میں معتصب نہیں ہوں۔ کچھ قوموں کے بارے میں میرے خیالات ان کے عمومی برتاؤ کو دیکھ کر بن جاتا ہے۔ جیسے عربوں کے بارے میں میرا خیال یہ کہ خدا کے بعد یہ لوگ امریکہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ عربی بولنے والے سبھی لوگ شاید ایسے نہ ہوں لیکن بہت بڑی تعداد ایسی ہی ہے۔ مجھ کچھ بہت اچھے لوگ بھی ملے ہیں لیکن کچھ منہ پھولائے ہوئے بھی ہیں۔ ان کی بہت بڑی تعداد امریکہ میں دوسرے طریقوں سے نازل ہوتی ہے اور یہاں افریقن امریکن عورتوں سے شادی کر کے رہتی ہے۔ ایسے میں اگر ان کو پتہ چل جائے کہ آپکے پاس گرین کارڈ ہے یا نیلا پاسپورٹ تو ان کا برتاؤ تبدیل ہو جاتا ہے۔ کم از کم مجھے تو یہ اسلام اور مسلمان ہونے کی برکت سے زیادہ امریکہ کی برکت لگی کہ پہلے جو بندہ مسلمان ہو کر آپ کو خوش آمدید نہیں کہہ رہا وہ آپکے بارے میں جان کر فوراُ تبدیل ہو گیا ہے۔
پہلے مجھے اس کی سمجھ نہ لگ سکی۔ کل کسی عزیز کے ساتھ تھا۔ یہ صاحب ہمارے جاننے والے ہیں۔ ان کے آگے سے ایک عرب صاحب مہمان تھے۔ انہوں نے میرے سامنے اپنی گفتگو کرنے سے گریز کیا اور بات کو عربی میں لے گئے۔ میں ایسی باتوں کا برا نہیں مناتا اور عموما میزبان کے کمپیوٹر کو چپک جاتا ہوں۔ یہی کیا۔ اب کچھ دیر بعد وہ عرب صاحب بڑی گرمجوشی سے بات چیت کرنے کے موڈ میں آ گئے۔ پتہ چلا کہ ان کو معلوم پڑا تھا کہ میرا سٹیٹس کیا ہے۔ میری چڑ بڑھ گئی۔ میں نے ان پر ظاہر تو نہیں کیا لیکن زیادہ معلومات دینے سے گریز کیا۔
بات کرتے کرتے انہوں نے اسلام پر بات کرنا شروع کر دی جو کہ مسلمانوں کا حکومت کے بعد سب سے پسندیدہ ٹاپک ہے۔ ارشاد ہوا کہ تم لوگوں نے قران کو اردو میں ٹرانسلیٹ کر لیا ہے۔ میں نے عرض کی کہ نہیں جناب صرف سمجھانے کے لیے کیا ہے ورنہ پڑھتے سبھی عربی میں ہیں۔ ارشاد ہوا کہ تم لوگ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان کیوں نہیں سیکھتے؟ کتنی بڑی بات ہے یہ؟ تم جس قرآن کو پڑھتے ہو جانتے ہی نہیں ہو کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ یہ تمہاری غلطی نہیں حکومت کی ہے۔ اس کو چاہیئے 3٫4 جماعت میں اس کو لازمی کر دے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ میرے ملک میں تو 50 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے تو وہ عربی کیسے سیکھیں گے؟ چلیں مان لیا کہ عربی آنی چاہئے لیکن میرے خیال سے احکامات پر عمل لازمی ہے نہ کہ عربی سیکھنا۔ زبان کو مذہب کا جزو بنانا صیح نہیں اور اگر امریکہ سے کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو احکامات کے ساتھ ساتھ آپ اس کو عربی بھی سیکھائیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت سے امریکیوں کو عربی بولتے دیکھا ہے۔ اب ان کے ملک کے حوالے سے میں نے کہا کہ اسکول (مدرسہ) جا کر تو آپ لوگ سوائے قرآن اور شریعہ کے کچھ سیکھتے نہیں۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی آپ کے پورے ملک میں سے کوئی نہیں بتا سکتا کہ دن رات اور موسم کیسے بنتے ہیں۔ (ان کے ہاں ایک مدرسہ ہے اور دوسرا اسکول) آپ کو یہ تک تو پتہ نہیں کہ اردو میں عربی کے ہزاروں الفاظ ہیں۔ اس پر وہ مختلف عربی کے لفظ بولیں کہ یہ ہے اردو میں کہ نہیں۔
وہ اب کم آن مین (come on man) کی گردان کرنے لگے۔ میں نے آخر میں ان سے کہا کہ آپ مدرسہ گئے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے پوچھا آپ نے ساری شریعہ اور فقہ کا مطالعہ کیا۔ ارشاد ہوا ہاں۔ میں نے کہا کہ آپ نے عربی میں پڑھا کہ جوا حرام ہے لیکن آپ لاٹری کھیلتے ہیں۔ (ان کی جیب کی طرف اشارہ کیا جہاں ٹکٹیں پڑی تھیں۔ کچھ دیر پہلے وہ بڑی عقیدت سے ان ٹکٹوں پر عربی میں سیر حاصل بحث کر چکے تھے)۔ میں نے اردو میں پڑھا کہ جوا حرام ہے میں لاٹری نہیں کھیلتا۔ آپ پر وہ عربی اثر نہ کر سکی جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان ہے۔ مجھ پر اس کی اردو ٹرانسلیشن نے اثر کر دیا تو خدارا زبان کو مذہب سے مت جوڑیں۔ اور کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں حاصل سوائے تقویٰ کے۔
