خاور کی تحریر پڑھ کر مجھے ایک ایسی بات یاد آ گئ جس پر لکھنے کے بارے میں میں گزشتہ سال مئی سے سوچ رہا ہوں۔ مجھے اس بارے میں معلومات اس وقت حاصل ہوئی تھیں لیکن نہ جانے کیسے مجھے یاد ہی نہیں رہا اس بارے لکھنا۔
ہمارے ایک جاننے والے ایک عرصے سے ہمیں مرغی کا گوشت کھانے سے منع کر رہے تھے۔ ان کی تبلیغ کا اثر ہمارے ابا جان پر بھی ہونے لگا تھا لہذا مرغی کا گوشت ہمارے گھر پکنا 2٫3 سال سے نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ میں چونکہ ڈھیٹ ترین ہوں دوسرے الٹی سیدھی حرکتیں کرنا میرا شیوہ ہے لہذا میں تو برڈفلو تک میں مرغی سے احتراض کے حق میں نہیں تھا۔
لیکن جب ہم یہاں آئے تو یہاں ایک بڑے معتبر ذرائع سے پتہ چلا کہ پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔ ساری دنیا اپنے اپنے ملک میں خود کو محفوظ سمجھتی ہے لیکن پاکستان اب پاکستانیوں کا نہیں رہا۔ اس پر گماشتوں کو قبضہ ہے جو اپنے ذرا سے فائدہ کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
خنزیر اچھا جانور ہے۔ مسلمانوں کو حرام ہے۔ لہذا مسلمان اس پر کسی قسم کی تحقیق سے محروم رہے۔ لیکن دوسری قومیں ان پر تحقیق میں بازی لے گئیں۔ ان کے ایسے ایسے فائدے ڈھونڈیں گئے ہیں کہ یقین نہیں آتا۔ جیسے جب میں چھٹی جماعت میں تھا تو کسی اسلامی جماعت نے لپ اسٹک کے بارے میں ایک مضمون شائع کر کے لاہور میں سڑکوں پر بانٹا تھا کہ اس کے اندر استعمال ہونے والی چکنائی خنزیر کی چکنائی سے حاصل کی جاتی ہے۔ میں یقین نہیں کر سکتا تھا کہ یہ نکمے اسلامی جماعتوں کے جن کو کچھ پتہ نہیں سوائے مخالفت کے کیسے صیح کہ سکتے ہیں۔ بہت بعد میں جب میں کلاس نہم میں تھا تب ہمارے کیمسٹری کے استاد کے استاد نے جو کہ یورپ کی کسی یونیورسٹی میں کمیسٹری کے پروفیسر تھے نے اس بات کی تائید کی تھی۔
اسی طرح gelatin کے بارے میں کچھ عرصے تک کچھ نہیں ہوتا سب جھوٹ ہے سننے کو ملتا تھا لیکن امریکہ آ کر پتہ چلا کہ یہ بالکل سچ ہے اس کے بننے میں خنزیر کی کھال استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اب جو نئی بات ہے وہ کچھ اور ہی بھیانک ہے۔ سمجھ آ جانی چاہئے کہ ہماری قوم ساری کی ساری مجھ جیسی کیوں ہوتی جا رہی ہے۔
تفصیل کچھ یوں ہے کہ کل تک جو مرغی دانہ بازار میں عام ملتا تھا وہ چونکہ وہی تھا جو کہ انسانوں کے کھانے کا تھا لہذا بڑھتی ہوئی آبادی نے ایک کام یہ دیکھایا کہ پہلے تو اس مرغی دانے کو جو کہ عام طور پر گھٹیا قسم کی گندم پر مشتمل تھا کو انسانوں کے لئے مختص کیا۔ کیونکہ اس سے مرغیاں قدرتی طریقہ پر بڑھتی تھیں اور جلد موٹی نہیں ہوتی تھیں۔ اس لئے چکن فیڈ کے نام پر باہر سے مرغیوں کی خوراک منگوانے کا کام شروع کیا گیا۔ اس فیڈ میں خنزیر کی کھال، بال اور کھر سب کو کرش کر کے ڈالا جاتا ہے۔
اس سے پہلے ملکی تیار شدہ جونسی فیڈ استعمال ہو رہی تھی وہ کراچی کے کسی بااثر خاندان کی تھی جس کے زیر اثر مچھیروں کے تمام قبیلے تھے۔ اس فیڈ میں مچھلیوں کی باقیات اور مردہ مچھلیاں شامل تھیں جنکو کرش کر کے مرغیوں کی فیڈ تیار کی جاتی تھی۔ لیکن چونکہ کسی وجہ سے جو اب مجھے یاد نہیں اس خاندان نے قیمت بڑھا دی تھی تو ان کو سبق سکھانے کے لئے باہر سے فیڈ منگوائی گئی۔
فوج کو چونکہ سول اداروں میں گھسا دیا گیا ہے لہذا ان میں سے ہی ایک سخت مزاج آفیسر جو کہ امپورٹ ایکسپورٹ یا اسی کام سے متعلقہ کسی محکمہ کے سربراہ تھے نے اس بات کا نوٹس لیا اور تمام فیڈ قبضے میں لے لی۔ اب لاہور لیب ٹیسٹ والوں سے ٹیسٹ کرنے کا کہا تو وہ کہتے ہمارے پاس یہ سہولت نہیں۔ کراچی والوں سے کہا تو کراچی لیب نے کہا کہ ہمارے پاس kit نہیں۔ چونکہ یہ صاحب فوجی تھے لہذا انہوں نے لاکھوں روپے کی kit فرانس سے خرید کر فوری منگوائی۔ ٹیسٹ رپورٹ میں پتہ چلا کہ خنزیر شامل ہے۔
