جانا ہمارا امریکہ کو
155 views Published March 22nd, 2007 in جانا ہمارا امریکہ کو.مجھے کافی سارے لوگوں کے باہر جانے کی داستان پتہ ہے۔ یہ داستانیں عبرت حاصل کرنے کے لئے کافی ہیں۔ بیان کروں تو سمجھا جائے گا کہ میں باہر جانے کے طریقے بیان کر رہا ہوں۔
ویسے ان ساری داستانوں سے مجھ ڈھیٹ نے عبرت کہاں پکڑنی تھی الٹا امریکہ کے سیکیورٹی انتظامات کا اندازہ ہو گیا۔ برطانیہ کے بارے میں تو خود بی بی سی کی رپورٹر نے بھانڈا پھوڑا تھا۔ اس لئے اپنی ہی داستان لکھ رہا ہوں۔ اگر کسی اور بلاگر نے بھی اپنے باہر تشریف لے جانے کے بارے میں معلومات فراہم کرنی ہوں تو اس کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ پاکستان میں باہر جانے کے نام پر لوگ لاکھوں روپے ایجنٹس کو دیتے ہیں حالانکہ تھوڑی عقل سے کوشش کریں تو چند ہزار میں اپنا کام نکال لیں۔
یہ مارچ 2005 کے پہلے دس دنوں کا حال ہے۔ ہم اپنے دوست کے استقبال کے لئے دروازہ کھولنے نکلے۔ صحن میں ایک لفافہ پڑا ہوا تھا۔ پڑھتے ساتھ ہی موڈ خراب ہو گیا۔ امریکی سفارتخانہ نے اطلاع کی تھی کہ 2 سال ہونے کو آئے آپکا ویزہ نمبر آیا پڑا ہے۔ یہ آخری اطلاع ہے۔ اس کے ایک سال کے اندر اپنے ڈاکیومنٹس مکمل کر کے بھیجیں ورنہ آپکا کیس کلوز کر دیا جائے گا۔
چونکہ امریکی سفارتخانے کو ابو کے بارے میں مکمل اطلاع تھیں کہ ٹال مٹول کرنے میں ماسٹرز کیا ہوا ہے لہذا انہوں نے ایک اسی قسم کا لیٹر امریکہ میں موجود صاحب کو بھی کر دیا کہ معاملہ کیا ہے۔ بعد میں نہ کہنا کہ اتنے سالوں ٹیکس پے کیا اور امریکہ نے ہاتھ کر دیا۔
اس قسم کی اطلاع کہیں اور جائے تو لوگوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ابا جان نے لیٹر اڑا دیا۔ ارشاد ہوا کیا کرنا دفعہ کرو۔ دیکھیں گیں سوچیں گیں۔ جب امریکہ سے فون آیا تب بھی یہی یا اس سے ملتے جلتے بیانات۔ ہم ان کے سر ہوں کہ کچھ سوچیں اور وہ کہیں کہ ہاں سوچیں گیں۔ اسی چکر میں مارچ گزر گیا۔
اگلی قسط اسی دن پوسٹ کرونگا جب اس معاملے پر کچھ پیش رفت ہوئی تھی۔ تاکہ آپ بخوبی ہمارے ابا جان کی ٹال مٹول اور مجھ معصوم کی حالت کا اندازہ کر سکیں۔
Popularity: 10%
Popularity: 10%
155 views
Related Posts
- None Found
Random Posts









0 Responses to “جانا ہمارا امریکہ کو”
Please Wait
Leave a Reply