آخر کیوں؟
140 views Published January 17th, 2007 in اردو, پاکستان نامہ.مجھے کبھی سمجھ نہیں لگی تھی کہ لوگ کیوں کہتے ہیں کہ یار میں تو اخبار نہیں پڑھتا بلڈ پریشر ہو جاتا ہے یا ٹینشن ہو جاتی ہے۔ میں کہتا تھا آرام سے پڑھیں اور سر پر سوار نہ کریں۔ دو، تین دنوں سے ایک خبر میرے سر پر سوار ہے اترتی ہی نہیں۔ بارات کو نہ صرف لوٹا بلکہ خواتین کی بے حرمتی بھی کی گئی ہے۔ لوگ خوشی خوشی شادی کے لئے گئے اور ایسی گندی حرکت۔
مجھے بالکل سمجھ نہیں لگ رہی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک جگہ پڑھا کہ روشن خیالی کے باعث فرقہ وارانہ تصادم بند ہیں۔ کاش ان کو عقل آئے کہ بھائی ابھی تو شروع ہونے ہیں۔ اور ابھی برادری ازم پر جو تصادم ہو رہے ہیں ان سے آنکھیں کیوں بند ہیں؟ روشن خیالی کے باعث اب زمانہ جاہلیت واپس آ رہا ہے۔ خواتین پہلے عزت آبرو بچا لیتی تھی وہ راستہ بھی بند ہو گیا۔
میں نے اللہ سے بہت بوچھا کہ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ تم پر تو یقین تھا کہ تمہارے غضب سے زیادہ تمہاری رحمت بڑی ہے۔ پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ کبھی خیال آئے شائد خواتین فیشن میں حد سے گزر گئی تھیں یا شائد ان کے مردوں نے کبھی کسی کی عزت کو رسوا کیا تھا جو ایسا ہوا۔ لیکن مجھے دونوں وجوہات کے باوجود بھی اس قسم کے انصاف کی توقع نہیں۔ اگر مردوں نے کوئی الٹی حرکت کی ہو تو اس کی سزا ان کو دینی چاہئے اور اگر خواتین حد سے گزر گئیں تھیں تو یہ تو کوئی طریقہ نہ ہوا۔
اللہ کے بارے میرا خیال ذرا ہٹ کے ہے۔ میرا نہ تو اس کی مصلحت والی تھیوری پر یقین ہے نہ میں اس کے غضب کو اس کی رحمت سے بڑا گردانتا ہوں۔ شائد ہی کبھی مجھے اس سوال کا جواب مل سکے کہ ایسا کیوں ہوا۔ میرے ان سوالات میں جو میں نے اللہ سے پوچھنے ہیں میں ایک سوال کا اور اضافہ ہو گیا۔
Popularity: 13%
Popularity: 13%
140 views
Related Posts
- None Found
Random Posts








جی یہ گانا ہی تھا تو وہ کوڈ ڈالنا بھول گیا۔
بہت آسان جواب ہے اسکا ، ہم سب بے حس ہیں ، ہمارے پڑوس میں ماتم ہوئی تو ہمارے گھر والوں کا سوپ سیریل تو مس نہیں ہونا چاہیے نا ۔ ۔ ۔ جو لوگ لٹ گئے وہ نہ تو میرے مامے چاچے یا دوست تھے ، اگر ہوتے بھی تو میں زیادہ سے زیادہ انکے پاس جا کہ تسلی کے کچھ لفظ بول دیتا ، اور پھر واپس اپنی زندگی کی طرف ۔ ۔ ۔ رہی بات اللہ کی تو میں تو ہمیشہ ایک ہی بات کہتا ہوں ، کہ مجھے اللہ سے اتنا ڈر نہیں لگتا جتنا بندوں سے کیونکہ اللہ تو معاف کر دے بندے کبھی معاف نہیں کرتے ، خاص کر وہ جو کدورتیں پالتے ہیں ، ویسے میں نے سنا ہے کہ اللہ سے انصاف مت مانگو ، رحمت مانگو ، ورنہ اسکا انصاف بہت سخت ہوتا ہے ، اور ہم پر اسکی رحمت ہی برسے تو اچھا ہے وہ رحیم و کریم ہے ، اور ہمیں اسکے قہار و جبار ہونے کا بھی یقین ہے ۔ ۔ ۔ مگر وہ قہار و جبار تب ہی ہوتا ہے جب اسکے اپنے بندے اسکی ہدایتوں کو بھول جاتے ہیں ، سوال ۔ ۔ تو بہت ہوتے ہیں ہمارے دل میں اسکے لئے ، اور وہ اسکا جواب بھی دیتا ہے ، مگر ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ، اور جب ہمیں سمجھ آتا ہے وہ جواب تو ۔ ۔ ۔ استغفار کا وقت بھی بیت چکا ہوتا ہے اور اس پچھتاوے کا مداوا بھی نہیں ہوتا ۔ ۔ اللہ ہم سب پر اپنی رحمت کرے اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر کرے (آمین)
