Teen age میں اکثر لوگ احمق ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا teen age کبھی ختم ہوتا ہی نہیں اور کچھ میرے جیسے ہوتے ہیں جو ساری کی ساری عمر احمق رہتے ہیں۔ چاہے ٹین ہو یا ٹین ڈبا
2001،2002 میں جب میرے 3 چچا اپنی اپنی جائیداد میں اضافے کر رہے تھے تو گرمیوں میں چھٹیوں میں مجھے نگرانی کرنے کے لئے وہاں بیٹھنا پڑتا تھا یہ اور بات ہے کہ میری نگرانی کی کسی کو فکر نہ تھی۔ اس دوران ایک احمق کی طرح مجھے ان مزدوروں پر بڑا ترس آتا تھا مزدور تو 110 روپے ایک دن پر سارا دن کام کرتے تھے جبکہ مستری صاحب 250 روپے لے کر بھی حکم چلاتے تھے اور ہر چیز تیار ملتی تھی اس کو یہ لگاتے جاتے تھے۔
ایک دن شام کو یہ مستری صاحب گھر آئے ابو نماز پڑھنے گئے ہوئے تھے اور آپ کو تو پتہ ہے مجھے نماز ہمیشہ سے معاف ہے لہذا میں نے اس کو اٹینڈ کیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ مزدور بہت کام کرتا ہے بہ نسبت مستری کے مگر پھر بھی مزدور کو مستری کی دیہاڑی کی آدھی سے بھی کم دیہاڈی دی جاتی ہے۔
اس نے مجھے کہانی سنائی کہ غالباُ اکبر کے زمانے میں کسی عمارت کی تعمیر پر مامور مزدوروں نے یہ شکائیت کی تو اس نے کہا کہ بلاؤ مستریوں کو ان سے کہا کیوں بھئی تمہاری تنخواہ ان سے دگنی کیوں جبکہ کام سارا یہ کرتے ہیں ان مستریوں نے کہا کہ جہاں پناہ ان کو کہیں کہ یہ 2 کینچے (شیشے کی گولیاں جن سے بچے کھیلتے ہیں) لیں اور ان کو ایک دوسرے پر کھڑا کر دیں۔ کوئی بھی مزدور ایسا نہ کر سکا تو اس مستری نے اپنی مندری (انگوٹھی) اتاری اور دونوں کینچوں کو اس کے اندر کھڑا کر کے دیکھا دیا اس پر اکبر نے مستریوں کے حق میں فیصلہ کر دیا۔
میں چونکہ teen age میں تھا لہذا مستری کی بات میرے حلق سے اتری نہیں اس میں میری احمقی کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ دو ہی دن بعد ایک واقعہ نے میری سوچ تبدیل کر دی۔ عموماُ عمارتوں کی تعمیر کے دوران ہر منزل پر ایک ڈرم پانی سے بھر کر رکھ دیا جاتا ہے کہ پانی لینے کے لئے مزدوروں کو نیچے نہ جانا پڑے اور وہ وہیں سے پانی لیں لے دوسرا موٹر بھی بار بار نہیں چلانی پڑتی۔
میں اور میرے چچا دوسری منزل کے ایک ڈرم کا پانی نکال رہے تھے کہ اب اس جگہ اس ڈرم کی کوئی ضروررت نہیں رہ گئی تھی۔ جب سب پانی نکل چکا تو پتہ چلا کسی عقل مند مزدور نے اس میں دو تین کڑاہیاں مسالے کی پھینک دی تھی۔ اب چچا جان ایسے تڑخے مستری کو اوپر بلا کر خوب چیخے چلائے اور اس کے جتنے پیسے بنتے تھے اس میں سے سیمنٹ کی 3 بوریوں کے پیسے کاٹ لیے۔ جبکہ مشکل سے آدھی بوری بھی سیمنٹ کی نہیں ضائع ہوئی ہو گی۔ اس وقت مجھ احمق کو پتہ چلا کہ مستری کے سر پر ذمہ داری کا بھی بوجھ تھا جس کے وہ پیسے لیتا تھا۔
