پاکستان میں آج کل بڑی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔ صدر مشرف سب کو نگلتے نگلتے اب ایسی چیز حلق میں پھنسا بیٹھے ہیں جو نہ نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے مجھے یہ والا محاورہ ہمیشہ بھول جاتا ہے۔ اس ہاہا ہو کار میں بہت مزے مزے کے بیانات پڑھنے کو ملے۔ یہاں صرف جیو کا خبرنامہ ملتا ہے یا ایکسپریس اخبار لہذا ان سے ہی جو دو چار جملے مل جاتے ہیں وہ عقل حیران کرتے ہیں کہ یا اللہ یہ ہیں وہ لوگ جو حکمران ہیں؟
شروع تو مجھے صدر پاکستان سے کرنی چاہئے کہ بہر حال رتبہ ان کا بڑا ہے۔ صدر پاکستان پر کچھ لکھنا پوری ایک پوسٹ کا متقاضی ہے۔ واقفان حال جانتے ہونگے کہ صدر پاکستان پر پوسٹ کے بعد کہیں میں بھی غائب نہ ہو جاؤں لہذا میں اپنی عافیت اسی میں سمجھتا ہوں کہ ابھی ان کا صرف ایک بیان پیش کر کے ادھر ادھر ہو جاؤ۔
صدر پاکستان: یہ پانچ ہزار بندوں کا جلوس کیا چیز ہے؟ میں چاہوں تو پانچ لاکھ بندوں کا مجمع اکٹھا کر لوں۔
جناب صدر پہلے تو اسکرٹ اور منی اسکرٹ کے بین بین کوئی چیز پہنے ہوئی ٹانگوں کی نمائش نہ کرتے ہوئے کوئی خاتون نہ نظر آنے کا دھچکا اور اس کی جگہ ایک حبشی انسل کا بندہ دیکھنے کا دکھ اتنا شدید تھا کہ الامان الحفیظ۔ بس دل تھام لیا کہ سافٹ امیج اجاگر نہ ہو سکے گا اور تورا بورا شروع ہو جائے گا۔ جناب صدر آپ کا ایک ہی بیان پسند تھا کہ صدر ملک کا سربراہ ہے اور اس کی بات سننی چاہئے اس کی تقریر کے دوران ہنگامہ نہیں کرنا چاہئے۔ یہ آپ نے اس سوال کے جواب پر کہ آپ ابھی تک گریجویٹ اسمبلی سے کیوں خطاب نہ کر سکے دیا تھا۔ اس جواب سے میں جزوری طور پر متفق تھا۔ لیکن اب نہیں۔ کیا صدر کو زیب دیتا ہے کہ وہ الٹے سیدھے بیان داغتا پھرے؟ صرف اس بیان کی بات نہیں آپ کی تاریخ ایسے بیانات سے بھری پڑی ہے۔ جناب صدر آپ کو الٹے سوالات یا الٹی حرکتوں کی نشاندہی پر عہدے کا وقار دیکھانا چاہئے نہ کہ اسی طرز کا جواب۔ ویسے جناب صدر یہ پانچ لاکھ فوج سے جمع کرنے تھے یا سرکاری محکموں میں سے نکال کر پورے کرنے تھے؟
چوہدری پرویز الہی: بینظیر مخالفت کرتی رہی اب کس منہ سے حکومت میں شمولیت کی بات کرتی ہے؟
جناب چوہدری صاحب۔ میری امی میری حرکات سے تنگ آ کر کہتی ہیں “ہیں نہ چوہدری۔ دماغ تے کم کردا ہی نئیں” ویسے یہ سوال اگر صدر پاکستان سے کرتے تو بہتر تھا کہ آپ کو اب کھڈے لائن کیوں لگایا جا رہا ہے؟
چوہدری شجاعت حسین” فوج کے خلاف کچھ کہنے والوں کو گولی مار دینی چاہئے۔
چوہدی جی آپ بھی؟ جناب فوج کے خلاف آگے عوام بڑی بھری پڑی ہے۔ ملک میں خانہ جنگی کا ٹھیکہ تو نہیں پکڑ لیا؟ کچھ ہوش سے بیان دیں عوام نے آپ کو بھی سولی چڑھا دینا ہے جبکہ صدر صاحب تو آگے ہی آپ لوگوں کی قربانی کے درپے ہیں۔
بینیظر بھٹو: ایمل کانسی کو ہم نے پکڑ کر پیش کیا۔ ہمارے دور میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ نہیں ہوا۔
