امریکہ میں آجکل ٹیکس سیزن ہے۔ اپریل کی 14 تاریخ تک ٹیکس جمع کرانا ہوتا ہے۔ صدر بش اس ٹیکس سے کافی مزے کرتے ہیں۔ ان کے دو ہی شوق ہیں ایک جنگیں لڑنا دوسرا اپنی قوم کو نئے سرے سے عیسائی کرنا۔ میرے خیال سے صدر بش کسی مدرسے کے پڑھے ہوئے ہیں۔ جیسے ہم لوگ مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان کر کر کے خوش ہوتے رہتے ہیں ویسے ہی صدر بش بھی عیسائیوں کو نئے سرے سے عیسائی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے صدر کے پاس دو سال سے بھی کم وقت کا عرصہ رہ گیا ہے۔
اوہائیو امریکہ کی ایک اہم اسٹیٹ ہے۔ ویسے تو اگر کوئی عام سی شے بھی امریکی ہو جائے تو اہم ہو جاتی ہے لیکن اس اسٹیٹ کو بااختیار اسٹیٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے صدر بش کے شروع کئے ہوئے پروگرام جس میں ٹیکس سے اکٹھی کی گئی “دولت” کو اسٹیٹ کے غریب اسکولوں کو فنڈ کے نام پر اس شرط سے منسلک کر کے دینے کہ وہ اپنے اسکول میں ایک مخصوص مذہبی لٹریچر پڑھائیں گے کے خلاف فیصلہ دے کر یہ کام وہاں بند کروا دیا ہے۔ اس سے قبل کیلیفورنیا، مین، نیو جرسی، پنسلوانیا اور وسکنسن کی اسٹیٹس نے اس کے خلاف فیصلہ دے کر اپنے ہاں اس کام کو بند کروا دیا ہے۔
ہمارے چھوٹے موٹے دانشور اکثر مذہبی انتہا پسندی کو مسلمانوں سے جوڑ دیتے ہیں۔ میرے خیال سے یہ خود انتہا پسندی کا ثبوت دیتے ہیں۔ انسان انتہا پسند ہوتا ہے مذہب یا عقیدہ نہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے صدر بش کی صدارتی زندگی اور عمال سے آگاہی لازمی قرار دے دینی چاہئے۔ صدر بش نے اپنے دور صدارت میں صدر پرویز مشرف سے سبق سیکھتے ہوئے ہر ایری غیری پوسٹ سے لے کر انتہائی اہم عہدوں پر مذہبی انتہا پسند تعینات کئے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے صدر مشرف نے ہر محکمے اور ہر اینٹ پر فوجی تعینات کئے ہیں۔
بدقسمتی سے میں اس اہم ترین خبر کو لاکھ کوشش کے باوجود نہیں ڈھونڈ سکا جسمیں صدر بش کے مذہبی انتہا پسندی اور اس لٹریچر کے متعلق کچھ معلومات مہیا تھیں۔ ویسے یہ ہماری بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ امریکہ کا آئین پاکستان کے آئین کے طرز کا نہیں اور صدر بش نے صدر مشرف سے “چمٹنے” کے بارے میں کوئی کلاس نہیں لے لی ورنہ ہم صدر بش سے تاحیات مستفید ہوتے۔ گوروں پر اللہ رحم کرے مارتے ہیں لیکن بیچ میں تھوڑی بریک دے دیتے ہیں
Popularity: 18% [?]
Popularity: 18% [?]
