میں بالکل چھوٹا سا تھا۔ اتنا کہ اپنے ابو کا ہاتھ پکڑ کر چلتا تھا۔ ان دنوں کی ایک دھندلی سی یاد ہے۔ بڑی عید ان دنوں گرمیوں میں آتی تھی۔ ہم لوگ دادا دادی کے گھر بکرے دیکھنے بہت شوق سے آتے تھے لیکن ان کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ ہر سال بڑی مشکل سے بڑے ہمارا ڈر دور کرتے تھے اور پھر چاند رات سب اندر ٹی وی دیکھ رہے ہوتے تھے اور ہم سب بکروں کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اتنے اداس کہ اب یہ کل نہیں رہیں گے۔ ان جانوروں سے اتنا انس کیوں ہو جاتا تھا نہیں معلوم۔ شائد وہی قربانی تھی اصل میں جو کہ کرتے تو بڑے ہیں لیکن ہوتی بچوں کی طرف سے ہے جنکا بس نہیں چل رہا ہوتا کہ ان کو کسی طرح بچا لیں۔ حتی کہ ابھی 2002 یا 2003 میں میں نے ایک بکرے کو بچانے کی کوشش کی تھی کہ گھر والوں کا ارادہ ہو رہا تھا کہ اگلے دن ایک اور لا کر کریں گے تو میں کہہ رہا تھا اس کو بھی کل کر لیں گے
اور اس کے ذبح ہونے پر میرے آنسو نکل آئے تھے۔ ہم لوگ قصائی نہیں بلاتے تھے خود ہی ذبح کر لیتے ہیں لہذا اس کے وقت میں بہانے سے بھاگ گیا تھا۔
انہی دنوں لاہور کی شہری حکومت کا بہت برا حال تھا۔ صفائی ستھرائی کی تو حالت بے حال تھی۔ ہم لوگ ریواز گارڈن فلیٹس میں رہتے تھے۔ عید کو گزرے ہفتہ ہو چکا تھا۔ مگر پھر بھی ہر طرف اوجھڑیاں اور پٹھے/چارے اور غلاظت کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ سخت بدبو آتی تھی۔ جمعہ کے دن اس پر خطیب صاحب نے بات کی۔ ایک صاحب نے جمعہ کے بعد کہا کہ ہم لوگوں کو روایات بدلنی چاہئے اور قربانی کی کوئی ضرورت نہیں اس کے پیسے جمع کر کے غریبوں کی مدد کرنی چاہئے۔
ہمارے پاس ہی ایک خان صاحب رہتے تھے۔ کسی پرائیوٹ فرم میں مینیجر تھے۔ کمپنی کی طرف سے گاڑی ملی ہوئی تھی اور سال میں ایک دفعہ وہ کمپنی کے کام سے باہر جاتے رہتے تھے۔ کہنے کا مطلب کوئی چوکیدار قسم کے خان نہیں تھے۔ ان کو غصہ چڑھا انہوں نے درخت کی لچک دار ٹہنی توڑی اور فوراُ پانی والی ٹینکی جو کہ مسجد کے عقب میں تھی چلے گئے وہاں جا کر انہوں نے تمام جمعداروں کو اور کلرک کو مارنا شروع کر دیا۔ اس لچک دار شاخ نے جب ان کے جسموں پر نشان چھوڑے تو ان کے سب نشے رفو چکر ہو گئے۔ وہ پیروں میں پڑ گئے کہ ہوا کیا ہے۔ فرمایا ہفتے سے کہاں ہو چلو آج کا دن ہے صرف کل صبح جائزہ لونگا کہیں گندگی دیکھی تو تیار رہنا۔
اب یہ نکلے اور ہر گھر کو کہہ دیا کہ جونسا گند جمعداروں نے اٹھانا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کی صفائی ہو جانی چاہئے۔ ورنہ باقی کا سارا سال تمہارا کوڑا نہیں اٹھانے دونگا ۔ اب ہر کوئی انسان کا بچہ بنا اگلے دن صبح تک کہیں بھی ایک بھی اوجھڑی یا غلاظت کا نشان نہیں تھا۔ جہاں گھروں کی صفائی کے نتیجے میں گندہ پانی جمع ہوا تھا وہاں انہوں نے اپنی جیب سے مٹی اور ریت ڈلوا دی۔ اور ایک ہی دن میں سارے علاقے سے گند اور بدبو کا خاتمہ ہو گیا۔
ہم لوگ سب کے سب کاہل نکمے سست اور کام چور ہیں۔ کام کرنے سے جان جاتی ہے۔ خود کو عقل مند سمجھنے میں کمال حاصل ہے۔ اسلام ایک کوڈ ہے۔ مکمل کوڈ۔ اسکو نافظ کرنا ہے تو پورا کریں ہم اس کی چیدہ چیدہ باتوں کو نافظ کر کے سمجھتے ہیں کہ بس کام پورا ہوا۔ پھر الزام بھی اسی کو۔ جب تک آپ اسکا نفاظ مکمل طور پر نہیں کرتے آپ کیسے expect کرتے ہیں کہ یہ کام بھی کرے؟ نتیجتاُ بڑے مزے سے اس کو الزام دیا اور گھر کو گئے۔ اگر غلطی حکومت کی ہے تو ہم نے اسلام کو الزام دیا اور گئے کاموں کو۔ شہری حکومت نے غلطی کی یا ساتھ والی مسجد کے مولوی نے ہم نے الزام دیا اسلام کو اور گئے گھر کو۔ اسی طرح ساری زندگی گزار دی۔
