پیر و مرشد حضرت مولانا قدیر احمد رانا ملتانی کی آج اکیسویں سالانہ برسی ہے میرا مطلب ہے سالگرہ ہے۔ آپ آج سے اکیس سال پہلے زبردستی دنیا میں بھیجے گئے۔ انہوں نے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے فرشتوں کو سوال کر کر کے عاجز کر دیا ہوا تھا۔ اب فرشتے بیچارے کہاں تک برداشت کرتے۔ سب کے سب ہاتھ جوڑے بارگاہ تعالیٰ میں حاضر ہوئے کہ اس سے جان چھڑائی جائے۔ انہی دنوں زمین پر گناہ بہت بڑھ گئے تھے۔ لہذا ان میں سے چند لوگوں پر یہ عذاب کی صورت نازل ہوئے۔ پیر و مرشد کے والدین اور گھر والوں کے ساتھ پورے خاندان کا تو علم نہیں کہ کیا گناہ تھا جو یہ طوق ان کے گلے میں ڈلا لیکن اپنی حرکات سے بخوبی واقف صاحبان خوب جانتے ہیں کہ پیر و مرشد ملتانی کیسے کس بل نکالتے ہیں۔
آپ عرصہ نامعلوم سے چند قابل اعتراض حرکات میں ملوث ہیں۔ جن میں سر فہرست پڑنا ہے۔ اب سے ایک ماہ قبل میں نے ان کو فون کیا۔ پوچھا کیا کر رہے تھے۔ جواب ملا پڑھ رہا تھا۔ میں نے پوچھا اشارہ کرنا پڑتا ہے یا خود ہی پڑ جاتے ہو؟ کچھ دیر تو خاموشی چھائی رہی پھر جب کند ذہن کے کواڑوں سے گزر کر میری بات کچھ پلے پڑھی تو جلالی لہجے میں کہا گیا “چل اے” اس سے معلوم ہوتا ہے طبعیت میں عفو درگزر اور برداشت کس قدر ہے۔ ویسے کچھ دل جلے اس کو جواب بن نہ پڑنا بھی کہتے ہیں
پیر و مرشد کو فضول گفتگو سے بڑی نفرت ہے لہذا ان کی گفتگو ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے موتیوں کی لڑیاں۔ پیر و مرشد لڑیاں کو اکثر لڑکیاں پڑھتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے پیر و مرشد کی موتیوں بھری گفتگو شئیر نہیں کی جا سکتی اس میں مولانا اکثر جلال میں رہتے ہیں اور گرجے برستے رہتے ہیں۔ ایسے موقع پر ہم مقدور بھر کوشش تو کرتے ہیں کہ ان کی جلالی طبعیت کو سگ آوارہ کی چیاؤں چیاؤں سے مشابہت دے کر چپ کروا سکیں لیکن اسی دوران مولانا کو گھر سے جوتیاں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں۔ اور مولانا بڑی لجاجت سے معذرت کر کے چلے جاتے ہیں۔
مولانا کے کرتوت کچھ ایسے ہیں کہ نہ بتائے بنتی ہے نہ چھپائے بنتی ہے۔ اب مولانا بھی ایسے ہیں کہ بات گوش گزار کر کے حکم نامہ جاری کر دیتے ہیں کہ خبردار جو کسی کو بتایا۔ نتیجتا بندہ کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ورنہ کہنے کو تو ایسے ایسے واقعات ہیں جن سے مولانا کی عظمت اور رتبہ ایسے ٹپکتا ہے جیسے ان کے کمرے کی چھت ٹپکتی ہے۔
ہم اکثر مولانا سے دم درود کروانے کے لئے فون کرتے رہتے ہیں ایک دن مولانا کو کہہ دیا اپنی ساس کو فون کر کے تمکو فون کرتے ہیں۔ مولانا نے سچ سمجھ لیا اس دن سے ہر معاملے میں ہماری ساس کو گھسیٹ لیتے ہیں۔ وجہ صرف اتنی کہ ہم نے مولانا کو کہا کہ فون کرتے ہیں لیکن فون نہیں کیا۔ وجہ وہی پیر و مرشد نے فون کا بل جمع نہیں کرایا تھا تو لائن کیسے ملتی اب پیرو مرشد نے ہماری شان میں جو گستاخیاں کیں وہ سینسر بورڈ بھی پاس نہیں کر سکتا۔
