سائنس میوزیم

میں اکثر سوچتا ہوں کہ وہ کیا بات تھی جس سے مسلمانوں نے سائنس اور علم کو دھکے دے کر نکالا اور نشے کرنے شروع کر دئے۔ لے دے کر میری تاریخ سے معلومات نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس پر ابھی تک اتنی فرصت نہیں ملی کہ کوئی کتاب لے کر پڑھ مارو۔ مسلمان اکثر اپنے دین کو زندگی گزارنے کا سب سے معتدل طریقہ بیان کرتے ہیں لیکن اسی دین کے بارے میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسرے نہ جانے دین کی تشریح کن کن طریقوں سے کرتے ہیں۔

تعلیم، اخلاقیات اور سائنس سے نفرت کرنے والے مسلمان پیسے لے کر بیٹھے ہیں کہ دوسرے چیزیں بنائیں اور پھر ہم ان سے یہ خرید ماریں گے۔ صرف مسلمان ہی کیا سبھی مذہبی لوگوں کا یہی حال ہے۔ ہندو عیسائی سب قوموں کے حد سے زیادہ مذہبی لوگ سائنس سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن انداز جدا ہے۔ مثال کے طور پر ڈارون والی تھیوری ایک اچھی تھیوری ہے۔ میں اس پر یقین نہیں کرتا تھا اب اس پر کچھ کچھ یقین ہو چلا ہے۔  وجہ ہے “سی گل” اس پر روشنی پھر کبھی۔

ڈارون کی تھیوری چونکہ متنازعہ ہے لہذا چرچ اور عیسائی عوام کے پرزور اصرار پر اسکولوں میں اس کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ بالکل اسی پیریڈ میں یہ بتانا بھی لازمی ہے کہ مذہب کے حوالے سے یہ صیح نہیں ہے۔ اس کے علاوہ الگ سے بھی بتانا ضروری ہے۔ یہاں نہ آپ ڈارون کی سائیڈ لے سکتے ہیں نہ مذہب کی۔ جو کچھ پتہ ہے اس کو اسی انداز سے بیان کرنا ہے۔ مسلمانوں نے مذہب کی سائیڈ لینی ہے جو کہ اخلاقیات کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔ ڈارون کی تھیوری بڑھاتے ساتھ ساتھ ڈارون کے لتے بھی لئے جاتے ہیں اور اس کو جھٹلانے کے لئے کسی سولڈ گراؤنڈ پر بات بھی نہیں کی جاتی۔ کم از کم سائنس کی بات کو سائنس کے ذریعے ہی غلط کر دیں۔

 ہمارا تعلیمی نظام بچوں کے ذہنوں میں علم کو آلودہ کر دیتا ہے۔ بچے سائنس اور مذہب کو دو الگ الگ چیزیں سمجھتے ہیں نتیجے میں ان کے لاشعور میں سائنس کا تصور “اینٹی مذہب” بن جاتا ہے۔ اب سب نے چونکہ جنت میں جا کر حوریں حاصل کرنی ہیں لہذا یہاں دنیا میں زبانی کلامی دشمنوں پر لعنت ملامت کر کے اور عورتوں کی طرح جھولیاں پھیلا پھیلا کر کوسنے دے کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر حوریں نہ ملیں مسلمانوں کو تو پھر کیا ہو گا؟

سائنس میوزیم ایک ایسی جگہ جہاں مذہب جانے سے پرہیز کرتا ہے۔ لیکن لوگ جاتے ہیں۔ عیسائی صبح چرچ جاتے ہیں اور دوپہر کو میوزیم۔ مسلمان میوزیم جانے کے بجائے تھیڑ جانا پسند کرتے ہیں۔ سائنس میوزیم لاہور میں بھی ہے اور یہاں رچمنڈ میں بھی۔ عمارت، عظمت ٹیکنالوجی اور معلومات کے حوالے سے کسی شک و شبہ کے بغیر یہاں کا لاہور والے میوزیم پر فوقیت رکھتا ہے۔ لیکن جس بات سے میرے دل میں لاہور والے کی عظمت برقرار ہے کہ وہاں کا سب کچھ سکولوں کالجوں کے بچوں کے ماڈلز پر مشتمل تھا۔ ان کی محنت اور لگن تھی جو کہ باقی لوگوں کو بھی فورس کرے کہ وہ بھی کچھ ایسا کر کے دیکھائیں۔

والدین چھوٹے چھوٹے بچوں کو پکڑ پکڑ کر ان کو سب کچھ بتا اور سکھا رہے تھے۔ اس کے برعکس ہم لوگ اول تو جاتے ہی نہیں جائیں تو بھی کچھ سیکھنے کو چھوڑ کر ادھر ادھر گھوم پھر کر واپس آ جاتے ہیں۔ روشنیاں، رنگ، ستارے، سورج زمین اور دن رات کا بننا اور موسموں کی تبدیلی۔ چاند پر جا کر انسان کیسا محسوس کرتا ہے۔ سب کچھ عملی طور پر موجود تھا اور لوگ لائن میں لگ کر بچوں کو اس میں حصہ دلوا رہے تھے۔

