نکلے اور ہم صحراؤں اور پہاڑوں پر مار کھانے کے بجائے کھیتوں اور جنگلوں میں مار کھائیں۔ یہ مار معاشی بھی ہو سکتی ہے اور اصلی والی بھی۔
امریکی سیاست کے منظر نامے پر ابھی بہت دلچسپت واقعات ہونے ہیں جن پر میں ساتھ ساتھ لکھتا جاؤں گا۔ اس سب پر جہانزیب نے یہاں ایک اور پوسٹ لکھی ہوئی ہے۔ جہاں سے آپ باآسانی ان امیدواران کے official home pages تک جا سکتے ہیں۔
Popularity: 8% [?]
Popularity: 8% [?]
226 views
Related Posts
- براک اوبامہ ڈیموکریٹک امیدوار On June 3, 2008, 5 Comments
- آج امریکہ کی تاریخ کا تاریخ ساز دن تھا۔ براک اوبامہ نے ڈیموکریٹک نامزدگی جیت لی ہے۔ ڈیموکریٹک امیدوار بننے کے لئے ان کو 2117 ووٹ درکار تھے جو آج کی پرائمریز میں اور سپر ڈیلیگیٹس کی طرف سے اوبامہ کو سپورٹ کی صورت میں حاصل ہوئے۔ obama claiming nomination ہیلری کلنٹن نے ابھی بھی پیچھے ہٹنے
- بےوقوف On December 13, 2007, 10 Comments
- افریقن امریکن کو کچھ کہیں تو جہانزیب اور زکریا دونوں برا مناتے ہیں۔ لیکن افریقن امریکن مجھے بہت بےوقوف لگتے ہیں۔ کچھ اپنے جیسے سے پچھلے دنوں براک اوبامہ جو کہ اپنے ایک بےوقوفانہ بیان کے بعد پاکستانی کمیونٹی کے ووٹ حاصل نہ کر سکیں گیں، کے لئے اوپرا ونفرے نے ساؤتھ
- New Presidential coins On January 7, 2007, 0 Comments
- A new presidential dollar coin will be appearing in circulation beginning February 16, 2007. United States Mint officials for the first time revealed designs for the presidential dollar coin series at a November 20, 2006 ceremony held at the Smithsonian Institution’s National Portrait Gallery.The dollars are to be produced because of the Presidential $1 Coin
- 911 On January 18, 2009, 6 Comments
- آجکل نیویارک میں رج کے ٹھنڈ پڑ رہی ہے۔ درجہ حرارت single digit میں ہوتا ہےاور real feel تو اس سے بھی کم۔ پرسوں AAA کو 1200 کے قریب کالز موصول ہوئیں صرف نیوجرسی سے اور 35 فیصد کی پرابلم صرف اتنی تھی کہ ان کا ڈور لاک سردی سے فریز ہو گیا تھا۔ ویسے
- google adsense payments through westron union On October 6, 2007, 4 Comments
- Google announced a new way of payments to a few more countries other than check. Inclduing is Pakistan. A very interesting line in the official news reads as “This choice can also cut down on bank fees and long clearing times associated with depositing checks.”
- صدارتی امیدواران اور بیانات On August 5, 2007, 2 Comments
- براک اوبامہ ابھی تک اچھے جا رہے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ان کو ایشیائی کمیونٹی کی حمایت حاصل رہے گی۔ لیکن ان کے حالئیہ بیان کے بعد میں نے ان کی حمایت سے توبہ کر لی۔ ایشیائی کمیونٹی کا بھی ملا جلا ردعمل نظر آیا۔ براک اوبامہ کی تقریر غلطی سے میں نے سن
- Windows Live Writer (beta) On January 1, 2007, 4 Comments
- مجھے نہیں معلوم دوسرے کس طرح بلاگ لکھتے ہیں۔ مثلاُ ویب سائیٹ سے ہی پوسٹ کر دیتے ہیں یا پہلے اس کو آف لائن لکھتے ہیں۔ جیسے ابوفارس کی میل سے پتہ چلا کہ ان کے ساتھ کیا سانحہ ہوا ہے یا میرا پاکستان کے کمنٹ سے پتہ چلا کہ ان کو تصویر اپلوڈ کرنے
- Now P*** bot? On August 29, 2008, 0 Comments
- نامعلوم وجوہات سے مجھے آجکل بہت سے لوگ میسینجر پر ایڈ کر رہے ہیں۔ جاپان، مڈل ایسٹ، یورپ۔ حتی کہ سخت ترین سپیم فلٹر سیٹنگ کے باوجود افریقہ کے ان ملٹی ملین ڈالر کے وارثوں نے بھی مجھے ڈھونڈ لیا ہے جن کو ہمیشہ میری مدد چاہئے ہوتی ہے۔ کل ایک “چیز” نے مجھے ایڈ
- امریکی انصاف On June 9, 2007, 1 Comments
- میں امریکہ کے east coast پر رہتا ہوں۔ یعنی مشرقی ساحل پر۔ اگر آپ سیدھا چلتے جائیں تو دوسری طرف مغربی ساحل ہے۔ پچھلے دنوں امریکہ کے دونوں ساحلوں پر ایسے واقعے ہوئے جو کہ پاکستان میں چیف جسٹس والے واقعے پر ذمہ داران کے منہ پر پرزور طمانچہ ہے۔ پہلا واقعہ تھا کہ کہ
- خبریں On September 1, 2008, 8 Comments
- میں جب پانچویں جماعت میں تھا تو ہفتہ میں ایک دن اسمبلی میں اخبار پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ باقی 5 دن اور بچوں کی باری ہوتی تھی۔ چلیں آج میں آپ کو اخبار پڑھ کر سناتا ہوں۔ میرے بچپن میں کبھی کبھی اسکول میں مسوں کو جوش چڑھتا تھا لہذا وہ اسمبلی کے بعد ایک


























یہ ایسے نہیں ویسے ہے۔ ہاہاہاہا
مذاق ایک طرف میں سیاست کا شیدائی ہوں۔ اس لئے لگتا ہے کہ مجھے بھی امریکی انتخابات کے بارے میں اردو میں کچھ بلاگ کرنا چاہیئے۔
اسلام علیکم
بالکل آپ کو ضرور لکھنا چاہئے۔ میں نے آپ کے بلاگ کو سرچ کیا تھا۔ اس حوالے سے تو کچھ نہیں ملا۔ نزدیک ترین تحریر بھی نومبر الیکشن کے حوالے سے تھی۔
حال ہی میں اوباما کی ایک ریلی میں شرکت کی تھی جس کا حال لکھ چکا ہوں۔ کوشش کروں گا کہ ایک جنرل سی پوسٹ بھی کروں اردو میں۔
اسلام علیکم
مسٹر اوبامہ کی کوئی تصویر ہی نہیں دی تھی۔ ویسے ٓپ کیا ہیں؟ ڈیموکریٹ یا ری پبلیکن؟
میرے پاس اس وقت فون کیمرہ تھا۔ اس سے تصاویر لی تھیں مگر بہت دور سے۔
مجھے ڈیموکریٹ کہا جا سکتا ہے۔