بہت سے لوگ برابری برابری کے نعرے مارتے ہیں اور ایسے میں کوئی کہے کہ بھائی مرد کی ذمہ داری ہے تو اس کا حساب بھی سخت ہونا ہے تو کچھ خاص قسم کے مرد اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ تم گنوار ہو اور بتاؤ تمہاری والدہ اور والد برابر ہیں کہ نہیں۔ عورت کی کوکھ سے پیدا ہو کر اسی عورت کی تذلیل کرنے والے کو تو کوئی بھی نہیں پسند کرتا لیکن اگر کوئی کہے کہ عورت اور مرد کی ذمہ داریاں اور منصب مختلف ان کے نظام مختلف تو اس میں برابری کہاں سے لاؤ گے؟ کیا برابری باہر جا کر نوکری کرنے کا نام ہے؟ مجھے اکثر احمقوں کی اس بات پر بڑی ہنسی آتی ہے کہ ہمارے ملک میں آدھی آبادی کو ہم نے گھروں میں بیٹھایا ہوا ہے۔ مجھے اس آدھی آبادی کو باہر لا کر کام کروانے پر قطعاُ اعتراض نہ ہو اگر باقی کی آدھی آبادی کو نوکری مل جائے۔
ضرورت مند لڑکے نوکری کو ترستے ہیں اور اس نام نہاد برابری کی لے میں اڑتی لڑکیاں صرف شوق میں آ کر کتنی پوسٹس ہضم کر جاتی ہیں۔ عورت کو نوکری کرنی چاہئے لیکن اس صورت میں کہ اگر گھر کا خرچہ نہ چل رہا ہو نہیں تو کسی ضرورت مند کی راہ میں نہیں آنا چاہئے۔
اب یہ بات کوئی کہے تو اس پر کچھ مرد حضرات چیں بہ چیں ہو جاتے ہیں اور اکثر خواتین پنجے جھاڑ کر پڑتی ہیں کہ یہ کیا کہہ دیا۔ عورت کو مرد کے تابع کرنا مرد کی فضلیت کے باعث نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری ہے جسکا سوال اس سے ہونا ہے عورت سے نہیں۔ اور عورت لاکھ کہے کہ اس کو کہیں سے خطرہ نہیں کہیں نہ کہیں زندگی کے کسی موڑ پر اس کو عقل آ ہی جاتی ہے۔
برابری کسی کامن بنیاد پر دیکھی جاتی ہے دو مختلف اجناس کا موازنہ کرنا مجھے تو بے حد عجیب لگا۔ جسیے کوئی کہ رہا ہو چاول اچھے کہ دال؟ اوپر سے آپ کے مطلب کی تعریف نہ کہ جائے تو بھی آگ لگ جاتی ہے اور طعنے تو ایسے ایسے کمال آتے ہیں کہ اللہ توبہ
چھوٹے ہوتے جب ڈش نئی نئی آئی تھی تو میری دادی اور دادا کہتے تھے کہ انگریز انتی ترقی کر گیا ہے کہ اب الٹے سیدھے کام کرتا رہتا ہے۔ ہم لوگ آدھی ترقی بھی نہیں کر سکے لیکن الٹی سیدھی بحثیں اور کام کرنے خوب آ گئے ہیں۔ اپنا وقت اور طاقت کسی صیح جگہ بھی استعمال کر لیا کریں۔
Popularity: 16%
Popularity: 16%
169 views
Related Posts
- crazy On November 25, 2007, 5 Comments
- فلو، ساری رات کھانسی کے بعد آپ کا کیا حال ہو سکتا ہے؟ بہت برا۔ بس اسی برے کے ساتھ ساتھ میں سوچ رہا تھا کہ ricky hatton یا floyd mayweather کو اگر کھانسی ہو جائے تو وہ کیا کریں گیں؟ فائیٹ کینسل ہو تو سکتی نہیں تو پھر تو بندہ بہتر ہو کر بھی
Random Posts









بات کہنے یا سمجھانے کا انداز اچھا ہے!!!!