جگہ جگہ سکرینز کے ذریعے چیزوں کی وضاحت کی جا رہی تھی۔ بچوں کے لئے ایک کھیل تھا جس میں ایک کارڈ لیں اس پر موجود نشانات کے ذریعے میوزیم کے مختلف حصوں میں جائیں (ایک ہی فلور پر) وہاں جا کر مزید انفارمیشن پڑھیں جیسے اگر کارڈ پر سوال دل پر ہیں خلئیوں پر یا مچھلیوں پر تو اس کے متعلقہ مختلف جگہوں پر اور چیزیں بھی پڑیں ہیں ان تک جائیں معلومات حاصل کریں اور کارڈ پر وہاں موجود پلیٹ سے نشان ڈالیں۔ کھیل کھیل  میں معلومات حاصل کرنے کا بہترین طریقہ تھا۔

Volunteers لڑکے اور لڑکیاں جگہ جگہ لوگوں کو معلومات فراہم کر رہی تھیں اور جہاں کوئی مشین عوام کے استعمال کے لئے رکھی گئی تھی وہاں وہ لوگوں کو اس پر مدد فراہم کر رہی تھیں۔

مسلمان بچوں کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ ان پر جو لادیں گے وہی وہ بنیں گے۔ مانا آپ بھی کبھی بچے تھے اور آپ کو ایسا آپ کے والدین نے بنایا لیکن خدا نے دماغ بھی دیا ہے اس کو استعمال کریں۔ مذہب میں احکامات اور بھی بڑی قسم کے ہیں مسلمان کچھ خاص قسم کے احکامت لے کر بھاگے دوڑے پھرتے ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے احکامات پر بھی غور کریں۔

مسلمانوں کی بےوقوفی کا اندازہ لگانا ہو تو محرم کو دیکھ لیں۔ ایک واقعہ جس کو ہم لے کر آج تک پیٹ رہے ہیں۔ جیو سے میری نفرت تو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ساری دنیا کا نیا سال ہنسی خوشی شروع ہوتا ہے اور ہمارا رونے دھونے سے۔ پورا ایک ماہ ضائع کیا جات ہے۔ جن بچوں کو سائنس پڑھانی چاہئے ان کو مرثیے اور نہ جانے کیا کیا پڑھایا جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اور مرثیے پڑھتے پڑھتے پیٹ رہے ہوتے ہیں۔ میں نہ شیعہ ہوں نہ سنی میں صرف مسلمان ہوں (چاہے نام کا سہی) لیکن  میرا مقصد کوئی شرارت کرنے کا نہیں ہے کہ سنی شیعہ ڈیبیٹ شروع ہو۔

سائنس کو اینٹی مذہب سمجھنے کے بجائے مذہب کی تائید کرنے والا کیوں نہیں سمجھا جا سکتا؟ سائنس اور مذہب میں ایک فرق ہے مذہب (ہر مزہب کے علما کی تشریحیں نکال کر) کی بات حرف آخر ہے ایک نہ ایک دن اس کی سچائی مل جانی ہے۔ سائنس میں کوئی بات حرف آخر نہیں اس میں ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا دریافت ہوتا رہے گا۔ لہذا اگر سائنس مذہب کو جھٹلاتی ہے تو کوئی بات نہیں کچھ عرصہ صبر کریں سائنس مزید ترقی کرے گی تو مذہب کی بات کی تائید کر دے گی۔ جہاں سائنس مذہب کی تائید کرے تو واہ جی واہ مذہب ہمارا سچا اور جہاں سائنس نے جھٹلایا تو وہی عجیب روئیوں کی ابتدا۔

 

Popularity: 13% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 13% [?]

273 views

 

 

Related Posts

  • Governor School, Lynchburg college On November 1, 2008, 1 Comments
  •   میرے کزن نے گرمیوں میں گورنر سکول ایک ماہ کے لئے اٹینڈ کیا۔ گورنر اسکول دراصل ایک اعزازی کلاس یا اسکول ہوتا ہے اس میں ہر اسکول کے نامزد کردہ بہترین بچوں کو کلاسز دی جاتی ہیں۔ دہم سے نیچے گورنر اسکول پاس ہی ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے پاس گورنر اسکول پیٹرزبرگ میں ہے جو
  • Google Summer Of Code On March 22, 2007, 0 Comments
  • Looking for something fun to do this summer? All college and university students around the world are invited to apply to get paid $4,500 USD to work on your favorite open source project this summer. WordPress is among the 131 accepted to Google Summer of Code, of more than 300 projects that applied We have eight
  • gov gone wild On March 6, 2007, 5 Comments
  • If you live on planet earth you would have known “girls gone wild”, If you live in United States of America, You must have known “guys gone wild”. But there is somethin you are missing. The famous gov gone wild. The next release of “guvs gone wild”, we all have been watching this crazy drama over