ان صاحب نے جنہوں نے غریبوں کی مدد کرنے کی ترغیب دی تھی نے وہاں کی چوکور گراؤنڈ پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ اس کے چاروں طرف کے گیٹ بند کروا کر صرف اپنی طرف کا کھلا رکھا ہوا تھا۔ وہ گراؤنڈ جس میں ساری گرمیاں بھری دوپہر کو کتنے لوگ درختوں کے نیچے دو منٹ رک کر چلتے تھے اب باہر باہر سے جانے پر مجبور تھے۔ اس کا دروازہ صرف وہی کھلتا تھا وہ بھی شام کو جو ان کے گھر کے عین سامنے تھا اور عید کی وجہ سے ارد گرد کے تمام لوگوں نے ان سے زبردستی دروازے کھلوا کر اپنے جانور وہاں باندھے تھے کہ اتنی گرمی میں اور کوئی جگہ نہیں تھی۔ اگر ہم اپنی ذاتی غرض کی بنا پر اسلام کو الزام دیتے ہیں یا اس کی کسی بات پر اعتراض اور اس کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے ہم خود تبدیل ہو جائیں۔ اسلام کے لبادے میں چھپنا بھی ہے اور بےوقوفی بھی مارنی ہیں۔
اگر آپ کی ذاتی غرض نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن منافقت بری بات ہے۔ میرے تین چچا ہیں جو کہ بے حد امیر ہیں۔ ایک صاحب ایک گائے کرتے تھے پاکستان واپس آنے کے بعد صرف بیگم کو خوش کرنے کے لئے کہ اگر وہ اپنے رشتہ داروں کو ران نہیں بھیجے گی تو اس کی ناک کٹے گی انکو مزید دو بکرے خریدنے پڑتے ہیں۔ دوسرے چچا کی بیگم نے بھی ضد کی تو ان کے بھی دو بکرے آ گئے گائے پر اس لئے توجہ نہیں دی کہ ان کے خاندان میں بڑا گوشت کھانے کا کوئ شوقین نہیں۔ سب سے چھوٹے کی بیگم کے گھرمیں کوئی شادی شدہ نہیں سب لوگ ابھی رشتے ڈھونڈ رہے ہیں لہذا وہ بھی صرف دو بکروں پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہماری قربانی اب قربانی نہیں صیح معنوں میں دکھاوا ہے۔
اب بتائے اس سب میں اسلام کا کیا قصور؟ کیا یہ روایت اسلام کی تھی؟ غلطی ہماری لیکن الزام اسلام کا۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ اسلام بدلو میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ اپنے رشتہ دار بدلو نہیں تو لوٹ کر کھا جائیں گے۔ میرے نزدیک قربانی بکرا نہں زکواۃ ہے۔ اس پر پتہ چلتا ہے کہ کس کو اللہ کو خوشنودی عزیز ہے اور کس کو دکھاوا کرنا ہے۔
Popularity: 29%
Popularity: 29%
145 views
Related Posts
- Garmin nuvi 760 On November 2, 2007, 1 Comments
- Garmin nuvi 760 expected january 2008 Popularity: 29%SHARETHIS.addEntry({ title: "عید قربان", url: "http://www.badtamiz.com/blog/2006/12/31/%d8%b9%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86/" });
- Windows Live OneCare 2.0 On July 10, 2007, 0 Comments
- Windows Live OneCare beta 2.0 is here. This evening a message popup told me not to shutdown my system during the installation. I saw and it was for Windows Live OneCare. It was a 5 to 10 second installation on dsl, may be it took less time than expected due to the windows live onecare
- Finally On September 4, 2007, 3 Comments
- Finally I bought the Camry. I have been telling to choose one or I will. they didnt so I did A lot of peoples helped me out. Every thing went surprisngly smooth. I was thinking that this move will cost me a lot but to my surprise every thing was beyond what I expected.