فیڈ ایسوسی ایشن کے اربوں روپے پھنسے ہوئے تھے لہذا انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا اور چوری چھپے اٹلی کی چیمبر آف کامرس سے رابطہ کیا کہ ہم تم سے اربوں کا کاروبار کر چکے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے تم یہ خط لکھ کر بھجوا دو کے اس میں خنزیر شامل نہیں۔ وہاں ان لوگوں نے ڈاکٹر جنرل کو کہا تو وہ مرد کا بچہ بولا کہ میں کسی صورت جھوٹ لکھ کر نہیں دے سکتا جس کے بعد اٹلی والوں نے یہاں معذرت کر لی۔
اس دوران چونکہ فیڈ تالا بند پڑی تھی لہذا بارش ہونے پر فیڈ مالکان کو اجازت دی گئی کہ اس پر ترپال ڈال دیں۔ اس پر بھی فیڈ مالکان نے فیڈ چرانے کی کوشش کی گئی لیکن پکڑے گئے اور اس کے بعد اس وقت تک یہ حال تھا کہ ان کو کہا گیا تھا کہ چاہے یہ یہیں بارش سے تباہ ہو جائے ان کو اس تک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس کے بعد کے حالات مجھے معلوم نہیں۔ تھوڑا سا یاد ہے کہ شاید بات عدالت تک گئی تھی۔ لیکن اس کو پبلک نہیں کیا گیا تھا کہ عوام آگے ہی صدر مشرف سے تنگ ہیں تو کہیں اس پر ہنگامے نہ شروع ہو جائیں۔ وثوق سے نہیں کہ سکتا۔
اب تازہ ترین صورت مجھے نہیں معلوم۔ معلوم کرنے کی کوشش کروں گا لیکن میرا ان صاحب سے ابھی کوئی کانٹیکٹ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کسی صاحب کو اس قسم کی معلومات ہوں تو ضرور شامل کریں۔ اس سب کہانی میں سے بہت کچھ مجھے بھول چکا ہے دھندلا سا یاد ہے لیکن میں خوامخواہ افواہ پھیلانا نہیں چاہتا لہذا صرف اتنا لکھا ہے جتنا پکا پکا یاد ہے۔ واضح رہے میرے پاس اس بارے کسی قسم کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ لیکن جن صاحب سے مجھے علم ہوا وہ کسی کمپنی کے فیڈ مینیجر تھے اور ان کو ساری بات کا علم تھا۔
Popularity: 8% [?]
Popularity: 8% [?]
257 views
Related Posts
- None Found


























سالگرہ مبار ہو آپ کو ۔ اگر واقعی ہے اور اگر نہيں تو پھر پيشگی مبارک
ميں آپ سے کم از کم دو بار پوچھ چکا ہوں کہ آپ مجھے اپنا کوئی ايسا نام بتائيے جس سے ميں آپ کو مخاطب کروں کيونکہ ميں نے جب سے ہوش سنبھالا ساٹھ سال تو ہونے کو ہيں کہ ميں نے نہ کبھی گالی منہ پر لائی نہ کسی کو بد تميز کہا ۔ کاش آپ کو ميری بات سمجھ آ جائے کيونکہ لوگ کہتے ہيں ميں کسی اور دنيا کی باتيں کرتا ہوں ۔
سلام
افتخار انکل آپ بالکل صیح وقت پر مبارکباد دے رہے ہیں۔ میری سالگرہ اکیس جنوری کو ہی ہوتی ہے۔
آپ ایسا کریں مجھے بیتا کہہ کر مخاطب کر لیا کریں۔ ابھی یہ آپ کی سادہ لوحی ہے نہیں تو اکثریت میرے بدتمیز ہونے پر متفق ہو چکی ہے۔
السلام علیکم،۔
خاور بھأی کی پوسٹ پڑھی تو مجھے کچھ ہمدردی بھی ہؤٔی اور حیرانی بھی۔ ہمدردی ان کی حالت زار پڑھ کر اور حیرانی اس بات کی کہ کیا واقعی مسلمان لوگوں کے کاروبار میں اتنی لا پرواہی برتی جاتی ہے؟۔
میں کینیڈا میں اک چھوٹے شہر میں رہتا ہوں اور پیرس سے اس کا موازنہ نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے بڑھے شہروں میں ایسا ہوتا ہو ورنہ ایک مسلمان کو گوشت کا کاروبار کرنے کی اصل وجہ سوأے اس کے کیا ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کو حلال گوشت کی فراہمی ہو۔ جب ۱۱ سال پہلے میں یہاں آیا تھا تو اکثر لوگ مجھے یہی مشورہ دیتے تھے کہ بسم اللہ پڑھ کر گوشت کھا لیا کرو، یہ مت دیکھا کرو کہ یہ ذبیحہ ہے یا نہیں۔ سوأے اکا دکا حضرات کے جنہوں نے خاص طور سے تنبیہ کی کے ایسا گوشت حلال نہیں ہوتا۔
خیر یہ تو بات ہے ۱۱ سال پرینی جب ذبیحہ حلال کا ملنا تصور بھی نہ تھا، مجھے تو حیرانی اب بھی ان لوگوں کو دیکھ کر ہوتی ھے جو سپر مارکیٹ سےغیر ذبیحہ گوشت خرید لیتے ہیں اس وجہ سے کہ زبیحہ گوشت مہنگا ہے۔
اللہ ہی ہدأیت دے۔