306 views
Related Posts
- None Found



























مجھے کسی غیر مسلم سے گلہ نہیں کہ وہ اسلام کو انتہاء پسند کہیں لیکن ان نام نہاد مسلمانوں کا کیا کیا جائے کہ جن کو اسلام کی الف بے بھی معلوم نہیں اور وہ اسلام کو اور اسلام پر عمل کی کوشش کرنے والوں کو انتہاء پسند کہتے ہیں ۔ جتنے متعصب ۔ انتہاء پسند اور شقی القلب یہودی ۔ عیسائی اور ہندو ہیں اتنا کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا ۔
شائد آپ نے میرے بلاگ پر یا کسی اور بلاگ پر اپنے ہموطنوں کی لکھی میری جاہلیت اور انتہاء پسندی کی داستانیں پڑھی ہوں ۔ ان لوگوں سے اگر کوئی میری زندگی سے واقف اچانک آمنے سامنے تعارف کروا دے تو ان میں سے اکثر غش کھا کر گر پڑیں ۔ جتنی جدوجہد میں نے ملائیت کے خلاف کی ہے تا کہ وہ اللہ کے دین کی طرف عوام کو راغب کریں ۔ یہ نکتہ چین وہ خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتے ۔ اس جدو جہد کا آغاز میں نے 1957 میں کیا تھا ۔
ساری بات پیسے کی ہے، لوگ جتنا خوفزدہ ہوں گے اتنے ہی ڈالر انکی جیب سے نکلیں گے، جان تو ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے نا؟ بش صاحب کی انہا پسندی بھی کچھ اسی قسم کی ہے، ویسے عیسائیوں کے بہت سے فرقوں میں یہودی علما کا کافی عمل دخل ہے، امید ہے سمجھ گئے ہوں گے آپ۔
ہمیں تو غیروں سے زیادہ اپنے دھشت گرد کہتے ہیں ۔۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں کا فرق ہی نہیں سمجھ سکتے ۔ ۔۔
جہاں تک مذہبی انتہا پسندی کا تعلق ہے اسلام کے ساتھ اسکی وابستگی بہت ہی نئی ہے جس میں کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کا ہاتھ رہا ہے۔۔ جبکہ عیسائی اور یہودی مذہبی انتہا پسندی کی داستانیں بہت ہی قدیم ہیں اور آج بھی جاری و ساری ہیں۔ مسلمانوں پر مذہبی انتہا پسندی کا لیبل کیوں لگا اسکے لیے بجائے ہم کسی اور کو کوسیں میں سمجھتا ہوں اپنے ہی گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کے کس طرح ہم نے پاپائیت اور ملائیت کو مذہب کا حصہ بنایا اور اب انکی بوئی ہوئی فصل پھل دے رہی ہے تو ہم واویلہ کر رہے ہیں اور اسے یہودونصاری کی سازش قرار دے رہے ہیں۔۔ آخر ہم ہی کیوں ہمیشہ سازش کا شکار ہوتے ہیں ؟ یا ہم اپنے کرتوتوں کا الزام یہودونصاری کے سر تھوپتے ہیں؟ کون سا یہودی ہمارے سروں پر بندوق لے کر کھڑا ہے کے رشوت لو اور دو لیکن اسکے باوجود یہ برائی اسلامی ممالک میں بھی پوری شدو مد کے ساتھ جاری ہے ؟۔۔
سلام
اجمل انکل: ایسے بےچاروں کو کچھ نہ بھی کہا جاءے تو یہ بڑی جلدی رونے لگ جاتے ہیں۔ بہیودگی پر اتر آتے ہیں۔
فیصل: ٓآپ نے بڑے مزے کی بات کی۔ بات کچھ ایسی ہی ہے۔
اظیر: ذرا آہستہ بولیں اپنے پھر شروع ہو سکتے ہین۔
راشد کامران: میں بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ یہ سب نیا نہیں اس سے دنیا کی مختلف قومیں نبرد آزما ہو چکی ہیں یہ ہم مسلمانوں کی بےوقوفی ہے کہ ہم اس کا صیح تجزیہ نہیں کرتے اور جہالت کے مارے بات اسلام پر ڈال دیتے ہیں۔
ویسے کچھ نادیدہ بندوقیں بھی ہوتی ہیں جسمانی موجودگی ضروری نہیں یہ ہمارے اندر تک سرائیت کرا دی گءی ہے۔
وہ ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں کا فرق ہی نہیں سمجھ سکتے
Mullah assemblioon main bethay hain aur mujahid khus kash humlay kur rhay hain…faraq to hai lekin faida kia?