بش کے دیس میں
122 views Published February 22nd, 2007 in بش کے دیس میں.باہر کے ملکوں میں رہنے والوں کو عام طور پر رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ باہر رہنے والوں کے سحر کا سب سے بڑا شکار عام طور پر وہی لوگ بنتے ہیں جنکا علم یا تو سطحی ہوتا ہے یا وہ بےحد معصوم ہوتےہیں۔
باہر کے رہنے والے آپ کو کبھی نہ کبھی یہ ضرور کہیں گے کہ تم پاکستان میں رہتے ہو بہت خوش نصیب ہو اور آپ آگے سے یہی سوچیں گے کہ خود چلا گیا ہے اور ہمارا راستہ روکنا چاہتا ہے۔
میں ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کی سوچ رہا ہوں جس میں یہاں رہنے کی تکالیف اور مشکلات کو بیان کروں۔ اس میں عبرت کا مقام تو شاید بہت کم ہی ملے (یہ پڑھنے والے پر ہے کہ وہ کس بات پر عبرت پکڑے) لیکن اس سے یہاں آنے والوں کو بہت مدد مل سکتی ہے۔ یہاں آنے سے پہلے میری نظر سے ایک کتاب گزری تھی۔ اس کا نام سکھر سے فلوریڈا تک تھا اور یہ گلوبل سائنس کے ادارے کی شائع کردہ تھی۔ لیکن اس میں بہت اختصار سے کام لیا گیا ہے۔
میں اس بارے لکھنے کا جن چند وجوہات کی بنا پر سوچ رہا ہوں ان میں سر فہرست پاکستان میں بسنے والوں کی معصوم سوچ، جنکی عقل کہتی ہے کہ باہر جانا ہر مسئلے کا حل ہے۔ دوسرے خاور کی چند پوسٹس اور تیسرے متذکرہ کتاب کا اختصار اور یہاں درپیش وہ مشکلات جن کا ذکر کہیں نہیں۔
میں ساتھ ساتھ باہر رہنے والے دوسرے لوگوں کو بھی دعوت دونگا کہ وہ بھی اس موضوع کی مطابقت سے مضامین لکھ کر اپنے بلاگ پر شائع کریں۔ تا کہ پاکستان میں بسنے والے عام افراد اپنی سوچ پر نظر ثانی کر سکیں۔
اس سلسلے کا پہلا مضمون موڈ کے صیح رہنے پر میں آج رات لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
کیٹگری کا نام ہوگا بش کے دیس میں
Popularity: 22%
Popularity: 22%
122 views
Related Posts
- None Found
Random Posts









ہمیں ایک ہی رخ نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس بات کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ بہرحال پاکستان کے مجموعی حالات ابتر ہیں اور بنیادی وجہ انصاف کا معاشرے سے غائب ھونا ھیں
اب میں یہ نہیں کہونگا کہ بہت اچھا سلسلہ ہے ورنہ اب کوئی دوسرا حج نہ کرواجائے اور میں الحاج ہو جاؤں۔۔ صرف اتنا کہوں گا کے میری سوچ بھی یہی تھی مگر اب یہاں امریکہ میں بیٹھ کر میں اور میرا دوست صرف ایک ہی بات کرتے ہیں کہ “یار گھر کب جائیں گے“ ۔ اچھا سلسلہ ہے اور میرا خیال ہے ذاتی تجربات پر ہر (پر)دیسی یہ بتا سکتا ہے کہ یہاں کی کونسی اچھائی ہمیں اپنانی چاہیے اور کن چیزوں کو نہیں۔۔ شکریہ فورم فراہم کرنے کا۔
زبردست ۔ دیس واسیوں کو ڈرانے کا اچھا طریقہ ہے۔
