اس تصویر کو غور سے دیکھیں۔ آپ کہیں گے کہ اس میں ایسی کیا خاص بات ہے۔ یہ تو پہلے بھی لگائی تھی۔ اس میں یہ نیچے ایک کوکیز کا سفید ڈبہ نظر آ رہا ہے؟ اس کو کہتے ہیں بیک اپ۔
ٹی وی پر اکثر ایک اشتہار دیکھاتے ہیں کہ اسٹور میں شاپنگ کے دوران ایک فریق کارٹ میں کچھ رکھتا ہے اور دوسرا فریق وہ چیز نکال دیتا ہے۔ ہماری طرف بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ میں یا میرا کزن کارٹ میں کچھ بھی رکھے تو ہمارے ماموں جان اس کو نکال دیتے ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ آپ نے وال مارٹ کے ایک سرے پر کچھ رکھا اور پھر اگلی کی طرف چل پڑے جب تک دوسرے سرے تک پہنچیں گے وہ چیز کارٹ میں موجود نہیں ہو گی۔
جیسے یہ گورے بڑے چالاک ہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ ناشتہ عام طور پر ڈبل روٹی اور انڈوں کا ہوتا ہے۔ لہذا داخل ہوتے ہی سیدھے ہاتھ پر ڈبل روٹی کے ریکس ہیں اور کئی اقسام کی ڈبل روٹیاں اور دو تین مختلف برانڈز کی۔ جبکہ پاکستان میں دو اقسام کی اور کئی برانڈز کی ہوتی تھیں۔ اب انڈے یہاں نہیں ہونگے۔ وہ ہونگے سٹور کے بالکل آخر میں سب سے پیچھے۔ وجہ؟ تاکہ لوگ چلتے ہوئے کچھ نہ کچھ impulse buy بھی کر سکیں جیسے کوئی جوس نظر آ گیا یا کوکیز۔ وغیرہ وغیرہ۔
تو ڈبل روٹی کے پاس ہی یہی پر بیکری بھی ہوگی جس کے باہر مختلف اقسام کے کیک پڑے ہونگے۔ آپ نے ایک کیک کا ڈبہ اٹھا کر رکھا اور بڑی معصومیت سے لسٹ میں موجود اگلی شے دیکھنے کے لئے سبزی کے ڈھیر میں چھلانگ لگا دی اور اس کے بعد مختلف شیلفوں سے ہوتے ہوئے چل کر دوسرے سرے پر انڈوں تک پہنچے تو دیکھا کہ کیک کا ڈبہ غائب ہے۔ کیونکہ وہ نکالا جا چکا ہے۔ اب ایک دو دفعہ کے بعد آپ ٹرینڈ ہو جاتے ہیں۔ اب ماموں کے بچے تو ان کے ہیں لہذا ان کا ڈرنہ اور اجازت لینا بنتا ہے۔ میں چونکہ پاکستانی ہوں + بدتمیز لہذا میں یا تو کارٹ لے لیتا ہوں اور اگر لسٹ ہمارے گھر کی ہے تو اچھا نہیں لگتا کہ وہ چیزیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر رکھیں تو میں کیک یا کوکیز وغیرہ کو کسی بڑی چیز کے تھیلے کے نیچے رکھ دیتا ہوں اور وہ تبھی نظر آتی ہے جب اس کو کاؤنٹر پر چیک آؤٹ کرتے ہوئے رکھا جاتا ہے۔
وہاں پر بھی آپ کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک دفعہ ہمارے ماموں جان وہاں پر بھی نکلواتے نکلواتے رہ گئے ان کو وقت پر پکڑا نہیں تو گھر آ کر ہی پتہ چلنا تھا کہ ہوا کیا ہے۔
خیر کوکیز کا یہ ڈبہ 3 ڈالر میں ایک ملتا ہے اور اگر دو لو تو 5 ڈالر کے دو ملتے ہیں تو میں دو ہی لے لیتا ہوں ایک تو بچت ہو جاتی ہے دوسرا پتہ ہے کہ یہ تو دو دن میں ہی سب نے مل کر ختم کر دینے ہیں۔
