ورجینیا ٹیک

 

یہ ایک کلاس روم ہے۔ دروازے کے دوسری طرف ایک جنونی شخص کھڑا ہے جس کی عمر 23 سال کے لگ بھگ ہے۔ دروازہ ٹیبل جوڑ کر بلاک کیا گیا ہے۔ تا کہ وہ شخص اندر نہ داخل ہو سکے۔ اس شخص نے کندھے کی ٹکر سے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن نہ کھول سکا۔ جھنجھلا کر اس نے دروازے پر دو فائر داغ دئے۔ کمرے کے اندر موجود طالب علموں کی حالت کا میں بخوبی اندازہ لگا سکتا ہوں۔ کیونکہ امریکہ میں ہر شخص کو کبھی نہ کبھی پستول کا رخ اپنی طرف دیکھنے کا اتفاق ایک دفعہ ضرور ہوتا ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں سے میرا تعارف میرے ایک دوست کی وجہ سے ہوا۔ یہ صاحب پاکستان میں بی سی ایس کو چھوڑ کر امریکہ جانے کی کوششوں میں تھے۔ انہوں نے مجھے اپنی یونیورسٹی کا ورچوئل ٹور دیکھنے کا لنک دیا تھا جس کو میں نے ڈائل اپ پر ساری رات لگا کر دیکھا تھا۔ اس کے بعد میری ایک دوست کے کینیڈا میں ٹورنٹو یونیورسٹی میں داخلہ لینے پر میں نے اس یونیورسٹی کا ورچوئل نظارہ کیا تھا۔ ہمارے ہاں کنال کی کوٹھیوں میں یونیورسٹیاں کھول کر ان کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔ جبکہ یہاں یونیورسٹی اپنے اندر پورا ایک شہر بسائے ہوتی ہے۔ ان میں ٹرین اسٹیشن بسوں کا اڈہ اور ٹیکسی اسٹینڈ تک ہوتا ہے۔ کئی سو ایکڑوں پر مشتمل یہ یونیورسٹیاں ہمارے زمین پر تلواریں لہرا کر دشمنوں کی فضائی بمباری کے جواب دینے کے اعلانات پر قہقہے لگا کر ہنستی ہیں۔

اس کمرے میں گھسنے کی کوشش کرنے سے دو گھنٹے قبل یہ صاحب ایک رہائشی بلڈنگ کی چوتھی منزل پر فائرنگ کر کے دو کو ہلاک اور کئی کو زخمی کر چکے تھے۔ اس کے بعد یہ نصف میل کا فاصلہ طے کر کے اس کلاس روم تک پہنچے تھے۔

ساتھ والے کمرے میں ان فائرز کی آواز گونجی تو سب لوگ بھاگ اٹھے۔ یہ فسٹ فلور تھا۔ کمرے کا دروازہ کھول کر بھاگنا موت کے منہ میں خود چل کر جانا تھا۔ سب لوگوں نے شیشے کی کھڑکیاں توڑ کر نیچے چھلانگ لگانا شروع کر دی۔ پروفیسر نے دروازہ بلاک کرنے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جنونی شخص نے اندر داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی۔

اس سے پہلے یا قبل یہ صاحب ایک اور کمرے میں داخل ہو کر ڈیڑھ منٹ تک فائر کرتے رہے تھے۔ انہوں نے داخل ہوتے ہی پروفیسر کو سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا اور اس کے بعد کھڑے ڈیڑھ منٹ تک گولیاں برساتے رہے۔ اس خونی کھیل کے بعد نامعلوم کس وجہ سے انہوں نے خود کشی کر لی۔ جبکہ پولیس کو ابھی تک ان کے کمرے سے ڈپریشن کے کسی قسم کے آثار نہیں ملے۔

