cho
172 views Published April 21st, 2007 in امریکہ نامہ.کل یہاں پر ورجینیا ٹیک میں مرنے والے بندوں کی یاد میں دن منایا گیا۔ اسکولوں میں باقاعدہ اناؤنس کیا گیا کہ آپ اورنج یا میرون یا برگنڈی شرٹ پہن کر آئیں۔ اگر کسی وجہ سے یا ناممکن ہو تو اپنے سینے پر ایک ربن آوایزاں کریں۔ مجھے ایسی کوئی معلومات نہیں تھی لہذا میں ایسا کوئی بھی اہتمام کرنے سے رہ گیا۔ نتیجتا سارا دن لوگوں کو جواب دیتا رہا کہ میں نے نارنجی شرٹ کیوں نہیں پہن رکھی یا میرا ربن کہاں گیا؟۔
ایک تو یہ گورے بھی بس ہی ہیں۔ سینٹ پیٹرک ڈے تھا شائد ابھی کچھ دنوں پہلے۔ میرے خیال سے پام سنڈے سے ایک ہفتہ قبل۔ بس جی سب کے سب گرین شرٹس پہنے گھوم رہے ہیں۔ عورتوں کے پاس اگر نہیں ہے تو گرین ہیٹ پہن کر گھوم رہی ہیں۔ کچھ نے تو باقاعدہ سینے پر بیج لگا رکھے تھے۔ اب چونکہ مجھ معصوم کو اس وقت بھی وقت پر پتا نہیں چلا تھا لہذا تب بھی لوگوں کے سوالات خندہ پیشانی سے سننے پڑے تھے۔ اس وقت تو میں نے الٹا اس بارے میں سوالات شروع کر دیئے تھے۔ ایک تو انفارمیشن مل جاتی دوسرا اگلے کو پتہ چل جاتا کہ بچے کو تہواروں کے بارے میں ککھ علم نہیں۔
امریکی عوام خاص طور پر ورجینین اس وقت غم میں بری طرح ڈوبے پڑے ہیں۔ چو کو کریزی کہا جا رہا ہے۔ اس کو خبط الحواس سمجھا جا رہا ہے۔ پہلی بات اگر آپ read between the lines کے عادی ہوں تو چو صاحب اسکول میں اچھے گریڈز لے رہے تھے۔ کالج میں بھی سینئیر ہو چکے تھے۔ اگلے سال گریجویشن تھی۔ اگر اس کا دماغ صیح نہیں تھا تو وہ یہ سب نہ کر سکتا۔
امریکی میڈیا خاص طور پر نیشنل میڈیا بہت گندہ ہے۔ یعنی چھوٹے چھوٹے اخبار تو تھوڑی بہت صیح رپورٹنگ کرتے ہیں لیکن سارے امریکہ کے ٹی وی اور اخبارات اصل بات کو دبا دیتے ہیں۔ یعنی ایسے ٹی وی چینل اور اخبارات جن کی نشریات اور اشاعت لوکل نہیں۔
میں اپنے بچپن سے سنتا آ رہا ہوں کہ امریکہ تباہ ہو جائے گا اور ساتھ ہی دوسری لائن میں کہ سوویت روس بھی تو تباہ ہو ہی گیا۔ میں کچھ وجوہات پر اس پر کبھی یقین نہ کر سکا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ یہ میرا مسکن تھا تو لاشعوری طور پر یہ بات ذہن میں تھی۔ لیکن دو بڑی وجوہات تھیں ایک روس کے سامنے ایک گٹھ جوڑ تھا۔ امریکہ کے سامنے کچھ نہیں۔ پھر امریکہ میں ایک قوم کی حکومت ہے جبکہ روس نے یورپ سے مل کر ان کو نکال باہر کیا تھا۔
اب میرا خیال تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال امریکی سرزمین پر قدم رکھتے ہی اس کی بے مثال طاقت ترقی کا پتہ ہر موڑ پر چلا۔ ایک تو اندرونی طور پر انصاف اور وہ بھی ہر جگہ اور ہر معاملے میں نہیں جیسے ہم پاکستانی انصاف سے مراد لڑائی جھگڑے اور عدالت کچہری سے ہی لیتے ہیں۔ دوسرے اس کے علم کدے۔ یعنی اسکول کالجز اور یونیورسٹیاں۔ لیکن جس طرح سے امریکہ میں اندرون ملک انتہاپسندی بڑھی رہی ہے وہ قابل تشویش ہے۔ اس میں صدر بش کے مذہبی ڈاکٹرائن کا بھی کسی نہ کسی حد تک ہاتھ ضرور ہے۔ جو کہ انہوں نے اسکولوں میں ٹھونسنے کی کوشش کی۔