- میری نظر میں On November 10, 2007, 3 Comments
- صدر؟ مملکت پاکستان جناب؟ جنرل؟ پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے بعد قوم؟ سے خطاب فرمایا۔ اس خطاب کی اکثریت کو سمجھ نہیں لگ سکی۔ اس میں صدر کا قصور نہیں۔ اکثریت کو اردو نہیں آتی۔ آئیے میں کوشش کرتا ہوں مجھے جیسے صدر کے خطاب کی سمجھ لگی ویسے آپ کو بھی سمجھانے کی کوشش
- Windows Live OneCare Family Safety Beta Refresh On December 6, 2006, 0 Comments
- Hello xyz, We’re very excited to announce that December 11th will be the Windows Live OneCare Family Safety Beta Refresh! Over the next few days, you may see a preview of the refreshed Family Safety website as we update our servers and transition them over to the new content and functionality. The website update will
- Am i weird? On December 27, 2006, 0 Comments
- I have been tagged by Zikria Ajmal for the meme where I have to write down 6 weird things about me. What I believe and most would agree is that I my self am weird. I can’t sit back and relax. I need something to do all the time even if its doesn’t worth at all and
- صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن On November 8, 2007, 4 Comments
- مغری میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے بہت تشویشناک رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں جس کا صدر کو بالکل اندازہ نہیں۔ صدر کا انداز ایسے ہی ہے جیسے وہ سو کر اٹھے ہو کچھ سمجھنے میں عمر کے تقاضے کے تحت وقت لیتے ہوں۔ خاص طور پر صدر کے انگلش میں خطاب پر بہت
- سن تو سہی On January 7, 2008, 0 Comments
- خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اور کچھ دیا نہ دیا ایک ٹیپو سلطان ضرور دے دیا۔ ٹیپو سلطان کا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ غداروں کا قلع قمع تو نہ کر سکا لیکن غداروں کو اپنا ایک قول دے گیا۔ اگر ٹیپو نہ ہوتا تو ہمارے سارے مرنے والے لیڈران اور چمچان
Random Posts








جی یہ گانا ہی تھا تو وہ کوڈ ڈالنا بھول گیا۔
بہت اچھی عکاسی کی ہے آپ نے بچپن کے ان احساسات کی جسے ہم میں سے کافی لوگ بھول جاتے ہیں۔ چھوٹے ہؤے مجھے بھی بڑا افسوس ہوتا تھا عید کے دن بکروں کی قربانی کر کے۔ ایک عید کے دن ہمیں اس بکرے کی قربانی دینی پڑی جس سے مجھے بڑا انس تھا۔ بس تہیہ کیا کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ کھانے کے وقت جب امی ابو نے پوچھا کہ کیوں کھانا نہیں کھا رہا تو امی کو بات سمجھ آ گٔی۔ پھر امی نے بڑے پیار سے سمجھایا کے اصل قربانی تو یہی ہوتی ہے کہ اپنے وہ چیز جو سب سے پیاری ہو اسے اللہ کی راہ میں دے دی جأے۔ اور پھر اسماعیل (ع) کی کہانی سنأی۔ ابراہیم (ع) اور اسماعیل (ع) کا قصہ تو پہلے بھی سن رکھا تھا لیکن صحیح طرح سمجھ اسی دن آیا کہ کس طرح ابراہیم (ع) نے اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہ کیا۔
[reply to this comment]