انڈیا کی فلم انڈسٹری بہت بڑی ہے۔ اب تو جیو کی مہربانی سے ہمارے پاکستان ٹیلی ویژن تک پر انڈین گانے چل چکے ہیں۔ مقابلے میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ لیکن یہ شاید حکومت کا حکم تھا۔ خیر صدر ہمارے بہت سے اچھے کام کر رہے ہیں ہماری کم عقلی ہم ان کی بات سمجھ نہیں سکتے۔
پردیس میں سب لوگ اپنے اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں۔ امریکہ تو ہے ہی پردیسیوں کا ملک۔ لہذا یہاں اگر اینٹ بھی اٹھائیں تو نیچے سے ایک امیگرینٹ نکل آتا ہے۔ ایسے ہی ایک امیگرینٹ سے آج میری بات ہوئی۔ پاکستان نام سنتے ہی اس نے کافی اشتیاق کا مظاہرہ کیا۔ اس کو کشمیر سے لے کر کراچی تک اکثر چیزوں کا علم تھا۔ حیرانی تب ہوئی جب اس کو قائداعظم تک کا پتہ تھا۔ میرے ایک جاننے والے صاحب پاکستانی ہیں۔ ان کے تینوں بچوں کو قائداعظم کا نہیں پتہ تھا کہ وہ کون ہیں جبکہ تینوں آنرز رول میں ہیں۔ لہذا میری حیرانی بجا تھی۔
بات ہوتی رہی اس کو چند ایک دریاؤں کے نام بھی معلوم تھے۔ شہروں کا بھی علم تھا۔ ہے چٹا ان پڑھ لہذا میں بہت متاثر تھا۔ دل ہی دل میں خوش بھی کہ پاکستان کے بارے میں لوگوں کو جاننے کا شوق ہے۔ اس کو مشرف کی چھوڑئے وزیراعظم صاحب تک کا معلوم تھا۔ بات ذرا تب بگڑی جب اس نے بتایا کہ اس کو فلموں کا شوق ہے۔ اب فلموں کے ذکر پر اس نے مجھ سے پہلے پہل تو پوچھا کہ فلمیں کونسی پسند ہیں اور ان پر تبصرے۔ پھر اچانک اس نے پوچھ لیا کہ پاکستان کا سپر اسٹار کون ہے؟ اب میرے پاس کوئی نام نہیں تھا۔ اس نے پوچھا کیا امیتابھ بچن ہے؟ میں نے کہا نہیں اس نے کہا لیکن پاکستانی چینل پر تو یہی دیکھا تھا۔ پھر اس کو شاہ رخ خان کا نام نہیں آتا تھا لیکن اس کی فلم کل ہو نا ہو کے گانے اس نے پاکستانی چینل پر دیکھے تھے۔ لہذا اس نے اس فلم کے ذریعے مجھے شاہ رخ خان کے بارے میں اشارہ دے کر پوچھا کہ کہیں وہ تو نہیں۔ کیونکہ وہ امیتابھ سے کم مشہور ہے۔ میرا جواب پھر نہیں تھا۔
اب وہ حیران اور میں پریشان کہ یہ ہوا کیا ہے۔ میں اس کو پاکستانی فلمی صنعت کیا کیا بتاؤں کہ وہاں فلموں کے نام پر کیا بنتا ہے؟ میں اس کو کس پاکستانی فلمی “پری” کا تعارف دوں؟ اس کو کس ہیرو کی تصویر دیکھاؤں؟ اگر دیکھا بھی دوں تو کیا وہ مجھ سے پوچھ نہیں سکتا کہ اچھا تو یہ ہیں تمہارے ہیرو جن کے امریکہ ڈھونڈتا پھرتا ہے؟ جناب صدر ذرا روشن خیالی فلمی صنعت پر بھی ڈال دیں کہ ہم گھر سے ہی وہ “مسالہ” پیدا کر سکیں جو پڑوسی ملک سے اپنی لڑکی (میرا) بھیج کر برآمد کیا جا رہا ہے۔ اور ہم جیسے معصوم لوگ باہر سرخرو ہو سکیں کہ نہیں ہمارے چینل پر تم ہمیں ہی دیکھ سکتے ہوں۔ تب تک ہم منہ چھپا کر پھرنے کی پریکٹس کرتے ہیں۔
Popularity: 10% [?]
