بےوقوف
209 views Published March 28th, 2007 in پاکستان نامہ.محفل پر ایک تصویر دیکھی۔ یہ ایک فلسطینی عورت تھی جس کے احتجاج پر اسرائیل فوجی نے اس پر کتا چھوڑ دیا تھا۔ ایک بوڑھی عورت جس میں اتنی ہمت تک نہیں کہ زمین سے پتھر اٹھا کر پھینک سکے۔ اس کے پاس ہے ہی کیا؟ سوائے ایک زبان کے جس سے وہ احتجاج کر سکتی ہے۔
کسی شخص کا قول ہے کہ تاریخ کبھی مفتوحہ کے قلم سے نہیں لکھی جاتی۔ یہ ہمیشہ فاتح کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔ بدقسمتی مسلمانوں کی کہ ان کی تاریخ بھی کسی اور قلم سے لکھی جا رہی ہے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا جاپان کو ہے۔
دوسری جنگ عظیم میں جاپان کو ہارنا پڑا۔ کس درندگی کی وجہ سے؟ یہ سب کو معلوم ہے۔ لیکن چونکہ جاپان ہار گیا تھا لہذا اب اس کو ہر سال کسی نہ کسی بات پر معافی مانگنا پڑ جاتی ہے اور جس سال کوئی بات نہیں ملتی اس سال پچھلی کسی معافی کو دوبارہ مانگنا پڑ جاتا ہے۔
3 ہفتہ قبل جاپانی پرائم منسٹر نے ایک بیان دیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ جاپانی فوج نے جنگ عظیم کے دوران ساؤتھ کوریا اور چین کی لاکھوں عورتوں کو اپنے فوجی کیمپوں میں کام کرنے پر زبردستی مجبور کیا۔ اس میں سب سے گھناؤنی بات باقی کاموں کے ساتھ ساتھ جنسی غلامی تھی۔
ان کے اس بیان کے بعد دونوں ملکوں کی طرف سے شدید احتجاج سامنے آیا۔ نتیجتا جاپانی وزیر نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی۔ اس سے قبل 1993 میں جاپانی گورنمنٹ کے ایک اعلی عہدیدار، چاپانی فوج کے دوسری جنگ عظیم دوئم کے اس عمل پر معافی مانگ چکے ہیں۔
ان دونوں قصوں میں کیا مطابقت ہوئی؟ دونوں میں کمزور پس گئے۔ اگر فلسطین کے پاس کسی معجزے کے تحت رات بھر میں ایٹم بم ہی آ جائے تو کیا اسرائیل کی اتنی ہمت ہو سکتی ہے کہ وہ بارڈر کراس کر سکے؟ اگر دوسری جنگ عظیم کے دوران چین اور ساؤتھ کوریا کے پاس جاپانی طاقت کے مقابل طاقت اور اسلحہ ہوتا اور وہ امن امن کی رٹ لگا کر سوئے نہ پڑے ہوتے تو کیا ان کی لاکھوں خواتین کو اس تشدد کا سامن کرنا پڑتا جو ان کے ساتھ ہوا؟
اسلحہ اور جدید ترین اسلحہ امن کی ضمانت ہے۔ کچھ ایسے ملک جن کی معیشت اور اقتصادیات ایک دوسرے سے ایسے جڑی ہوئی ہیں کہ ایک دوسرے کے بغیر ان کا گزارہ نہیں صرف وہی اس ضمانت سے چھٹکارا حاصل کر پائے ہیں۔ باقی سب کو کسی نہ کسی سے خطرہ ہے۔ ایسے میں صرف مسلمان ایک ایسی واحد قوم ہے جس کے افراد کو اکثر یہ کہا سنا جا سکتا ہے کہ جی اکثر احکامات ابتدائی دور کے لئے تھے اب کے لئے نہیں۔ اس کے بعد دوسرا استدلال ہمیشہ اسی بات پر ہوتا ہے کہ نہیں جی سیاق و سباق دیکھیں۔ یعنی اللہ کو اتنا علم نہیں تھا کہ اس کا کہا صرف ابتدائی پانچ سو برسوں کا ہے۔ اس کے بعد مسلمان اس قدر عقلمند ہو جائیں گے کہ اللہ پر دوسری قوموں کی عقل کو ترجیح دیں گیں۔
ڈسکوری چینل پر فیوچر ویپن کے نام سے ایک اچھا پروگرام آتا ہے۔ میری ان تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اس کو توجہ سے دیکھیں اور حیران ضرور ہوں بلکہ ساتھ میں تھوڑا پریشان بھی ہوں لیکن دماغ حاضر رکھ کر اس پروگرام میں جو وہ کہہ رہا ہے اس پر بھی غور کریں۔ اور دیکھیں کہ اگر اس کا پروگرام کوئی مغربی فرد دیکھ رہا ہے تو وہ کیسے جوش میں آتا ہو گا۔
Popularity: 20%
Popularity: 20%
209 views
Related Posts
- None Found
Random Posts







جب آخرت پر سے ایمان اٹھ جائے تو پھر مسلمان کے سدھرنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہر کوئی ڈیڑھ اینت کی مسجد الگ بنالیتا ہے اور یہ آج کے دور میں واقعی ہورہا ہے۔ جس مسلمان سے بات کرو اس کا دین سب سے الگ ہے۔ یہی ہماری سب سے بڑی خرابی ہے۔ اب آپ عرب ملکووں کی کانفرنس کو دیکھ لیں سب کہیں گے کہ انہیں دوسروں سے زیادہ حالات کی خبر ہے مگر مجال ہے کہ ملکر بیٹھنے کی تدبیر کریں۔ جب اسلامی ملکوں کی کانفرنس کامیاب ہو نہیں سکی تو عرب ملکوں کی کیسے کامیاب ہوگی۔ خدا ہی ہمیں متحد کرے سو کرے وگرنہ ہم تو بکھرے پڑے ہیں۔
Tum jo likhtay ho woh meray dil ki baat kion hoti hay!!!!!
shaaid her samajh daar aadmi aisay hi sonchta hay kion;)
tum jaisay badtameezo ki hamari qoom ko sakht zarorat hay,
ab khudara or ziada phool na jana:)
Abdullah: You are fully mistaken. I strongly urge you not to come in the Chakkar of this badtameez.
میں عبداللہ صاحب کی طرح سمجھدار نہیں ہوں لیکن میرا خیال یہ ہے کوئی شخص جب اپنا وہ مسلک چھوڑ دے جو اس کی پہچان ہے تو وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔ اس کائنات کے پیدا کرنے والے نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو مگر اُنہوں نے مخلوق میں سے ظاہری طاقتور کی رسی پکڑنے کی کوشش کی اور اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔
Ajmal sahab Allah ki rasi mazboti say na thamnay denay main aap jaisay logon ka bohat bra hath hay,
Aap jaisay log jin kay qol or fail main zameen or aasman jitna tazad hay:)