بلاگنگ اب بہت کامن ہو چکی ہے۔ لوگ مختلف سروسز استعمال کرتے ہوئے بلاگ لکھتے ہیں۔ میں نے 2003 میں جب بلاگ لکھنا شروع کیا تھا تب گوگل کو بلاگر لئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ تب میری بلاگنگ سوائے ایک پرسنل ڈائری کے کچھ نہیں تھی جسکو میں کہیں سے بھی اپڈیٹ کر سکتا تھا۔ اس میں سوائے پرسنل باتوں کے کچھ نہیں تھا۔ پہلے میں ہر سال ڈائری میں اہم باتیں نوٹ کرتا جاتا تھا۔ ایک دفعہ گھر میں آئے کسی مہمان نے ڈائری نکال کر پڑھنی شروع کر دی۔ مجھے اپنی چیزوں سے چھیڑ چھاڑ بالکل برداشت نہیں۔ لہذا میں اپنی ڈائریاں پھاڑ کر پھینکنے ہی والا تھا کہ خیال آیا کیوں نہ ان کو انٹرنیٹ پر منتقل کردوں۔ ان دنوں انٹرنیٹ میرے لیے ایک ایسی جگہ تھی جہاں سب کچھ ممکن ہے۔ میرے دوستوں کو میری اس بات سے بے حد چڑ تھی کہ انٹرنیٹ پر سب کچھ ممکن ہے۔ میرے اس زمانے کے کئی concept بعد میں حقیقت بنے اور میرے سب دوست ابھی تک حیران ہوتے ہیں کہ کیسے میرے خواب لوگوں نے حقیقت بنا کر چھوڑے۔
بلاگ پر منتقل کرنے سے پہلے میں نے بہت کوشش کی کہ اپنی ایک سائیٹ بنا لوں جسکو اپڈیٹ کرتا رہوں۔ مشکل ہر جگہ مخصوص سپیس کا ہونا تھا۔ لہذا 2001 سے 2003 تک میں مختلف جگہ تجربے ہی کرتا رہا۔ وہ دن شاید بہترین دن تھے۔ جب میں نے لگ کر کوشش کی۔ اب تو میں اس قدر سست اور کاہل ہو چکا ہوں کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ 2003 میں بلاگنگ کا concept دیکھتے ساتھ ہی مجھے لگا کہ ڈائری کو کسی جگہ محفوظ کرنے کا بہترین حل یہی ہے۔ وجہ میرے خاندان کا انٹرنیٹ کے حوالے سے جاہل ہونا بھی تھا۔ لہذا خاندان کے ایسے عقلمندوں سے بچنے کے لئے میں نے تمام ڈائریاں بلاگ پر منتقل کیں اور ان کو “نذر آتش” کر دیا۔ اس سے کچھ عرصے کے لئے مجھے اطمینان رہا کہ چلو جان چھوٹی
لیکن کہاں، جب حارث نے 2005 میں مجھے دریافت کیا تو مجھے پتہ چلا کہ لوگ لکھنے کے علاوہ دوسروں کے بلاگ پڑھتے بھی ہیں۔ اور یہ آپکی الٹی سیدھی باتیں دوسروں کو غصہ بھی دلا سکتی ہیں اور ان کے دل کی بات بھی کہہ سکتی ہیں۔ اس سے پہلے میں ایک عرصے سے بی بی سی کی اردو سائیٹ دیکھ کر اردو میں بلاگ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن کاہلی مائیکروسافٹ کا اردو کی بورڈ سیکھنے کے راستے میں آڑے آتی رہی یہاں تک کے اسپائڈر رسالے میں ایک آرٹیکل شائد جولائی 2005 میں تھا اردو یونیکوڈ کے حوالے سے، میرے دوست طلحہ نے میری توجہ اس کی طرف دلائی۔ ہماری کلاس میں اس نے چالاکی سے پہلے اس کی پریزینٹیشن دی بعد میں مجھے کہا کہ یہ لو تمہارے کام کی چیز ڈھونڈی ہے۔ اس کی پریزینٹیشن ابھی تک ہماری کلاس کی یادگار ترین پریزینٹیشن ہے کہ خود ٹیچر تک کو اس بات کا نہیں پتہ تھا۔
ڈیڑھ سال گزر چکا ہے میری سوچ کہ اردو کی دنیا میں انقلاب آ جائے گا سوچ ہی رہی۔ ایسا کچھ نہ ہو سکا۔ اردو بے چاری وہیں کی وہیں ہے۔ کہیں اسلام اور اردو کو مکس کر دیا جاتا ہے کہیں اردو میں انگریزی بولنے پر اعتراض اور کہیں فانٹ کی ناپسندیدگی۔
میں ایسے ہی اردو محفل کے statistics دیکھ رہا تھا تو شدید مایوسی ہوئی صرف 900+ یوزرز ہیں۔ میرا خیال تھا کم از کم بھی 2 یا 3 ہزار تک ہونگے۔ پوسٹس کے حوالے سے تو ایسا ہی لگتا تھا۔ اوپر سے پوسٹس کے بارے میں میں منہ نہ ہی کھولوں تو اچھا ہے۔ کچھ لوگ بڑے ہو کر بھی بڑے نہیں ہوتے۔ چلیں اچھا ہے تھوڑا اچھل کود کر لیں تھوڑی سی زندگی ہے کیا بھروسہ۔
Popularity: 9% [?]