اب اس پر وہی بات جو کہ مسلمانوں کا خاصہ ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت فضول بندے ہیں لہذا اسلام کی کسی بات پر ان کو مثال نہ بنایا جائے۔ مسلمانوں کی صرف ہمارے ہندو پاک کی نہیں عادت کہ ایسی باتوں پر بجائے کہنے کے کہ ہاں ہم غلط ہیں کہتے ہیں ہم بہت گناہ گار بندے ہیں ہمیں مثال نہ بنائی جائے۔ اس کے برعکس گوری چمڑی والے جہاں غلط ہوں فورا اقرار کرتے ہیں اور اس کی درستگی کرتے ہیں۔ لہذا عرب حضرات آپ کو اس لئے بھی نا پسند کر سکتے ہیں کہ آپ عربی نہیں جانتے اور اسلام کو ویسے نہیں سمجھتے جیسے وہ سمجھ سکتے ہیں
Popularity: 5% [?]
Popularity: 5% [?]
245 views
Related Posts
- None Found



























He he he…to Pakistani khuda kay baad kis ko sajda kurtay hain?
اصل مسئلہ صرف عربی کا نہیں ۔ میں ایک عربی بولنے والے ملک میں پونے سات سال رہا ہوں اور کچھ دوسرے عرب ممالک میں وقفہ وقفہ سے گیا ہوں ۔ میرا خیال ہے کہ قصور ہمارے طور طریقوں کا بھی ہے ۔ ہم لوگ بھی چِٹی چمڑی والے کی پوجا کرتے ہیں اور رنگ والوں کو گھٹیا سمجھتے ہیں نہ ہم ان کو سمجھنے کی کوسس کرتے ہیں اور نہ ان کہ سامنے اچھا کردار اختیار کر کے اُنہیں متاثر کرتے ہیں ۔ یہ میں عربوں کے ساتھ اتصال میں آنے والوں میں سے ساٹھ فیصد کی بات کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ ہمارے تمام سفارت خانوں کے اہلکار مجرم ہیں جو اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی بجائے ذاتیات پروان چڑھانے میں لگے رہتے ہیں ۔
You are about right. I had similar experiences but not with all Arabs some of them are very good and have a lot better understanding of Religion than an ordinary muslim. and to answer “ME” well you are also right but not all pakistanies yes most of the politician and majority of so called upper class.. they probably do it before GOD
. I also agree with you that there is no relation b/w language and religion but would like to add that this translation thing also played a role in sectarism in indo pak region because majority don’t know exactly what was written in arabic and they had to believe in translations and there are alot mebbe..
I strongly agree that we should learn arabic so we may understand islam better but I am against making it a must known thing. like you are 2nd class citizen of islam if you dont kno arabic. thats my whole point.
ہاں یہ تو حقیقت ہے کہ : جیسے ہی ہماری غلطی نکل آتی ہے ہم فوراََ اسلام کو بچانے دوڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ : اسلام مسلمانوں کے برتاؤ سے متعارف نہیں ہوتا بلکہ قرآن و حدیث کی تعلیمات سے نکھر کر سامنے آتا ہے ۔
میرا سوال یہ ہے کہ : کیا یہ اتنا ہی اشد ضروری ہے کہ ہم فردِ مقابل کی پسپائی کا اعتراف بھی اسی کی زبانی سنیں جیسا کہ گوری چمڑی والے باتمیز افراد اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہیں ؟
جب ہم کہتے ہیں کہ ہماری کسی بات کو اسلام کی مثال نہ بنایا جائے تو یہ گویا درپردہ ہماری خامی ہی کا تو اعتراف ہے ۔
ساری دنیا میں شائد ایک مسلمان ہی وہ واحد قوم ہے ۔۔۔ جو اپنی خامی کا کھلے الفاظ میں اعتراف کرے یا نہ کرے ۔۔۔ لیکن اسلام کی ڈھال ضرور بن جاتی ہے کہ : اسلام پر کوئی حرف نہ آئے !!