racist
163 views Published February 4th, 2007 in امریکہ نامہ.افریقن امریکن لوگوں کے بارے میں میرے کچھ خیالات بہت سے لوگوں کو ناپسند ہیں۔ اس میں بلاگر حضرات ہی نہیں شامل میری فیملی میں کچھ لوگ مجھے racist کہہ رہے ہیں۔ ان سب کے نزدیک شائد میں کالی چمڑی سے نفرت کرنے والا انسان ہوں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ افریقن امریکن لوگ مجموعی طور پر اچھے ہیں لیکن ان کی کسی غلط بات کو غلط اس لئے نہ کہنا کہ ایسے آپ racism کے شکار لگے گیں میرے خیال میں تو صیح نہیں ہے۔
دیسی لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ضرور ہیں انڈیا؟ پاکستان؟ لیکن افریقن امریکن لوگوں میں ایسا کوئی رواج نہیں۔ ان کے لئے دوسرے کا کالا ہونا کافی ہے کہ یہ ایک دوسرے سے کھل کر باتیں کر سکے۔ اپنی نسل کو فیور کرنا جتنا ان لوگوں کو پسند ہے اتنا کسی کو نہیں۔ گوروں اور ان میں سب سے بڑا فرق یہی ہے۔ گوری چمڑی والا انسان (مرد ہا یا عورت) کسی کو فیور نہیں کرتا جس کی باری ہے اسی کو entertain کرے گا۔ جبکہ افریقن امریکن اپنی قوم کے لوگوں کو بہت فیور کرتے ہیں بینک ہو یا دفتر ہر جگہ آپ اس کا مظاہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ فرق صاف پتہ چل جائے گا۔ روئیے میں ایسی واضح تبدیلی آپ کو حیرت میں مبتلا کر دے گی۔
جاب پر گورے کو غصہ ہے تو وہ اس کا اظہار نہیں کرے گا۔ افریقن امریکن اپنا غصہ اور جھنجھلاہٹ صاف ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ سوشل سیکیورٹی کے دفتر میں تو شائد انہوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ روکھے روئیے سے بات کرنی ہے۔ وہاں خوب کوشش ہوتی ہے کہ امداد کے لئے آئی ہٹی کٹی عورتوں کو ہر حال میں یہ کسی طرح فیور کر دیں۔ لیکن باقی لوگوں سے منہ پھلا کر بات کرنے کا شوق ہوتا ہے۔
امریکہ 21 سال سے کم عمر بچوں کو والدین کے ساتھ آنے کی اجازت دیتا ہے۔ میں اور میرا کزن 21 سال پار کر کے امریکہ داخل ہوئے۔ چونکہ ہم لوگوں نے پہلے اپلائی کیا تھا اور انٹرویو پہلے ہو گیا تھا لہذا ہم لوگ over 21 ہو کر بھی امریکہ کو قبول رہے۔ لیکن سوشل سیکیورٹی آفس میں افریقن امریکن خاتون کو نہیں بھائے۔ میری خوش قسمتی مجھے ایک میکسیکن عورت نے اپنے کاوئنٹر پر بلا لیا کہ شاید بچہ بھی میکسیکن ہے۔ میرے کزن کو ایک افریقن امریکن خاتون کے ڈیسک پر جگہ ملی۔
اب میں سارا کام کر کرا فارغ اور وہ ابھی اس کو یہی سمجھا رہا تھا کہ ویزہ ایکسپائر اگلے دن ہو رہا ہے لیکن یہ امیگرنٹ ویزہ ہے اس کا کام صرف متعلقہ مدت کے اندر امریکہ میں لینڈ کرنا ہے لینڈ کرتے ساتھ ہی ائیر پورٹ پر کاغذ لے لیتے ہیں کہ اب ان کی ضرورت نہیں گھر جاؤ تمہارا گرین کارڈ گھر کے پتے پر آ جائے گا۔ اب ان خاتون کا اصرار تھا کہ چونکہ اگلے دن ویزہ ایکسپائر ہو جائے گا تو ان کو وہ سوشل سیکیورٹی نمبر نہیں الاٹ کر سکتی آخر ایک بڑے آفیسر کو بلا کر لائی جو کہ افریقن امریکن ہی تھا اس کو عقل تھی اس نے اس کو سمجھایا کہ بس کرو بی بی اور بچے کو نمبر الاٹ کر دو۔
ان خاتون کو صرف اتنی تکلیف تھی کہ بچہ پاکستان سے تھا اور دیسی لوگوں سے ان کو تکلیف یہ ہے کہ یہ لوگ فوڈ اسٹیمپ اور دوسرے طریقوں سے بالکل ویسے ہی پیسے بٹورتے ہیں جیسے ان کی قوم۔ تو یہ اپنی قوم کو نہیں دیکھتے ہاں دیسی لوگوں کی ایسی حرکتوں کو برا مانتے ہیں۔
پڑھے لکھے کالے بھی بہت کم ہی اپنے بچوں کو پکڑ پکڑ کر کسی چیز کے بارے میں بتاتے ہیں اگر ایک افریقن امریکن خاندان کسی شاپ پر کھڑا باتوں میں مصروف ہے تو ان کے بچے شاپ میں ادھم مچا دیں گے۔ ہر چیز کو چھیڑیں گے۔ اور یہ لوگ ان کو منع بھی نہیں کرتے۔ اس کے بر عکس گورا خاندان ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتا جائے گا اور سات ساتھ اپنے بچوں کو سختی سے منع بھی کرے گا۔