[reply to this comment]
ظلم کی انتہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ حکومت کو لوگوں کی نہیں بلکہ اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ ہماری تو زبان پر صرف ایک ہی دعا رہتی ہے کہ اے اللہ مسلمانوں کو ایک مسلمان اور خدا ترس حکمران عطا فرما۔ لیکن اللہ فرماتا ہے کہ وہ اسی طرح کے حاکم مسلط کر دیتا ہے جس طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔
[reply to this comment]
السلام علیکم،۔
معاف کیجیٔے گا، مجھے اصل واقعہ معلوم نہیں ہے لیکن میں اس مصلحت کی تھیوری سے متعلق کچھ ضرور کہنا چاہوں گا۔
کچھ سوالوں کے جواب تو آپ کو عمر بھر نہیں ملیں گے کیوں کہ یہ تو آپ کی ان خامیوں میں سے ہے جو اللہ نے انسان کی تخلیق کے وقت ہی
انسان میں ڈال دی تھیں لیکن ساتھ ہی ساتھ اس نے انسان کو بتا بھی دیا کہ کوشش کرتا رہ عبد بن کر کہ شاید میری رحمت سے تو ان کے جواب پا
لے۔ اب سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم میں اتنا ظرف ہے کہ اس کٹھن راستے پر چلتے ہؤے ان سوالوں کے جواب تلاش کر سکیں۔ یا یوں کۂے کہ کیا ہم
میں اتنا ایمان ہے کہ نہ سمجھتے ہؤے بھی اس کے فیصلوں پر مضبوطی سے یقین رکھیں۔ اب یہ تو منطق ہی ہے کہ سب کچھ منطق نہیں ہے۔
آپ نے کہا کہ آپ اللہ کی مصلحت والی تھیوری پر یقین نہیں رکھتے لیکن مسٔلہ تو یہ ہے کہ آپ کے پاس اس پر یقین کرنے کے سوا کؤی چارہ بھی
نہیں ہے۔
قرآن پاک کے شروع ہی سے اللہ ہمیں بتا دیتا ہے کہ یہ کتاب تو ان کوگوں کے لیے ہے جن کو غیب میں ایمان ہے
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ
“جو غیب میں یقین رکھتے ہیں، نماز کا قیام کرتے ہیں اور اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو نوازا ہے”
۔ اب مصلحت تو ہم اسی چیز کو کہتے ہیں جس کی منطق ہمیں سمجھ نہ آے اور ایسا کام غیب ہی ہے۔ جہاں تک بات ہے کہ اللہ کی پکڑ اتنی سخت
کیوں ہے، ایک کی سزا دوسرے کو کیوں مل رہی ہے، یہ کیسا انصاف ہے تو اسکا جواب بھی اللہ نے اسی قرآن پاک میں دے دیا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں کہ اللہ کی ہم پر رحمتیں نازل ہوں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:۔
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلاَ مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ
مِن وَالٍ (13:11)۔
“۔۔۔واقعی اللہ کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نا بدلے، اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت ڈالنا چاہےتو
اسکے ہٹنے کی کؤی صورت نہیں، اور اللہ کے سوا کؤی ان کا مددگار نہیں رہتا”۔
دوسری بات جو اظہر صاحب نے کہی کہ ہمارا رویہ یہ ہو گیا ہے کہ بھلے پڑوس میں ماتم ہو لیکن ہماری خوشیاں ادھوری نہیں رہنی چاہیٔیں۔ ہمیں
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر ہمارے آس پاس کے لوگوں میں احساس ختم ہو گیا ہے تو کم سے کم ہم میں تو کسی حد تک ہے یہ احساس۔ تو یہ
