ائرپورٹ سے ہم نے جہانزیب کو فون کیا کہ سر ہم نیویارک کو اپنی آمد کے شرف سے نواز چکے ہیں اب آپ اپنی ملاقات سے بہرہ مند کریں۔ جہانزیب کو سوتے سے جگایا تھا افسوس تو ہوا لیکن دل کو تسلی دی کوئی بات نہیں ان کے اٹھنے کا وقت ہوا ہی چاہتا تھا۔
جانے سے پہلے ہم نے جہانزیب سے پوچھا تھا کہ کچھ چاہئے تو بتا دیں انہوں نے آگے سے ہنسنا شروع کر دیا۔ اچھا کیا کچھ منگوا نہیں لیا میں نے کونسا سچ مچ لے جانا تھا۔:D
جہانزیب ایک گھنٹے میں پہنچ گئے۔ میرا نہیں خیال انہوں نے تیار ہونے میں وقت لگایا ہو گا۔ ابھی بیگم کے آنے میں اور ان کو ائیرپورٹ جا کر ریسیو کرنے میں کافی وقت ہے۔ اتنی دیر ان کو ٹریفک کی وجہ سے ہو گئی۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا “یار تم تو سچ مچ موٹے ہو”
جہانزیب کی میں نے تصویریں تو لیں تھیں لیکن پوچھنا بھول گیا کہ لگا دوں یا نہیں۔ لہذا ابھی نہیں لگا رہا اگر ان سے اجازت مل گئی تو لگا دونگا۔ ورنہ یہ نہ ہو وہ بدلے میں میری تصویر کہیں سے ڈھونڈ کر لگا دیں۔ پھر تو بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔
جہانزیب کی مدد سے ہم انکل کے عزیز کے گھر پہنچے وہاں انکل وغیرہ رہ گئے ہم جہانزیب کے ساتھ نکلے۔ جہانزیب کے ساتھ ہم نے دو تین بونگیاں لگائیں وہ بھی سوچتے ہونگے یہ کیا چیز آٗی تھی۔:D
پھر جہانزیب ہمیں لے کر ڈنر کرانے لے گئے۔ نیویارک میں گاڑیاں بہت ہو چکی ہیں۔ اتنی کہ پارکنگ کی جگہ ختم ہو چکی ہے۔ بقول جہانزیب ایک عام نیویارکر کے پاس دو گاڑیاں ہیں۔ دیکھ کر یقین آگیا۔ ہر جگہ گاڑیاں کھڑی ہیں۔
جہاں ہم نے کھانا کھایا وہاں جہانزیب نے کار پارک کرتے وقت کہا بھی کہ کیمرہ ساتھ لے جاؤ لیکن میں نے گاڑی میں ہی چھوڑ دیا۔ دو ہی منٹ بعد افسوس ہونا شروع ہو گیا۔ ایک جگہ پر دو تین سٹریٹ وینڈرز کھڑے تھے ان کی تصویر لینی چاہئے تھی۔ دوسرا افسوس “روٹی بوٹی” پر جا کر ہوا۔ وہاں کاؤنٹر پر محمدی مسجھ کے لئے چندہ جمع کرنے کا باکس پڑھا ہوا تھا۔ یہ باکس امریکہ میں بھی خاص اس مقصد کے لئے پاکستان سے امپورٹ شدہ لگتا تھا۔
کھانے کی ٹیبل جو ہم نے پسند کی وہ ذرا ان بیلینس تھی۔ جتنی میں دوسری کی طرف دیکھا ایک آنٹی اس کی کرسی گھسیٹ کے لے جا چکی تھیں۔ ہم ذرا ہاتھ دھونے کے لئے گئے تو واش بیسن ان کے باورچی خانہ کے آگے لگا ہوا تھا۔ خان صاحب کی قدر انہی تندوروں والے ہوٹلوں پر ہے جہاں اندر یہ فل آواز میں بجتے ہیں اور باہر بڑی اسکرین پر ٹی وی دیکھا جا رہا ہوتا ہے۔ْ دل تو چاہا کہ تھوڑی دیر خان صاحب کو سن لوں لیکن پیچھے باتھ روم تھے