افریقن امریکن کی ایک بہت بڑی خوبی جو باقی سب جگہ ناپید ہے کہ یہ پوری قوم ایک بہت بڑے خاندان کی طرح رہتی ہے۔ نوجوان کالوں میں ایک دوسرے کے لئے بہت violence ہے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں چاہے جانتے ہوں یا نہ۔ گوروں سے کہیں زہادہ بوڑھے لوگوں کا احترام کرتے ہیں۔ ایکدوسرے سے گرمجوشی سے ملنا اور مالی امداد ان کا خاصہ ہے۔
گوروں اور ان کی نوجوان نسل میں ایک بڑا فرق بئیر کا استعمال ہے۔ تقریبا 95 فیصد افریقن امریکن نوجوان بئیر کی جگہ orange juice کو ترجیح دیتے ہیں۔ جبکہ شاذو نادر ہی کوئی گورا نوجوان جوس کی بوتل پکڑے نظر آتا ہے۔ لیکن گورے سگریٹ پیتے ہیں اور افریقن امریکن سگریٹ کے ساتھ ساتھ سگار بہت پیتے ہیں۔
ایک بے حد بڑا فرق یہ ہے کہ 85 فیصد گورے کاوئنٹر پر رقم پھینک دیں گے۔ آپ کے ہاتھ میں نہیں پکڑائے گے۔ جبکہ افریقن امریکن میں کوئی کوئی ہی ہوتا ہے جو ایسا کرے ورنہ ہاتھ میں رقم دیتے ہیں یا اگر کاؤنٹر پر رکھ بھی دین تو فورا اٹھا کر سوری کہہ کر ہاتھ میں تھماتے ہیں۔ یہ ایسا بڑا فرق ہے جو کہ گوروں کی ذہنی اصلیت اجاگر کرتا ہے۔ تعصب یہ ہے۔ دیکھیں میری پوسٹس میں کہیں آپ کو لگا کہ گورے تعصب کرتے ہونگے؟ نہیں کیونکہ یہ لوگ کئی پردوں میں روئیے چھپا کر رکھتے ہیں۔ جہاں کسی کا ڈر نہ ہوا وہاں یہ کھل کر اپنے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
آپ راہ چلتے گورے سے کوئی بات پوچھیں وہ کہے گا مجھے نہیں معلوم اور چلتا جائے گا۔ افریقن امریکن سے پوچھ کر دیکھیں اگر اس کو نہیں بھی معلوم تو آپ کے پاس رک جائے گا۔ آنے جانے والوں سے خود آگے ہو ہو کر پوچھے گا اور جب تک آپ خود نہ کہیں کہ پتہ چل گیا ہے تب تک یہ آپ کی ہر طرح سے مدد کرے گا۔
کاؤنٹر پر لائن لگی ہے سب سے آگے والے کے پاس پیسے کم ہیں اب کیشئیر انتظار کر رہا ہے۔ وہ صاحب یا خاتون پیسے بھی ڈھونڈ رہے ہیں جو کہ 20۔25 سینٹ سے زیادہ نہیں ان کے پیجھے جتنے گورے صاحب کھڑے ہیں اکڑ کر بس کھڑے دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں ہمیشہ کوئی کالا ہی آگے بڑھے گا اور اس کو سکہ دے دے گا نہیں تو کبھی کسی گورے کو ایسا کرتے میں نے نہیں دیکھا۔ گورے کی یہی سوچ ہو گی کہ پیسے کم ہیں تو خریداری میں سے کوئی چیز کم کرے اور باقی لے لے۔
گورے لاکھ دلکش سہی دل کے کافی برے ہیں۔ کم از کم مجھے تو ایسے ہی لگے ہیں۔ جبکہ کالے ظاہری طور پر لاکھ برے لگیں اندر سے ٹھیک ہی ہیں۔ یہ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ ان کو کسی قوم سے کوئی مسئلہ نہیں سوائے گوروں سے۔ لیکن سارا پیسہ ضائع کر دینا۔ لاٹری۔ منشیات۔ سستی اور کاہلی ان کی وہ گندی ترین عادتیں ہیں جو کہ جب کوئی گل کھلانے پر آتی ہیں تو کیٹرینا جیسے طوفانوں میں ان کو قدم قدم پر رلاتی ہیں جو کہ سراسر ان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
Popularity: 21%
Popularity: 21%
163 views
Related Posts
- چار سو سال On May 14, 2007, 10 Comments
- برٹش سیلرز کو کیا علم تھا کہ اس نئی سرزمین پر قدم رکھنے کے 399 سال بعد دور دراز سے ایک پینڈو آئے گا جو چار سو سالوں کا جائزہ لے گا۔ (اندر کی بات ہے یہ جائزہ ابھی تک شروع نہیں ہو سکا) جی ہاں آج 14 مئی 2007 کو برٹش سیلرز کی طرف
- Windows Live Home On August 11, 2007, 0 Comments
- Windows Live Home brings your online world together in one place, from search, photos, logging, e-mail, and more.With Windows Live Home you can:ConnectHotmail: Next-generation e-mail on the WebMessenger: Chat with friends on the world’s most popular instant messaging networkContacts: Keep one up-to-date contact list that you can access everywhere on Windows Live FindSearch: Say hello to
- Special Xbox 360 offer for Windows Live Mail members On December 19, 2006, 0 Comments