7 Responses to “سائنس میوزیم”

  1. 1 اظہر الحق

    یہ نقصان ہے آدھے علم ۔ ۔ ۔چلو کسی اور نہ سہی آپ ہی تحقیق کر لیتے ، نیٹ بھرا پڑا ہے ان سوالوں کے جوابوں سے ۔ ۔ ۔ مگر ہم بھی کیا کریں ، ہمیں روشنی نظر آتی ہے تو مغربی “تفقرات“ میں ۔ ۔ ۔ کہنے کو بہت کچھ ہے میرے پاس مگر ، صرف اتنا کہوں گا کہ ترقی کا مطلب صرف مشینیں نہیں ہوتیں ، اور اسلام بہت کچھ سائنس کا کہتا ہے اور لوگ کر بھی رہے ہیں ، ناسا میں اور ناجانے کہاں کہاں ہمارے سائنسدان کام کر رہے ہیں ، مسلئہ یہ ہے کہ ہم جاننا نہیں چاہتے ، اگر میں آپکو کہوں کہ پاکستان میں اس وقت صرف دھان (چاول) پر جو ریسرچ ہے وہ ساری دنیا میں مشہور ہے آپ کیا کہو گے ؟ اگر میں آپکو بتاؤں کہ کہوٹہ ریسرچ لیب میں ایٹمی تجربات کے علاوہ بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو بہت یونیک ہے تو آپ کیا کہو گے ، صرف یہ ہی نا کہ یہ تحقیق کیوں عام نہیں ہو رہی ، اس لئے کہ ہمارے ہیرو اب سائنسدان نہیں بلکہ فلموں والے اور گانے والے ہیں ، مذہب تو بس ایک دم چھلا ہے ۔ ۔ ۔ مجھے یاد ہے کہ کسی ایک فورم پر جب میں نے پاکستانی سائنسدانوں کا تعارف کروایا تھا تو لوگوں نے بجائے اچھا کہنے کے برا کہا تھا ، کہ پتہ نہیں کن کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں جنکا نام نہ ٹی وی میں آتا ہے نہ نیوز میں ۔ ۔۔ آپنے سائنس میوزیم کی بات کی ہے ، پاکستان کی بات چھوڑین یہاں یواے ای میں بہت کچھ موجود ہے جیسے شارجہ کے میوزیم میں دنیا کا قدیم ترین نقشہ موجود ہے ، ڈھائی کڑوڑ سال پرانے فوسل ہیں ، مگر جب میں انکے بارے میں کسی سے بات کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں چھوڑو یار ، نئی فلم دیکھتے ہیں ، اور جب میں غصہ ہوتا ہوں تو وہ کہتے ہیں تم ترقی نہیں کر سکتے ، بس یہ ہی وجہ ہے کہ میں سب جان کہ بھی ترقی یافتہ نہیں اور وہ کچھ نہ جان کہ بھی ۔ ۔ ۔ ۔ سب سے ممتاز ہیں

  2. 2 Sajid Iqbal

    بدتمیز بھائی ڈارون کے نظریات پر یقین کرنے سے پہلے یہ تحاریر بھی پڑھ لیں:۔
    http://www.harunyahya.com/c_refutation_darwinism.php

  3. 3 قدیر احمد

    امام حسین اور ان کے خاندان پر جو مظالم ہوئے ، انہیں یاد کر کے رونا اچھی بات ہے
    مگر ماتم کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا
    میسنجر پر آؤ تو اس پر تفصیل سے بات ہو

    اور بدتمیز آدمی تمہارے ہاں پیراگراف کا تصور ہے یا نہین؟ چوں چوں کا مربہ بنا دیتے ہو

  4. 4 ۡQadeer Ahmad

    امام حسین اور ان کے خاندان پر جو مظالم ہوئے ، انہیں یاد کر کے رونا اچھی بات ہے
    مگر ماتم کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا
    میسنجر پر آؤ تو اس پر تفصیل سے بات ہو

    اور بدتمیز آدمی تمہارے ہاں پیراگراف کا تصور ہے یا نہین؟ چوں چوں کا مربہ بنا دیتے ہو

    yar why don’t you use word verification for comments instead of Akismet? it doesn’t accept my comment if I write my name in Urdu

  5. 5 بدتمیز

    slam
    میں آپ دونوں حضرات کی باتوں کا جواب کسی تحریر میں دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

  6. 6 نعمان

    تعصب علم کو کھا جاتا ہے۔

  7. 7 بدتمیز

    سلام
    نعمان اور قدیر میں معافی چاہتا ہوں آپ دونوں کے کمنٹس رکے رہے۔
    they were blocked by akismet.
    نہیں قدیر تمہیں ایک دفعہ پرمیشن دینے کی ضرورت تھی اس کے بعد یہ آئندہ بلاک نہیں کرے گا ہاں اگر تم ای میل یا ویب سائیٹ ایڈریس تبدیل کرو گے تو شاید دوبارہ روک لے۔

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...
    • ریحان: اب اگر میرے والدین آپس میں کزنز تو میں پھر زہنی مریز کنفرم

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2859
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (658) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank:
    • Alexarank: 385079

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->