یہ سوچ ابتدا ہی سے ہمارے ذہنوں میں رچی بسی ہوئی ہے، پردیسی ہمیشہ سے یہی کہتا آیا ہے کہ پردیس میں یہ دکھ ہے، فلاں عذاب ہے، یہ میرا جگرا ہے کہ اب تک گزار رہا ہوں وغیرہ وغیرہ
اور دیسی بیچارہ ٹھنڈی سانس بھر کر خاموش ہو جاتا ہے مگر پردیس جانے کی چنگاری اور زیادہ بھڑک اٹھتی ہے۔
بہرحال مزید آپ کی پوسٹ کے بعد
میرا خیال ہے کہ باہر ضرور جانا چاہیے ۔ کچھ عرصہ وہاں رہ کر گوروں کو خوب لوٹنا چاہیے ، یعنی پیسہ کمانا چاہیے اور پھر لوٹ کر بدھو گھر کو آنا چاہیے ۔ یعنی یوں ہونا چاہیے کہ سال دو سال بعد کچھ مہینوں کے لیے باہر کی ہوا کھانے نکل لیے ۔ ڈالر جیب میں ڈالے اور گھر واپس ۔
بہت اچھی بات ، اس سلسلے میں خاص طور پر وہ واقعہ ضرور لکھنا کہ جب تم امریکہ کے ایرپورٹ پر اترے تھے تو امریکی حکام نے تمہارے کپڑے اتار کر تلاش لی تھی ۔ یہ بھی بتانا کہ انہوں نے انڈریر رہنے دیا تھا یا وہ بھی ۔۔۔۔۔۔
باسلونا میں ایک دفعه میں نے ایک آدمی سے پوچها تها که ـ
ماشاء الله آپ کے بچے کتنے هیں ؟
تو اس کا جواب تها
ابهی تو ابا جی کے بچے پال رہے هیں ـ
لکهو لکهو یار جی ضرور لکهو ـ
صرف پیسه هی تو سب کچھ نہیں ہے ـ
اور واپس جانے والی بات کی حقیقت کیا هے پچهلی چار دهائیوں سے کتنے واپس گئے هیں ؟
پہلے پہلے سب کو مزه آتا ہے اور پهر جب آپنی بیٹیاں جوان ہونے لگتی هیں تو پاکستان یاد آتا ہےـ
یہاں جاپان سے میں کتنے هي لوگوں کو جانتا هوں جن کے ابا جی فوت ہو چکے تهےوه لوگ تو کمائی کرکے واپس چلے گئے اور جن کے اباجی ذنده هیں وه واپس نہیں جاسکتے
پاکستان والے جو کردار ادا کر رہے هیں ان بهی لکهیں جو آپني عیاشیوں کے لیے باہر والوں کو واپس آنے هی نہیں دیتے ـ اور پڑوسیوں کے کان کروانے کے لئے باہر والوں کی جهوٹی شان بنائے رکهتے هیں ـ
لکھئیے مگر صرف دساور کی برائیاں نہیں اچھائیاں بھی لکھئے اور اپنے ملک کے متعلقہ تجربات بھی لکھئے ۔ اس سے بہت سوں کے علم میں اضافہ ہو گا ۔
اگر دیکھا جائے تو آپ نے بھی وہی کچھ کہا جو ہر وہ شخص جو پردیس میں رہتا ہے، کہتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں رہنے والے بالکل اسی طرح کہتے ہیں جس طرح وہاں کے سبھی رہنے والے کہتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ دوسرے ملکوں میں آ کر بس جاتے ہیں وہ کیوں اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں آئے ہیں، اور بعد میں وہ اپنے ملک دوبارہ جانے کا کیوں کہتے ہیں، یا انھیں بعد میں پہلے سے زیادہ اپنا ملک اچھا کیوں لگنے لگتا ہے، کیا ان کا علم سطحی ہے یا ان میں اتنا شعور نہیں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے؟ چلو اگر بعد میں انھیں اس بات کا احساس ہو ہی جاتا ہے اور وہ اپنے ملک کے لوگوں کو یہ کہنے لگتے ہیں کہ خوش نصیب ہیں جو اپنے ملک میں رہ رہے ہیں۔ تو وہ خود واپس لوٹ کیوں نہیں جاتے؟ کیا اب وہ یہاں سیٹل ہو چکے ہیں، ان کی کچھ مجبوریاں ہیں؟ بالکل۔ اسی طرح پاکستان میں رہنے والوں کی بھی کچھ مجبوریاں ہیں۔پاکستان میں ایک طبقے کے لوگ جس طرح زندگی گزار رہے ہیں ان کی تکالیف اور پریشانیوں کے بارے میں کون بیان کرے گا؟ باہر جانا ہر مسئلے کا حل نہ سہی لیکن شاید ان کے کچھ مسائل کو حل کر سکتا ہو۔