- Want a XBOX this season? why dont save 30 bucks with windows live mail offer? get in ur inbox to find out wether you have the invitation or not or I can give you mine link to do so. Exclusively for Windows Live™ Mail users—Windows Live Mail has teamed up with Xbox to help you
- سن تو سہی On January 7, 2008, 0 Comments
- خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اور کچھ دیا نہ دیا ایک ٹیپو سلطان ضرور دے دیا۔ ٹیپو سلطان کا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ غداروں کا قلع قمع تو نہ کر سکا لیکن غداروں کو اپنا ایک قول دے گیا۔ اگر ٹیپو نہ ہوتا تو ہمارے سارے مرنے والے لیڈران اور چمچان
Random Posts









Well I partially agree and partially not but this is true. A notable majority of African American do things which create problem for rest of their people. Although in US it is said that racism is kinda “illegal” but you can feel it everywhere even if people don’t show it. I personally feel that we the people of sub continent are more racist than GORA PEOPLE. For instance people from northern part of India think themselves are superior, and in general it’s a common perception that always be aware of DESIEs (believed in by DESIEs as well)
Most of us (Indian and Pakistanies) call African American as KALLA or new name Sham Lal and Chinese are mainly called CHINNA or CHINKO. You know those African American these guys because of damn slavery has some sort of Inferiority Complex and it’s natural to do things which put them under spot light no matter what the price is. The GORAS have some kinda superiority complex and in some state you can feel it and in some state you can even SEE it. And we people we are in the middle a little superior and a little inferior so most of the time end up creating funny situations and our English accent specially those from India is another fun part
بدتمیز جی آپ اپنے بلاگ کا فونٹ کوءی اچھے والا نہیں کرسکتے اس کو دیکھ کر میری آنکھوں میں درد شروع ہوجاتا ہے اب بھی آپ کی اس تحریر والے صفحے کو پندرہ منٹ تک کھولے رکھنے کے باوجود بغیر پڑھے یہ تبصرہ لکھ کر بند کررہا ہوں۔
یار اتنے اچھے اچھے فونٹ دستیاب ہیں کیا فونٹس کی کوئی کمی ہے؟
ایسا نہیں تو کوءی جاوا سکرپٹ ہی رکھ چھوڑوں سائیڈ بار میں تاکہ صارف اپنی مرضی کا فونٹ منتخب کرسکے قدیر نے اس سلسلے میں اپنے بلاگ پر ایک پوسٹ کی تھی اور یہی سکرپٹ میرے بلاگ پر بھی چل رہی ہے(شکریہ قدیر رانا)۔
امید ہے اس پر ہمدردانہ غور کرو گے۔
وسلام
اسے racism نہیں بلکہ stereotyping کہتے ہیں۔
سلام
شاکر میں نے اس کو ٹاہوما پر رکھا ہوا ہے۔ نہ جانے کیوں آ پ کو دقت ہو رہی ہے۔
زکریا اب آپ کی رائے کا کیا کہنا۔ خیر چھوڑیں۔
نہیں زکریا ایسا کریں آپ مجھے دوسرا رخ دیکھائیں۔ آپ بتائیں کہ ایسا کیوں ہے اور دوسرا کیا ہے۔ پوری پوسٹ نہیں لکھ سکتے تو مفصل کمنٹ کردیں۔
کیا سڑی ہوئی پوسٹیں کرتے ہو تم
اپنے نام کے بالکل برعکس
RK, I am sorry I was soo busy that I almost forgot to reply you. well nice to hear from you. atleast you have to say somethin rather than just point out.
well may be we are more racist but actually like zikriya said in a previous post that we are afraid of african so we hate them. its not becoz of racism.
yeah I met an indian guy and he named all of his customer somethin in hindi or urdu. it was funny that they were enjoyin it. he named a guy “Dako”.
well over all it was nice meeting you and hearing from you