ہم نے ایک دن ان سے دعا کروانے کے لئے فون کرنا تھا۔ فرمان ہوا کہ ہم تو باہر جا رہے ہیں ہم نے کہہ دیا اچھا کوئی بات نہیں حضرت ہم آپ کو کل فون کر لیں گے۔ بس مولانا کو جو ایک جوتی کھینچ کر کسی ظالم نے ماری مرشد نے ہماری بات سنے بغیر میسینجر آف کیا اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ اگلے روز نازل ہوتے ہیں گالیوں کی برسات شروع کر دی۔ ہم سمجھ گئے تھانے سے مار کھا کر آئے ہیں لہذا نہایت اطمینان سے پوچھا حضرت ماجرا کیا ہے۔ ہمارا اطمینان دیکھ کر پھر ایک ریلا آیا۔ ہم نے مزید تحمل سے پوچھا تو جواب ملا تمہاری وجہ سے دو گھنٹے تک کتاب کھول کر بیٹھا رہا تم نے فون کیوں نہیں کیا۔ اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے کہ آپ دوسرے جوتے سے بچنے کے لئے بات سنے بغیر دفعان ہو گئے؟
پیر و مرشد اپنے آپ کو پپو بچہ کہلوانے کا بڑا شوق رکھتے ہیں۔ اگر ان کو علم ہو جائے کہ پپو بچہ کیا ہوتا ہے اور یہاں ان کا کیا مصرف ہے تو شائد یہ رانا کہلوانا شروع کر دیں ورنہ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ٹین ڈبہ کھڑکے ۲ سال ہونے کو آئے یہ ابھی تک ٹین ایج جیسی حرکات کر کر جوتیاں کھا رہے ہیں۔ مرشد کی طبعیت میں والدانہ عنصر بڑی شدت سے موجود ہے لہذا جہاں کسی لڑکی کا ذکر ہو ان کی پدرانہ شفقت جاگ اٹھتی ہے اور یہ اس کے whereabouts کی کھوج میں لگ جاتے ہیں
پیر و مرشد کے مزار پر میرا مطلب ہے ان کی چارپائی پر دن رات نور برستا ہے۔ ویسے ان کے ابا اور نانا جان کی جوتیاں نور مارکہ براںڈ کی ہیں لہذا جب جب یہ بستر میں ہوتے ہیں یہ نور صبح سویرے برسنا شروع ہو جاتا ہے اور مسلسل برستا چلا جاتا ہے۔ آپ کی صحبت انتہائی خطرناک ہے لہذا اپنے معصوم بچوں کو ان کی پہنچ سے دور رکھیں چونکہ یہ میرے دوست ہیں لہذا میری دعا ہے کہ پیر و مرشد اللہ آپ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ (کسی صاحب تک سایہ نہ پہنچ رہا ہو تو بتائیے ان کی کھال مزید کھینچ کر جگہ کا اہتمام کیا جائے)
اگر کسی صاحب نے پیرو مرشد کے لئے فاتحہ خوانی معاف کیجئے گا سالگرہ کی مبارکباد دینی ہو تو بقول جہانزیب یہ اپنے بارے میں خود ہی سب سے زیادہ لکھتے ہیں لہذا ان کے اپنے بلاگ پر اس پوسٹ میں دیں۔
Popularity: 17% [?]
Popularity: 17% [?]
306 views
Related Posts
- None Found


























آپ نے مریدی کا حق ادا کر دیا
مجھے اِس پوری تحریر پر کوئی بھی اعتراض نہیں سوائے حضرت کو مولانا پُکارنے سے، کہیں واقعی کوئی اُنہیں مولانا نہ سمجھ لے اور موصوف کی کسی تحریر کا ربط دے کر کہے دیکھ لو مولانا صاحبان کا حال
احمد: بس پیر و مرشد کے احسانات تلے دبا وہا تھا لۃذا ان کی شان میں قلابے مارے ہیں۔
جہانزیب: ہاہاہاہ واقعی مولانا صاحبان کی صف میں پیر و مرشد کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ اب قدیر کو مرچیں لگنی ہیں
بہت زیادہ بکواس کر دی ہے تم نے ۔ ادھر راجپوت خون کھولنا شروع ہو گیا ہے ۔ کس کس حملے کا جواب دوں ۔
تمہاری سالگرہ کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔ پریشان مت ہو ،