قابل احترام بی بی آپ کو بی بی کہوں یا بے بی؟ ویسے فٹ تو بے بے پیٹھتا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ پر جو ہونا تھا وقت پر ہونا تھا آپ کی حکومت نہیں رہی ویسے پہلے کہتی ہیں کہ ایمل کانسی کو پکڑا تو یہ بھول گیا کہ اس نے کیا کیا تھا؟ میرا نہیں خیال آپ کے سوا کوئی اور اتنا بے وقوف ہو سکتا تھا کہ اپنے ملک کو دہشت گردوں کا ملک قرار دے۔
ارباب رحیم خان: میرے ساتھ اللہ امریکہ اور آرمی ہے۔
سندھ کو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے الطاف بھائی اور بے نظیر کم تھیں کہ اب ارباب صاحب بھی عجیب بیان دے رہے ہیں۔ جناب کچھ ہوش کریں اپنے ساتھ یا اللہ کو ملائیں یا امریکہ کو۔
نواز شریف: دیکھیں جی جو ہم نے کیا وہ جمہوری دور تھا اور جو مشرف صاحب کر رہے ہیں وہ آمریت
سر میں آپ کی حکومت کا حامی آپ کی وجہ سے نہیں شہباز شریف کی وجہ سے تھا۔ لیکن آپ کی بھاری اکثریت آپ کو بڑی بھاری پڑ گئی۔ غلط کام غلط کام ہوتا ہے چاہے سب کو ساتھ ملا کر کیا جائے یا کوئی اکیلا ڈنڈے کے زور پر کرے۔
جنرل ر حمید گل: فوج کا سربراہ (کمانڈ انچیف) امریکہ کی مرضی کا ہوتا ہے۔
بہت شکریہ سر یہ پہلی آفیشل اسٹیٹمنٹ ہے جس کی ابھی تک کہیں سے تردید نہیں ہوئی کہ کمانڈر انچیف امریکہ کی مرضی سے نہیں بلکہ پاکستان میں منتخب ہوتا ہے۔ ویسے ایک سوال، سر کیا آپ بھی امریکہ کی مرضی سے بنے تھے؟ اور وہ کیا وجہ تھی جس سے آپ امریکہ مخالف ہو گئے؟
صدر مشرف کے جانے کے بعد کوئی اس پر بھی روشنی ڈالے کہ سنیارٹی نظر انداز کر کے صدر مشرف کی ترقی بھی امریکہ کا حکم نامہ تھا؟ اگر ہاں تو پھر تو کارگل کی سمجھ لگ جانی چاہئے۔ اور صدر مشرف کی بھی۔
ایک خبر: ملک میں بجلی کی کمی کے باعث ہفتہ وار دو تعطیل کرنے اور بازار شام 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ:
اچھا نہیں تھا کہ امریکہ کا ساتھ نہ دیتے اور ملک کو پتھر کے دور میں بھیج دیتے؟ جنت بھی مل جاتی اور ڈھیروں ڈھیر حوریں بھی۔ اب نہ بجلی ہے اور نہ ہی حوریں۔ ساتھ نہ دیتے تو بجلی کی قلت بھی نہ ہوتی کیونکہ بجلی ہوتی تو قلت ہوتی۔ ویسے ابھی کونسا ہمارے پاس بجلی ہے۔ امریکہ نے دوسرے طریقے سے پتھر کے دور میں پہنچا دیا ہے۔ بھائیوں اس کا الزام بھی امریکہ پر لگانا ہے دیکھو بچ کر جانے نہ پائے اور یہ جن کمبختوں نے ڈیموں کی مخالفت کی اور جن منحوسوں نے پچھلے سال واپڈا کے بار بار کہنے پر بھی کان نہ دھرے ان وزیر کا نام بھول گیا ہے۔ یہ میرے خیال سے سندھ سے ہیں۔
ان تمام لوگوں کے لئے ایک طمانچہ۔ امریکہ میں اگر آپ ایک معمولی دکاندار کو بھی کسی چیز کے طلب کرنے کے ساتھ پلیز نہ لگائیں تو اس سے مراد لی جاتی ہے کہ آپ حکم دے رہے ہیں اور یہ کافی بری بات ہے اس سے سبھی اس شخص کو گھورنے لگ جاتے ہیں۔ یہاں ایک ٹرانزیکشن پر تین تین چار چار دفعہ پلیز اور شکریہ کہنے کا عام رواج ہے۔
Popularity: 8% [?]
Popularity: 8% [?]