کالے لوگوں کو عام طور پر افریکن کہا جاتا ہے۔ گوروں کو کاک ایشین کہا جاتا ہے۔ چائنیز یا پیلی رنگت والوں کو اورنٹیل کہا جاتا ہے۔ بچھے کھچوں کو ایشین یا انڈین کہہ کر پکار لیا جاتا ہے۔ جب کل امی نے مکڑیاں ناچتے دیکھی تو چینل چینج کر دیا۔ اس وقت جیو پر یہ واقعہ بریکنگ نیوز کے طور پر دیکھایا جا رہا تھا۔ مسلسل ایشیائی باشندے کی تکرار نے بڑا چوکنا کر دیا کہ پھر شامت آنے لگی ہے۔ ایک تو صدر بش نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہوئی۔ پھر پولیس نے بھی کل سارا دن اور رات اس باشندے کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا۔ یہاں کچھ انڈین تو اس ذکر خیر پر بڑے خوش نظر آئے کہ اب کسی پاکستانی کا نام لگنا ہے۔ اگر میڈیا ایشین کے بجائے اورنٹیل استعمال کرتا تو دل کو تسلی رہتی لیکن ایشین کی تکرار سے بدمزگی رہی۔ تھوڑی سی مدہم سی امید تھی کہ ساؤتھ ایشین یا انڈین نہیں کہا جا رہا تو کیا معلوم کون ہے۔ صبح خوشی ہوئی اور ہم انڈینز کا مزہ لیتے رہے۔

اس میں انتظامیہ کی طرف سے کچھ نہ بتانے کی وجہ سے تو مجھے پکا یقین تھا کہ اگر یہ ڈرامہ نہیں بھی تب بھی اس کو ڈرامہ بنانے کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تو صاحب موصوف گرل فرینڈ کے پیچھے گئے تھے۔ اب نامعلوم باقیوں کا کیا قصور تھا۔ ویسے میں اس یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا خواہشمند تھا۔ مجھے یہ بڑی پسند تھی۔ اور ارادہ تھا کہ اپلائی کر دوں۔ اب تو کوئی نہیں لینے دے گا۔

عام طور پر یونیورسٹیاں نو ڈرگ اینڈ ویپن زون ہوتی ہیں اب نامعلوم یونیورسٹی کے انتظامات کیسے تھے کہ یہ سب ہو گیا۔ ویسے یہاں اسکولوں میں فائرنگ معمول کی بات ہے۔ استاد نے ڈانٹا تو فائرنگ شروع۔ کسی سینئر سے لڑائ تو فائرنگ شروع۔ پچھلے سال 6 جون کو یہاں ہائی اسکول میں فائرنگ کا تھریٹ تھا کہ کچھ لوگ ڈیولز نمبر یا ڈے کی مناسبت سے ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میرے کزن نے بتایا تھا کہ کیسے حفاظتی انتظامات تھے۔ اب یہ سمجھ نہیں آئی کہ یونیورسٹی کو پچھلے ہفتے بم تھریٹ مل چکا تھا اور صبح 7 بجے فائرنگ ہوئی اور علم تھا کہ بندہ پکڑا نہیں گیا تو پھر 8 بجے کلاسز کیوں لگا دی گئیں؟ اور بم تھریٹ کے باوجود حفاظتی انتظامات کیوں نہ کئے گئے؟ نصف میل کے دوران اس کو کسی نے نہیں دیکھا؟ انہوں نے بھی نہیں جو رہائشی بلڈنگ میں تھے؟

خیر میں ان تمام لوگوں کو شکر گزار ہوں جنہوں نے میل کر کے یا میسج اور ایس ایم ایس کے ذریعے میری خیر خیریت کا پوچھا۔ اطمینان رکھئے میں ابھی تک زمین کے اوپر ہوں۔ ویسے بھی یہ یونیورسٹی یہاں سے بہت دور تھی۔ لہذا اس کے اثرات یہاں تک نہیں پہنچے گے۔ خاص طور پر اس شخص کے کورین ہونے کی وجہ سے دیسی لوگوں پر عتاب آنے کا چانس نہ ہونے کے برابر ہے۔

میرے شہر سے بلیکس برگ تک کا فاصلہ

Popularity: 8% [?]

Popularity: 8% [?]