میڈیا کی بدمعاشی دیکھیں کہ اس کے ہاتھ پر Ishmael ax لکھا ہونے کا کہہ کر اس کو کسی صورت اسی طرف لے جانے کی کوشش کی جس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ہسٹری اور اسلامی ہسٹری پڑھے ہوئے صاحبان کے علم میں ہو گا کہ اسماعیل کی نسل سے کیا ہے اور ان کے بھائی کی نسل سے کیا ہے۔ خیر یہ مائیکروسافٹ کا شائد میل سرور تھا۔ جو اس کے ہاتھ پر لکھا ہوا تھا۔
چو کے معاملے میں میں ہلاک ہونے والے تمام لوگوں پر افسردہ ہوں۔ موت میرے نزدیک بے معنی ضرور ہے لیکن بہر حال میرا نہیں خیال کسی بھی جرم کی سزا موت ہو سکتی ہے سوائے کسی کی جان لینے پر۔ لیکن اس معاملے پر بہر حال چو کو الزام دینا درست نہیں۔ پہلے اس کے مڈل اسکول اور ہائی اسکول میں دیکھیں کہ وہاں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اور اس کو روکنے کے لئے کیا کوشش کی گئی۔ پھر یونیورسٹی میں جب اس نے سگنل دے دئے کہ وہ اکتایا ہوا ہے تو اس کے باوجود اس کے سدباب کی کیوں نہ کوشش کی گئی۔ اب جو لوگ بڑے مزے سے آگے ہو ہو کر نیشنل میڈیا پر آ رہے ہیں انکو دو دو تھپڑ لگائے جائیں کہ اس سے پہلے اس کو اگر انہوں نے محسوس کر لیا تھا تو روکنے کے لئے کیا کیا؟
ابھی یہاں ایک بڑی دلچسپ بحث ہے کہ صدر کلنٹن نے جرم میں ملوث انسان کو ہتھیار کی فروخت ممنوع کرنے کا بل منظور کیا تھا۔ اس میں ترمیم کر کے طلبا کو اپنے پاس ہتھیار رکھنے کی اجازت ہونی چاہئے تا کہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ میں ایسے دانشوروں کی عقل پر حیران ہوں۔ ٹین ایج لوگوں میں عقل بالکل نہیں ہوتی۔ ایسے میں یہ کہہ کر ان کو ہتھیار رکھنے کی اجازت دے دینا کہ وہ ایسے واقعے کو روک سکیں درست نہیں۔ ایک تو یہ واقعے روز روز پیش نہیں آتے۔ دوسرے اس طرح تو بات بات پر گن نکل آیا کرے گی۔ تیسرے بہت کم لوگ اس قدر بہادر ہونگے کہ ایک جنونی کا سامنا کر سکیں۔ اس کے بجائے اگر جنگوں سے پیسہ بچا کر اندرون ملک سیکیورٹی بہتر کرنے پر لگایا جائے تو بہتر ہو گا۔
یونیورسٹی اور اس کے صدر کے پاس وقت کم ہے۔ ابھی بےوقوف لوگ رو دھو رہے ہیں بجائے یہ کہ اپنے بچوں کی تربیت کریں تا کہ کل کو کوئی اور چو نہ پیدا ہو جائے۔ میڈیا کو ابھی پیسے بنانے ہیں لہذا خوب خوب اچھالا گیا ہے۔ جونسے سوالات مجھ جیسا معمولی انسان اٹھا رہا ہے وہ عالی دماغ انسانوں کے پاس ہیں۔ جیسے ہی یہ غم ذرا کم ہو گا۔ یونیورسٹی اور اس کے صدر کے خلاف مقدمات دائر ہونے شروع ہو جائیں گے۔ میرا یقین کریں یہ ہم ہی بےوقوف ہیں جو کہتے ہیں کہ اپنے پیارے کی موت کا سودا نہیں کرنا۔ امریکہ میں بہت کچھ ہو جاتا ہے۔
Popularity: 22%
Popularity: 22%
172 views
Related Posts
- ملک دے حالات بڑے بدلے کھلوتے On March 23, 2007, 5 Comments
- نومبر 2006 کے مڈ ٹرم الیکشن نے مجھے ایک بڑا فرق سمجھایا۔ امریکی سیاست اور پاکستانی سیاست میں۔ اب کوئی کہے اسلامی نظام ہونا چاہئے اور کوئے کہے برٹش نظام فرسودہ ہے۔ اب نئے قوانین لانے چاہئے۔ قوانین جتنے مرضی لے آئیں اگر ان پر عمل نہیں تو کچھ حاصل نہیں ہونے کا۔ امریکی سیاست
- Toyota Camry On August 22, 2007, 4 Comments
- flick of mind. :p I keep changing my mind. reason? I like new stuff. I don’t like real old stuff. I was going to buy a 2005 Honda civic. I found a 2006 Toyota Camry. 23000 miles on that. So I test drove it and I think I am going to buy this one.