یہ بات بالکل غلط ہے کہ کچھ معصوم لوگ ایسا سوچتے ہیں۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ پاکستان میں بہت سوں کی یہی سوچ ہے۔ میرے اندازے کے مطابق کافی سمجھدار، پڑھے لکھے اور اتنے بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کی سوچ بھی دوسرے ملک میں جانے کی ہوتی ہے۔
سوچ صرف ایک سوچ ہے۔ کسی بھی وقت کچھ بھی سوچ آ سکتی ہے۔ لیکن اصل مزہ اس وقت آتا ہے جب ہماری سوچ حقیقت سے بہت قریب یا ایک عملی سوچ ہو۔
راشد: ہہاہاہا نہیں آپ کھل کر بات کریں۔ میرا نہیں خیال وہ صاحب آپ کو دوسرا حج کروائیں گے۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ بہت سی چیزیں میرے لئے نئی تھیں جو کہ آنے والے کے لئے جاننا ضروری نہیں لیکن جاننا بہتر ہے۔
منیر احمد: دیس واسیوں کو ڈرانے کا کوئی ارادہ نہیں میرا۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اس بارے میں سب واقعات بیان کروں تاکہ دیس واسیوں کو اتنی عقل ضرور آ سکے کہ یہاں کیا ہے اور کیا نہیں۔
قدیر احمد: نہ جانے تم ائیر پورٹ پر کس جگہ پر صفائی کر رہے تھے جو تم نے یہ سب مناظر دیکھ لئے۔
خاور: ہاہاہاہاہا یار پال تو میں بھی ابا جی کے بچے رہا ہوں اور میرے اپنے ہونے کی دور دور تک امید نہیں۔ لیکن مجھے اپنے بہن بھائیوں سے پیار ہے۔ یہ اور بات ہے کہ میں ان پر گرجتا برستا رہتا ہوں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ میرے دادا جان میرے چچا کو واپس نہ آنے کی تلقین کرتے تھے۔ لیکن ان لوگوں کے باہر ہونے سے دادا جان کی ذات کو کوئی فائدہ نہ تھا۔ وہ ان کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ان کو منع کرتے تھے۔
کچھ لوگوں کو بیٹیاں جوان ہونے پر بھی وطن کی راہ نہیں سوجھتی۔ ان کی بیٹیوں کا حال میں نے دیکھ رکھا ہے۔
میرے خاندان میں پڑوسیوں کے کام کی خاطر تو کچھ نہیں کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے باہر رہنے والوں سے کافی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں۔ اس سے مجھے چڑ ہے۔ لیکن میں ان پر ظاہر نہیں کرتا۔
اجمل انکل: میرا ارادہ تو نہیں تھا کہ پاکستان سے موازنہ کروں کیونکہ میں نہیں چاہتا میرے الفاظ پاکستان کے خلاف ہوں۔ وجہ صاف ظاہر ہے اکثریت پاکستان سے نالاں نکلتی ہے اور اس پر الزام دھر کر سائیڈ پر ہو جاتی ہے۔
نامعلوم: جناب میں کوشش کروں گا کہ ایک مکمل پوسٹ میں آپکی بات کا جواب دے سکوں۔