کھانے پر ہم نے پہلی بونگی ماری۔ نہاری کا آرڈر دیا تھا۔ پاکستان میں تو ہوتا تھا کہ جس پلیٹ میں نہاری آتی تھی ہم اسی میں شروع ہو جاتے تھے۔ یہاں ڈونگے جیسی پلیٹ تھی۔ لہذا ہم اسی میں شروع ہو گئے۔ جہانزیب نے کہا کہ اس کو پلیٹ میں ڈال لو۔ مجھے بڑی شرمندگی ہوئی۔ اب ہنسی آتی ہے کہ کیا بےوقوفی ماری تھی۔
دوسری بےوقوفی تب ماری جب جہانزیب نے بل پے کیا۔ جہانزیب بل پے کر رہے ہیں اور ہم بڑی معصومیت سے چپ کر کے بیٹھے ہیں۔ ذرا پھوٹے منہ نہیں کہا کہ بل میں دے دیتا ہوں۔ سچ کہوں میں اس ویٹرس کی وجہ سے بڑا پزل تھا۔ کم بخت نے پہلے مجھے ایسے دیکھا جیسے قصائی مرغی کو ذبح کرنے سے پہلے دیکھتا ہے پھر بل میرے آگے رکھ دیا اور بات جہانزیب سے کرے۔ اور اتنے نزدیک اس سے پہلے ایک ہی خاتون ہوئی تھی اور وہ تھیں باربر شاپ کی بال کاٹنے والی۔
دل کو یہ کہہ کر تسلی دی ہوئی ہے کہ اگلی دفعہ بل میں پے کر دونگا۔
اسکے بعد جہانزیب نے سارے نیویارک کی سیر کرائی۔ جہانزیب کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔ انہوں نے جاب پر جانا تھا لیکن میری وجہ سے ان کو چھٹی کرنا پڑ گئی اور بڑے پکے منہ سے جھوٹ بولیں کہ ویک اینڈ پر جانا نہیں ہوتا۔ ان کو کسی نے جاب پر آنے کے لئے فون بھی کیا تھا۔
پہلی تصویر سے پتہ چلتا ہے نہ کہ کتنی تیز رفتار زندگی اور گاڑیاں ہیں۔
اس کے بعد ہم جہانزیب کے گھر چلے گئے۔ ان کے کمپیوٹر پر اوبنٹو انسٹال تھا۔ ذرا مزہ نہیں آیا استعمال کرنے کا۔ شائد تھکن کا بھی ہاتھ تھا۔ پھر ہم بیٹھے ٹی وی دیکھتے رہے۔ اس کے بعدقدیر احمد راناا کو فون کیا۔ قدیر کو انہوں نے خوب الو بنایا۔ قدیر کی کھانے کھاتے ہوئے آواز بند ہو جاتی ہے۔ اس کا جواب نہیں ملا کہ اور کس کس وقت ان کی آواز بند ہو جاتی ہے۔ قدیر جب بھی واپس آیا اس نے کافی شامت مچانی ہے۔
پھر ہم نے سونے کی ٹھانی اور جا کر بستر میں گھس گئے۔ جہانزیب ساری رات جاگتے رہے اور کہیں کال کرتے رہے۔ یہ تو قدیر اچھی طرح بوجھ سکتا ہے کہ کہاں کال کرتے رہے۔
صبح اٹھ کر ہم نے تیسری بونگی ماری۔ جہانزیب اپنے کچھ عزیزوں سے بات کر رہے تھے اور ہم بڑے مزے سے بیٹھے تھے جب ہوش کیا تب دیر نہیں ہوئی تھی لہذا جا کر کمپیوٹر پر بیٹھ گیا۔ جہانزیب بھی کہہ رہے ہونگے یہ کیا بونگا تھا۔
خیر پھر واپسی کا سفر تھا جہانزیب ہمیں واپس ڈراپ کرنے آئے۔ ہمارے انکل اور جہانزیب کی پنجابی کافی مزے کی گفتگو تھی جیسے اوٹیاں کیا ہوتا ہے پوچھنا تھا لیکن گفتگو اسقدر تیزی سے ہو رہی تھی کہ پوچھنے کا حوصلہ ہی نہیں پڑا۔
جہانزیب آپ کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔ اس قدر اچھا ریسپشن کہاں کسی کو ملتا ہے؟ اس ریسپشن پر قدیر جل بھن کر سڑ اٹھے گا۔ اس کو تو خود تجربہ ہے۔
Popularity: 7% [?]