بھی ایک سوال بن کر قیامت کے دن ہمارے سامنے پیش کیا جأیگا کہ میاں تم نے کیوں اپنے ٹوٹے پھوٹے انداز میں لوگوں کو صحیح راستے کی
تلقین نہ کی۔
قرآن پاک میں ایک واقع ہے کہ اللہ نے ایک بستی پر وہاں کے مکینوں کی اللہ سے غفلت پر عذاب دینے کا فیصلہ کیا تو فرشتوں نے کہا کہ اس
بستی میں ایک عابد بھی ہے جو ہر وقت آپ کا نام لیتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ سب سے پہلے اس پر عذاب نازل کرو کہ اس نے سچ راستے کی
اپنے لوگوں میں تبلیغ کیوں نہ کی۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:۔
وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (42:30
“اور جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں سے کیے ہؤے کاموں کی وجہ ہے۔۔۔”
رہا سوال کے کٔی دفعہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو سزا ملتی ہے جن کا کؤی قصور نہیں تو یہ بھی ہمارے ہی اعمال ہیں۔ سوچو کہ اگر ہم
اپنی منطق استعمال کریں (جو ہم آجکل تو عموما کرتے ہی ہیں)، تو یہ سوچ کر تسلی کر لیتے ہیں کہ چلو یار اگر میں نے کؤی گناہ کر بھی دیا تو
میں ہی اس کی سزا بھگتوں گا نا۔ لیکن اگر یہ چیز ہماری سمجھ میں آ جأے کہ ہماری برأی کی وجہ سے کسی معصوم کو بھی سزا مل سکتی ہے تو
شأید ہم گناہ کرتے وقت تھوڑا سوچیں گے ضرور۔ یہ کسی کا قیاس نہیں ہے، بلکہ قدر کا حصہ ہے جس پر ہم سب ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا
ہے:۔
وَاتَّقُواْ فِتْنَةً لاَّ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمْ خَآصَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (8:25) ۔
“اور اس فتنہ سے ڈرو جو صرف ان لوگوں پر نازل نہ کیا جاوے گا جو مجرم ہیں، اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے”
یہ بات تو سچ ہے کہ امتحان تو اللہ کی طرف سے آٔیگا ہی، اور اس کی وجہ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ، ہمارے اعمال اور اللہ کی یاد سے
کوتاہی ہی ہے۔
[reply to this comment]
اظہر اللہ سے انصاف مانگنے کی غلطی تو میں نے کبھی کی ہی نہیں۔ میں فٹ اپنی بات کرتا ہوں کہ یہ چاہئ وہ چاہئے یا یہ کردو اور وہ کر دو۔
میرا پاکستان لوگ برے ہیں لیکن اتنے نہیں جتنے بنائے گئے ہیں۔ حکمران تو ماشأاللہ ہیں۔ اور غلطی جرنل صاحب کی بھی نہیں تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔
[reply to this comment]
ابو حلیمہ آپ کے تبصرے کا بہت شکریہ
میں اس حوالے سے اپنے نظریات بعد میں کبھی مکمل پوسٹ کی صورت میں لکھوں گا۔
[reply to this comment]
اگر رحم کرے ہم پر ورنہ ہمارا کوئی حال نہیں ہے، بس توبہ و استغفار سے مصیبتیں ٹالی جا سکتی ہیں۔ اظہر ٹھیک کہا ہے کہ ‘مجھے اللہ سے اتنا ڈر نہیں لگتا جتنا بندوں سے کیونکہ اللہ تو معاف کر دے بندے کبھی معاف نہیں کرتے‘ میں تو کہتا ہوں بندہ ہر کام کرے مگر کبھی کس کا دل نہ دکھائے کیونکہ دل سے نکلی آہ بندے کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔
[reply to this comment]
ایک اور درخواست تھی کہ بلاگ کا فانٹ تبدیل کر لیں تو بہتر ہے ٹاہوما فانٹ پڑھنے میں کوفت ہوتی ہے۔
[reply to this comment]