اب اس تصویر کو دوبارہ دیکھیں ایک ڈبہ نظر آ رہا ہے دوسرا کہاں گیا؟ پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ بیک اپ تھا۔ آپ نے ایک ڈبہ چائے کہ کپ کے پاس سجایا ہوا تھا اور مسلسل کھا رہے تھے۔ اتنے میں امی آئیں اور کہا “اسی لئے موٹا ہوتا جا رہا ہے۔ ہر وقت کھانا ہر وقت کھانا۔ ابھی جب ڈنر کر لیا ہے تو پھر یہ الم غلم کھانے کا مطلب”؟ آپ نے شرافت کا عظیم الشان مظاہرہ کرتے ہوئے ڈبہ بند کر کے امی کو پکڑا دیا۔ امی کو پتہ ہے رات کو کچن سے کھڑکے کی آوازیں آتی رہتی ہیں لہذا وہ اس کو اپنے کمرے میں ٹیبل پر رکھ دیتی ہیں کہ اگر لینے آئے گا تو پتہ چل جائے گا۔
لیکن آپ بڑے مزے سے نیچے والا ڈبہ کھول کر اس میں سے کھانا شروع ہو جاتے ہیں تو اب آپ کو بیک اپ کی سمجھ لگی؟ اپنے کمپیوٹر کا وقت پر بیک اب لیتے رہیں۔ اور یاد رکھیں کل یا 23 کو وائرس ایکٹویٹ ہونا ہے لہذا کمپیوٹر کی گھڑیاں آگے پیچھے کر لیں اور بیک اپ تو ضرور لے لیں
Popularity: 14% [?]
Popularity: 14% [?]
229 views
Related Posts
- کریڈٹ کارڈ On February 26, 2007, 14 Comments
- امریکہ پہنج کر جب ہم سوشل سیکیورٹی کے دفتر سے ہو آئے تو اس کے چند دن بعد ہی سے ہمارے نام خطوط کا تانتا بندھ گیا۔ فلاں ایکسپریس یا فلاں ون یا فلاں یہ تو فلاں وہ۔ الغرض ہمیں اس خوش فہمی میں مبتلا کر دیا گیا کہ امریکہ بھر کے تمام ادارے ہمیں
- amazon credit card On March 21, 2007, 0 Comments
- I applied almost every where for a credit card . and Every body denied. Even my own bank. Today in my mail I found an envelop, amazon issued me the credit card and I think its a good idea to purchase the first thing with the new card at amazon.com.



























آہا ۔۔۔۔آپ تو واقعی اب تک پھول کر کُپا ہو چکیں گے۔ ارے بھائی اتنا مت کھائیے، کل کو کسی ائیرلائن جاب کیلیے اپلائی کیا تو وہ وزن کیوجہ سے رد کر دینگے۔ اور یہ 23 اپریل والا وائرس کا سچ ہے؟
ایک بیک اَپ یہاں پر بھی ہے
http://iabhopal.wordpress.com/2006/05/09/213/
سپر سٹورز میں ہر چیز کی جگہ باقاعدہ تحقیق کر کے بنائی جاتی ہے، اور مختلف کمپنیاں اپنی چیزوں کو مناسب جگہ پر رکھوانی کی کوشش کرتی ہیں۔ بڑی گیم ہے بھائی۔۔۔
سلام
ساجد اقبال: ائیر لائیں میں وزن عورتوں کے لئے مسئلہ بنتا ہے۔ باقی بندے میرے جیسے ہی ہوتے ہیں
جی یہ وائرس سچ ہے۔ میں نے 2003 میں ایک عقلمند کو کہا تھا کہ گھڑی آگے پیچھے کر لو۔ کہتا میں تو نیٹ چلاتا ہی نہیں۔ جب ہارڈ ڈسک بلینک ہو گئی اور کمپیوٹر نے چلنے سے انکار کر دیا تو پھر اس کو ہوش آئی۔
اجمل انکل: مجھے تو اس بیک اپ کی ککھ سمجھ نہیں لگی۔
فیصل: اسی گیم کی ایک جھلت تو میں نے عقل والوں کے لئے پیش کی ہے