206 views
Related Posts
- tidbits On April 19, 2007, 6 Comments
- ہم tidbits کے نام سے ایک نئی کیٹگری بنانے لگے ہیں۔ اس میں ہم وہ تمام چھوٹی چھوٹی باتیں لکھیں گے جن پر پوری پوسٹ لکھنا ناممکن ہے لہذا ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کو جمع کر کے ایک پوسٹ کی شکل میں شامل کر دیا جائے گا۔ اس کو کترن کا نام بھی دیا جا
- مزید tidbits On October 23, 2007, 10 Comments
- پھر کچھ چھوٹی چھوٹی چیزیں جمع ہو گئی ہیں تو یہ رہی بلاگر tid-bits کی نئی قسط۔ راشد کامران کے بلاگ پر کمنٹ کریں تو یہ ایرر نظر آتا ہے لیکن تبصرہ پوسٹ ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام تبصرہ کرنے والوں کے نام کی جگہ سوالیہ نشان نظر آتے ہیں۔ یہ شائد نوٹ
- blogging tidbits On August 27, 2007, 11 Comments
- پچھلے دنوں چند ایک نئے بلاگز اکھٹے بنے۔ یہ سب اپنے اپنے مزاج کے اعتبار سے اردو بلاگرز میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہونگے۔ چند ایک مشکلات جن کا یہ سامنا کر سکتے ہیں اور چند ایک ٹپس جو ان کے لئے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ میں یہاں پیش کردونگا۔ میں سارا دن قدیر
- urdu bloggin plugin tidbits On December 31, 2007, 15 Comments
- مجھے اپنی یہ تھیم بہت پسند تھی۔ اور میں نے اس کو بہت customize کیا ہے۔ بدقسمتی سے اس کی کچھ limitations ہیں جو مجھے سخت بری لگ رہی ہیں۔ لیکن ابھی تک اس سے کچھ بہتر تھیم نہیں مل سکی۔ بہت سے لوگوں کو 3 کالمی تھیمز نہیں پسند ہوتی اگر کسی کو ایسی



























تازہ ترین لطیفہ یہ ہے کہ چند دن قبل جب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے وکیل نے درخواست کی کہ کیس فل کورٹ سُنے تو حکومت کے وکیلوں نے اس کی سخت مخالفت کی ۔ بدھ کو سپریم جوڈیشئل کونسل کے سامنے حکومتی وکیل نے عرضی پیش کر دی کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کیس فل کورٹ سنے ۔ اس کے بعد ایک اخباری نمائندے نے وزیرِ لاقانونیت وسی ظفر صاحب کو ٹیلیفون کر کے جرح کی تو وسی ظفر صاحب نے فرمایا کہ وہ وکیل حکومت کا نمائندہ ہی نہیں ۔ مرکزی وزیرٍ تعلیم ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی صاحب نے فرمایا تھا کہ وہ پورے چالیس سپارے سکولوں میں پڑھائیں گے ۔ کیسے کیسے نمونے پال رکھے ہیں ہمارے صدر صاحب نے ۔
جیسی قوم ویسی حکومت اور ویسے ہی سیاستدان۔۔ بعض اوقات تو انکے اخباری بیان پڑھ کر دل چاہتا ہے کسی طرح سارے اخبار چھپا دوں کہ کوئی پڑھ نہ سکے مگر یہ مسخرے ہیں کہ اگلے دن ایک تازہ لطیفے کے ساتھ حاضر۔۔ کچھ لوگ ہیں کہ ایک دن خواتین کے حقوق کے لیے ریلی اور دوسرے دن ان کا ہی ایک ساتھی سٹی کونسل کے اجلاس میں اپنی بیلٹ سے عورتوں پر حملہ آور نہ ریلی نہ ریلا۔۔ کوئی کراچی کو پیرس بنانے کی باتیں کرتا ہے کوئی لاہور کو مانچسٹر ۔۔ کوئی کہتا ہے ہماری حکومت آئی تو دنیا میں ایک سپر پاور ہوگی وہ صرف پاکستان اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ امریکہ ہمارے ساتھ ہے۔۔ اللہ کی خیر ہے کہ وہ تو بڑا رحمن اور رحیم ہے مگر امریکہ سے ڈر لگتا ہے ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ٹی وی چینلز والے ان لوگوں کی پیروڈی کیوں بناتے ہیں ۔۔ کیا مسخروں کی پیروڈی بھی بنائی جاتی ہے ؟
او بهائی جی یه جرنل صاحب کے خلاف شکایت کی حد تک تو ٹهیک ہے که یه صاحب کسی حد تک حوصله بهی رکهتے هیں مگر چوهدری صاحب کے متعلق اب نه لکهیں ورنه آپ کے ساتھ وه هو سکتا ہو که آپ نے سوچا بهی نه هو گا ـ
آپ کو اس ایک مثال سے سمجھ لگ جانی چاهیے که پاکستان میں کوئی ایک بهی ان کی کسی خامی کا نہیں لکهتا ـ
کیوں ؟؟؟
عقلمند کو اشاره کافی ہے ـ
اسلام علیکم
اجمل انکل۔ ویسے مجھے وصی ظفر سے کوئی شکائت نہیں۔ ایسے جملے پنجاب میں گنوار عام طور پو بولتے رہتے ہیں۔ یہ اتنی عام بات ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ پنجابی سوائے گالیوں کے کچھ نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا خاص طور پر جیو نے اپنے فائدے کے لئے کیسے منسٹر صاحب کو اچھالا ہے اور ان کی کردار کشی کے بجائے ان کو ہیرہ بنا کر پیش کیا ہے۔
راشد کامران: بیلٹ اتار کر حملہ کرنے والے بندے سے مجھے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے مجھے علم نہیں کہ وہ کون تھا اور کس جماعت کا بندہ تھا۔ ایسے شخص کا سر عام ہاتھ کاٹ دینا چاہئے۔ عورت پر ہاتھ اٹھانے والے نامرد ہوتا ہے۔
خاور کھوکھر: میں ذاتی طور پر جنرل مشرف کے حوسلے اور برداشت کا معترف ہوں۔ اور آپ کی محبت کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