- google adsense payments through westron union On October 6, 2007, 4 Comments
- Google announced a new way of payments to a few more countries other than check. Inclduing is Pakistan. A very interesting line in the official news reads as “This choice can also cut down on bank fees and long clearing times associated with depositing checks.”
- Harry Potter and the deathy hallows On February 2, 2007, 0 Comments
- Harry Potter, a fantastic novel but still you can critisize a lot on it while lovin it the most if you are childish like me. the book 7 is named “Harry Potter and the Deathly Hallows ” interested to buy? well you have to wait upto july 21st 2007. you can also pre-order this book
- پاکستان یا ہندوستان؟ On July 22, 2007, 4 Comments
- انڈیا اب بہت ترقی کر چکا ہے۔ یہ سنتے ہی میں نے کھڑکی سے باہر جھانکنا بند کیا جہاں سے میں بس کا انتظار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ (عام طور پر کہیں بیٹھنا پڑ جائے تو میں اسی نشت منتخب کرتا ہوں جہاں سے میرا view بڑا ہو کسی ایسی جگہ جہاں دیکھنے
- Visual DNA On May 24, 2007, 1 Comments
- Thanks to Zikria I came across this visual dna thing. seem like my type of pplz r very rare and we r about to vanish so save my kind Read my VisualDNA™ Get your own VisualDNA™ Popularity: 22%SHARETHIS.addEntry({ title: "cho", url: "http://www.badtamiz.com/blog/2007/04/21/cho/" });
- t3ch On May 31, 2007, 2 Comments
- Ok when is the time you are suppose to be most excited? when you plan to visit newyork city? nah. I can imagine qadeer ahmad rana’s face turning red to dark maroon into black with steam coming out of his ears muttering somethin in my honor. Before you say some find it our where I am? well if
- Shrek the Third On May 24, 2007, 0 Comments
- Ok Shrek the Third? latest from dream works, a disappointment. :(. first part was best. second was loosing its charm and third? totally lost it. Not much work over story line, no introduction to the new characters, seem liked finished in a hurry. To tell in a one liner, “There is no drama in shrek the third.”
- Battle of the Billionaires On March 18, 2007, 0 Comments
- I was a fan of stone cold steve austin. despite the fact that wwe follows the story line and each and every move in the show is pre-written. it was always fun to watch. I missed all that golden age of undertaker, stone cold, triple h, dx, the rock. but still I find old videos to
- Life as an American Female Soldier On November 3, 2007, 0 Comments
- War in iraq is no where near popular. Now media is allowed to publish what so ever. Mission accomplished. I heard now pk army has women soldiers too to conquer women lawyers Every person has a story some tell some don’t. 3 female soldiers tell the tale of what they been through. Its shocking
Random Posts







ڈفر’s last...
Aap ki is post ko un logo ko parhna chaiay jo musalman hotay howay bhi her burai ka zima dar musalmano ko mantay hain or jin kay nazdeek eourpian media Quran o Hadees jitna mustanad hay ,jo dahshat gardi kay her waqiay ko is tarah musalmano per thop detay hain jaisay unhon nay sab apni aankho say hotay dekha ho,