Popularity: 7% [?]
249 views
Related Posts
- None Found































یہ تحریر آپ نے قدیر احمد رانا کیلئے لکھی ہے اسلئے میں کوئی تبصرہ نہیں کہ رہا ۔
Lolz, tum tau buhat chaizain note kertay ho? jesay masjad ka chanday wala box, maine tau kabhi nahi dekha
aur jitna maza ubuntu use kerne main hai itna windows main nahi, ya shayad mujay aisa lagta hai.
lolzzzzzzz for “saari raat call” mera khiyal hai aap sowy howay thay :O
aur jin baaton pe aap shirminda howay woh maine note bhi nahi ki and pic pehlay mujay tau dikhaao, usaully i dont like posting my pics.. phir bhi it is upto you.
سلام
اجمل انکل آپ کچھ لکھیں یا نہ لکھیں یہ تو بتائیں ذرا آپ کے بلاگ پر میرے کمنٹس کیوں نہیں ظاہر ہوتے؟ میں کمنٹ کرتا ہوں تو کچھ میسج نہیں آتا کہ پڑتال کے لئے گئے ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد جب دو تین دنوں بعد دیکھو تب بھی نشتہ۔ کہیں آپ ناراض ہو کر ان کو منظور کرنے سے گریز تو نہیں کر رہے؟
جہانزیب: لیں میں 48 گھنٹوں میں صرف 4 گھنٹے سویا تھا لہذا بستر میں گھستے ہی سو گیا تھا۔ جب صبح آپ نے کہا تھا کہ میں تو ساری رات جاگتا رہا تو میں نے پوچھا تھا کہ کیوں کیا کرتے رہے تو آپ نے کہا تھا کہ فون کرتا رہا کوئی نہیں اٹھاتا نہ گھر والے پر نہ موبائل پر :p
اس لئے لکھا کہ آُپ ساری رات فون کرتے رہے۔ اب مجھے کیا پتہ تھا کہ سچ مچ کرتے رہے اور اب گھبرا گئے ہیں۔
میں نے تصویریں آپ کو میل کر دی ہیں اور جیسے آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں پسند تو نہیں کر رہا۔
شکر ہے جہانزیب صاحب نے آپ کی میزبانی ڈھنگ سے کی ورنہ آ٫ بھی قدیر کی طرح گلے شکوے کرنے لگتے۔
نیویارک ایسی جگہ ہے جس کی سیر تو کی جاسکتی ہے مگر وہاں رہا نہیں جاسکتا۔ نیویارک میں جو رہنے کی اچھی جگہیں ہیں وہ عام آدمی کے بجٹ سے زیادہ ہیں جو افورڈایبل ہیں وہاں اتنا شور ہے کہ دماغ پھٹنے لگتا ہے۔ ایک بات ہے اگر آپ اس شور میں رہنے کے ایک بار عادی ہوجائیں توپھر آپ کا کہیں اور دل نہیں لگے گا۔
سلام
میرا پاکستان اسی بات کا تو شکر ہے۔ ورنہ قدیر نے تو کہہ کر اپنا حال بیان کر دیا۔ میں تو کچھ کہنے جوگا بھی نہٰن رہتا۔
ویسے کیا خیال ہے کبھی ہم مل کر ٓپ سے ملنے نہ آ جاءیں؟ کینیڈ تو ویسے بھی دیکھنے والی جگہ ہے،
نیویارک میں شور ہے ہے اور گند بھی۔ لیکن کچھ اچھی جگہیں بھی ہیں۔ واقعی سب وہاں کے ہماری طرف کا رخ نہین کرتے کہ یہ سادی سی جگہ ان کو پسند نہٰں ٓتی۔