میں colonial heights میں رہتا ہوں۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی آبادی 17000 سے کچھ اوپر ہے۔ پاکستانی معیارات سے یہ اسلام آباد کے کسی سیکٹر کی طرز کا ہے لیکن امریکی معیارات سے یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔
یہاں ہر شہر میں سٹی کونسل ہوتی ہے اور اس میں عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں جن کے ذمے شہر کے مختلف کام سرانجام دینے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارے مئیر جان ٹی ووڈ نے تجویز پیش کی ہے کہ چونکہ سٹی کونسل کے ممبران اور وہ شہر کے لئے بہت کام کر رہے ہیں اور ان کی تنخواہ کم ہے لہذا ان کی تنخواہ میں اضافہ کرنا چاہئے۔
ابھی صدر کو 7000 ڈالر سالانہ مل رہے ہیں جبکہ ممبران کو 6500 ڈالر سالانہ ادا کئے جا رہے ہیں۔ سٹی کونسل کے ممبران کی میٹنگ ہر ماہ ایک دفعہ لازمی اور دو دفعہ عموما ہو ہی جاتی ہے۔ کل رات ہونے والی میٹنگ کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اس میں اس اضافے کی بات ہو گی۔ ممبران اپنی تنخواہ میں اضافے کا اختیار رکھتے ہیں لیکن 1992 سے ابھی تک انہوں نے اپنی تنخواہ میں اضافے کو ہر سال رد کیا ہے۔
ایک خاتون ممبر نے کہا کہ ان کے خیال سے تنخواہ میں اضافہ ضروری نہیں ہے اس اضافی 50000 ڈالر سالانہ سے جو ہم سب ممبران کو ملیں گے ہم شہر کی ترقی کے کئے کام کر سکتے ہیں۔
بیٹسی جی لک نے کہا کہ بجائے ایک دم سب کی تنخواہ کو دوگنا کرنے کے بجائے اس کو کچھ کچھ وقفے سے تھوڑا تھوڑا بڑھایا جائے۔ کیونکہ یہ ان کے خیال سے صیح نہیں اور عوام تو بالکل اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ دوسرے میں چاہتی ہوں کہ دوسرے شہروں میں دی جانے والی تنخواہوں اور سہولیات کا جائزہ بھی لیا جائے۔
اس سب کے بعد متفقہ طور پر ایک پبلک میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ 10 اپریل کو سٹی ہال میں منعقد ہو گی۔ اس میں ممبران کی تنخواہیں بڑھانے کے بارے میں عام عوام سے رائے لی جائے گی۔ اگر شہریوں نے بھی اس سلسلے میں کونسل کے صدر کی حمایت کر دی تب بھی یہ اضافہ فوری نہیں ہو گا بلکہ تنخواہ میں یہ اضافہ جولائی 2009 سے لاگو ہوگا۔ یعنی سٹی کونسل کے اگلے انتخابات کے بعد سے تاکہ موجودہ ممبران اس لئے کہ ابھی وہ منتخب کردہ ہیں تو کچھ فائدہ اٹھا لیں۔ اس کے حق میں زور نہ لگا سکیں۔
یہ ایک بہت زبردست طمانچہ ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کے لئے۔ ہم سب حکومت کو برا کہتے ہیں لیکن ہم بھی ویسے ہی ہیں۔ حکومت ذرا بڑے پیمانے پر کام کرتی ہے تو سب کو نظر آتا ہے۔ دوسرے یہ ہماری حزب اختلاف کے لئے بھی ایک زبردست تھپڑ ہے جو باقی چیزوں پر بک بک کرتی ہے لیکن جونسے مسائل ہے ان پر ان کے منہ سے کچھ برآمد نہیں ہوتا۔
Popularity: 7% [?]
Popularity: 7% [?]
221 views
Related Posts
- امیگرنٹ اور فساد On July 1, 2007, 8 Comments
- اکتوبر یا نومبر 2006 میں ہمارے ایک جاننے والے صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوا۔ دراصل i95 سے colonial heights اترنے کے لئے جو North سے آنے والوں کا exit ہے وہ کافی شارپ ہے۔ جبکہ ساؤتھ سے آنے والے دھیرے دھیرے چلا رہے ہوتے ہیں لہذا جہاں دونوں ملتے ہیں وہاں ساؤتھ والے رکنے کی زحمت



























baat sari zameer ki hay jo hamaray paas naheen hay,
بات صرف ضمیر کی نہیں ہے۔۔ اگر آپ کو یہ پتہ ہو کے آپ کے مستقبل کا دارومدار عوام کی رائے پر ہی ہے تو پھر ہر عمل سے پہلے سو دفعہ سوچا جاتا ہے اور یہی امریکی نظام کی کامیابی ہے۔۔ امریکی قوم کوئی اخلاقیات کے بہت اعلی مرتبے پر فائز نہیں ہے مگر انہوں نے طے کر لیا ہے کے نظام اور اداروں سے ماورا کوئی فیصلہ نہیں کرنا اور قانون سے ماورا کوئی نہیں اور اسی کی برکات اس معاشرے میں نظر آتی ہے۔۔ باقی ہمارا مسئلہ یہی ہے کے ہم امریکی ہپ ہاپ تو گود لینے کو تیار ہیں مگر سیاسی عمل اور مواخذہ کا نظام ہمیں نظر ہی نہیں آتا
سلام
واقعی ضمیر ہمارے پاس کبھی نہیں رہا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم نے آنکھیں بند کرنا بھی پسند کر رکھا ہے۔
امریکہ امریکہ کرتے ہیں پہلے خود کو نہیں دیکھتے۔
or Rashid yeh tay ker liana kay nizam or idaroon say mawra koi faisla naheen kerna or qanoon say mawra koi naheen hay,
kia yeh zinda zameer kay bagair mumkin hay,
phir aisay muashray main kay jahan khuda khofi ka utna shadeed tasawur bhi naheen,
unhain jitna logon ka khof hay kash humain utna hi Allah ka khof hota…………