Popularity: 10% [?]
264 views
Related Posts
- None Found



























SPAM SPAM THIS IS SPAM
checko, clicko !
http://www.orkut.com/Community.aspx?cmm=6971079
یار ، ندیم کا نام لے لیتے ، شبنم یا بابرہ کا نام لے لیتے ، غلام محی الدین کا نام لیتے ، ساقی کا نام لیتے ، جو انٹرنیشنل لیول پر جانے جاتے ہیں نہیں جانتے تو ہم نہیں جانتے ۔ ۔ ہاں بات ٹھیک ہے کہ ہماری فلموں کا معیار اچھا نہیں رہا مگر جب اچھا تھا تب ہم کہاں دیکھتے تھے ، تب بھی ہمیں امتو اور جتندر اور راجیش کھنہ ہی یاد تھے ۔ ۔ ۔ اور ہماری فلموں والے ہنس کی چال چلنے کے چکر میں اپنی چال بھی بھول بھیٹھے ہیں ۔ ۔ نور صاحب سے جب میری ملاقات ہوئی تو بے چارے کچھ نہ کہ سکے کہ بھائی اب میں فلم انڈسٹری نہیں چھوڑ سکتا ، جاوید شیخ صاحب فرماتے ہیں ، کہ میری آنے والی فلم دیکھنا کیسی ہوتی ہے ۔ ۔ اتنی منت کر کہ ادھر ایک فلم لگائی (دبئی میں) اور بہت لوگ آئے ہال فل تھا ، اور ہوا کیا ، آدھی فلم کے بعد ہی تصویر الٹ گئی ، آواز ایسی کہ لو اسٹوری ہارر فلم بن گئی ۔ ۔ ۔ اچھی خاصی فلم کا ستیا ناس کر دیا ۔ ۔۔ خیر کہنے کو بہت کچھ ہے مگر صرف اتنا کہوں گا کہ جب ہم خود ہی اپنی انڈسٹری کو نہیں دیکھیں گے تو ظاہر ہے اس گیپ کو فل تو کسی نے کرنا ہی ہے ۔ ۔ چاہے وہ بدمعاش ہو یا بد قماش ۔ ۔
السلام علیکم پیارے بھائی۔ کاش آپ سلطان راہی صاحب کا نام لے لیتے۔ یہاں فن لینڈ میں لوگوں کو سلطان راہی صاحب بہت پسند ہیں۔ وجہ صرف اتنی سی ہے کہ ایک بار میں یو ٹیوب پر ایک وڈیو کلپ دیکھ رہا تھا۔ سلطان راہی صاحب دشمنوں کی بھیڑ میں گھرے تھے اور کسی بھی دشمن کے ہاتھ کلاشن کوف سے کم ہتھیار نہ تھا۔ سلطان راہی صاحب نے ایک چھوٹا سا چاقو نکالا۔ سر کے اپر ایک ہلکا سا چکر دیا۔ ڈیڑھ دو سو بندے کھڑے کھڑے پیٹ پکڑ کر مر گئے۔ پتہ نہیں چاقو کی دہشت سے ان کے پیٹ کھل گئے یا پھر ہنستے ہنستے ان کے پیٹ میں درد ہوا اور مرے۔ بہرحال یہ سین میرے دوستوں نے دیکھا اور بہت پسند کیا۔ ہالی وڈ بھی ایسا شاہکار سین لانے سے قاصر ہے۔
پاکستان میں رہتے ہوے عمر بیت گئ لیکن آج تک ایک بھی لالی وڈ فلم نہیں دیکھ سکا۔