Popularity: 9% [?]
191 views
Related Posts
- سنو مین On December 15, 2007, 10 Comments
- بچپن میں مجھے سنو مین بنانے کا بڑا شوق ہوا کرتا تھا۔ بدقسمتی سے لاہور میں کبھی برف باری نہیں ہوئی۔ صرف ایک دفعہ کبھی رات کو اولے پڑے تھے اور امی نے دیکھایا تھا اور بس۔ لہذا سنو مین نہیں بنایا جا سکتا۔ سنو مین نے میرا تعارف کرسمس سے کروا دیا۔ بیسک اٹریکشن
- جواب آں غزل On December 1, 2007, 9 Comments
- زکریا نے اردو بلاگنگ کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے بہت معذرت کے ساتھ ان کے سوالات کے جواب میں مزید سوالات ہی ملے ہیں جواب کسی بھی دوست نے دینا پسند نہیں کیا۔ میرے خیال سے اردو کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی رکاوٹ اردو کے علمبردار ہی ہیں۔ مجھے زیادہ جگہوں کا تجربہ نہیں



























حضور والا یہ بھی تو دیکھیں اردو ویب کو بنے کتنا عرصہ ہوا ہے۔ صرف ڈیڑھ سال۔ اس میں بھی جو کام کیا گیا ہے آپ کے سامنے ہے۔ اردو ویب کو ہی نہ دیکھیں اردو ہوم کو بھی دیکھیں، اور اردو کا ایک فورم نہیں درجن سے زیادہ فورم ہیں اب۔ اور ہر فورم کے اراکین ضروری نہیں کہ دوسرے فورم پر بھی مندرج ہوں۔ ترقی ہوگی لیکن وقت لگے گا۔
سلام
شاکر وقت لگے گا۔ لیکن میں ذرا اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کے حق میں نہیں
فورم کو دیکھ کر کیا کرنا بھائی۔ ہر جگہ سوائے فضولیات کے کچھ نہیں۔
اردو ویب پر بہت زبردست کام ہوا ہے۔ ویب پیڈ، فورم اور ورڈ پریس کی لوکلائزیشن، لائبریری کا قیام یہ سب بہت حیرت انگیز ہے اگر آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ یہ سب کام صرف پچاس ساٹھ لوگوں کی کنٹری بیوشن سے ہوا ہے۔
سلام
نعمان یقیناُ ہوا ہے لیکن آپ سمجھ نہیں سکے میں اردو ویب کے بارے میں بات نہیں کر رہا تھا۔ ویسے بھی مجھے کیا کچھ ہو چکا ہے کو دیکھنے کے بجائے کیا کرنا باقی ہے کو دیکھنے کی عادت ہے ۔ شکوہ لوگوں کا تھا کہ انٹرنیت پر بہت فضول وقت ضائع کرتے ہیں اور بہت فضول سرچز کرتے ہیں تو کوئی کام بھی کر لیا کریں۔