208 views

 

 

Related Posts

    None Found

 

Random Posts


4 Responses to “ورجینیا ٹیک”

  1. 1 زکریا

    اورینٹل تو متروک ہو چکا۔ آجکل ایشین ہی استعمال ہوتا ہے پاکستانیوں سے لیکر جاپانیوں تک کے لئے

  2. 2 قدیر احمد

    اچھا ہے کہ تم پڑھتے نہیں ہو ۔ ورنہ تمہارا بھی یہی حشر ہوتا :P

  3. 3 Rashid Kamran

    بلکہ زکریا اب تو ایشین کی اصطلاح عمومی طور پر استعمال ہی چینی جاپانی اور ان سے ملتی جلتی دوسری قومیتوں کے لیے ہی ہوتی ہے۔۔ اور صاحب بلاگ آپ خاطر جمع رکھیے پاکستانی کا ذکر میں اب امریکن میڈیا کوئی سسپنس نہیں رکھتا۔
    اس واقع پر لازمی سی بات ہے کہ دکھ تو ہر انسان کو ہوتا ہی ہے مگر مجھے افسوس اس بات کا ہوا کے اگر یہی جنونی قاتل کوئی عرب، کوئی پاکستانی ہوتا تو پھر میڈیا اکیلے آدمی کا ٹرائل نہیں کرتا بلکہ اسکی پوری قوم، پورے مذہب کا ٹرائل ہوتا اور امریکی فوجوں کو ایک اور حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم مل جاتا۔۔ بہرحال قاتل صاحب کے لکھے ہوئے دو ڈرامے میں نے بھی پڑھے ۔۔ سجمھ نہیں آئے شروع کہاں سے ہوئے اور ختم کہاں پر۔۔ لیکن ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کے انکے ڈرامے پڑھ کر لگا کے یہ اسکول شوٹر بنے گا۔۔

  4. 4 بدتمیز

    سلام

    زکریا: بہت شکریہ۔

    قدیر احمد رانا ملتانی: مرنے کے لے پڑھنا ضروری نہیں اور تمکو کیا علم کہ میں پڑھتا ہوں کہ نہیں؟ :P

    راشد کامران: نہیں خاطر تو جمع ہی تھی ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اس سے کیا کھولا جائے گا اور کیا بند کیا جائے گا۔ عتاب کہاں نازل ہو گا۔
    ہاں یہی وہ پوائنت ہے جس پر سب پریشان تھے کہ پھر امت مسلمہ کی شامت ٓآتی تھی۔
    اس قاتل کی حرکات پر یونیورسٹی کو جلد ہی بہت سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • DuFFeR - ڈفر: احسان کی قیمت ہوتی ہی کب ہے؟ .-= DuFFeR – ڈفر´s last blog...
    • DuFFeR - ڈفر: نا یار میرے متعلق اپنی رائے مت بدلو میں نے تو سیدھا...
    • کنفیوز کامی: ٹھیک کیا اے پا جی :cool:
    • نبیل: اس مرتبہ نشانے پرکون ہے؟
    • بلوُ: احسان کی قیمت وصول کر لی جائے تو قیمت دینے والا بھی احسان...
    • میرا پاکستان: جعفر صاحب، پہلا ہی جواب کافی تھا لیکن ہو سکتا ہے آپ...
    • افتخار اجمل بھوپال: میرے خیال کے مطابق جو احسان صرف اللہ کی...
    • ریحان: واہ
    • جعفر: ======================== احسان کی قیمت حاصل کر لی جائے تو پھر احسان...
    • جعفر: بالکل ٹھیک۔۔۔ پھر وہ احسان اللہ وڑائچ بن جاتا ہے ۔۔۔۔ :mrgreen: ...

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 748
    • Links to posts: 73
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (47) جہیز (42) سب سے پہلے پاکستان (33)
    • Comments: 2446
    • Comments per post: 3.27
    • Top3 commenters: -بدتمیز (596) -راہبر (87) -راشد کامران (77)
    • Pagerank: 0
    • Alexarank: 392913

     

    اردو بلاگرز

    Powered by SideRSS Plugin

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->