معاملہ یہ ہے کہ جو سمجھتے ہیں ان کو پہلے ہی معلوم ہے! باقی ناسمجھ لازم کوئی نئی تاویل تلاش کر لائے گا!
مرد اور عورت کا موازنہ دال چاول یا مستری اور مزدور کا موازنہ نہیں۔
اور ٹھیک فرمایا کہ
لوگ آدھی ترقی بھی نہیں کر سکے لیکن الٹی سیدھی بحثیں اور کام کرنے خوب آ گئے ہیں۔ اپنا وقت اور طاقت کسی صیح جگہ بھی استعمال کر لیا کریں۔
بہت خوب!
اصل میں آجکل ایسی باعثوں کا کچھ رواج سا بن گیا ہے جہاں بھی جاؤ یہی کچھ برابر ہیں یا نہیں، فلاں اپنی بیوی کے آگے لگا ہے، اب کوئی ان سے کہے کہ ‘ابے گھامڑ کوئی کچھ بھی کرے تجھے اس سے کیا‘۔
اصل میں دونوں کی اپنی اہمیت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
شعیب صفدر میرا یقین کریں کچھ تو بغیر تاویل کے بھی طعنے دے دیتے ہیں۔
نعمان آپ سے پوچھا تو تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے آپ نے سمجھایا ہی نہیں۔ میرے نزدیک مرد اور عورت برابر ہیں لیکن مجھے آپ کی برابری کی تعریف نہیں پتہ وہ پتہ چل سکے تو شائد میں کچھ کہ سکوں اور مجھے یقین ہے آپکی برابری کی تعریف زیادہ مختلف نہیں ہو گی۔
عورت اور مرد کا موازنہ دال چاول کا نہیں یہ ایک مثال تھی دونوں ایک دوسرے کے بغیر کچھ نہین۔ پھر اس قسم کی بحثیں کیوں؟
منیر احمد یہی تو بات ہے عورت کا سب احترام کرتے ہیں پھر بھی نہ جانے اور کیا کرنا چاہئے
میں وضاحت کرچکا ہوں، کہ برابری سے مراد یہ ہے کہ دونوں کو انسان سمجھا جائے۔
آپ لکھتے ہیں:
بہت سے لوگ برابری برابری کے نعرے مارتے ہیں اور ایسے میں کوئی کہے کہ بھائی مرد کی ذمہ داری ہے تو اس کا حساب بھی سخت ہونا ہے تو کچھ خاص قسم کے مرد اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ تم گنوار ہو اور بتاؤ تمہاری والدہ اور والد برابر ہیں کہ نہیں۔ عورت کی کوکھ سے پیدا ہو کر اسی عورت کی تذلیل کرنے والے کو تو کوئی بھی نہیں پسند کرتا لیکن اگر کوئی کہے کہ عورت اور مرد کی ذمہ داریاں اور منصب مختلف ان کے نظام مختلف تو اس میں برابری کہاں سے لاؤ گے؟ کیا برابری باہر جا کر نوکری کرنے کا نام ہے؟ مجھے اکثر احمقوں کی اس بات پر بڑی ہنسی آتی ہے کہ ہمارے ملک میں آدھی آبادی کو ہم نے گھروں میں بیٹھایا ہوا ہے۔ مجھے اس آدھی آبادی کو باہر لا کر کام کروانے پر قطعاُ اعتراض نہ ہو اگر باقی کی آدھی آبادی کو نوکری مل جائے۔
ضرورت مند لڑکے نوکری کو ترستے ہیں اور اس نام نہاد برابری کی لے میں اڑتی لڑکیاں صرف شوق میں آ کر کتنی پوسٹس ہضم کر جاتی ہیں۔ عورت کو نوکری کرنی چاہئے لیکن اس صورت میں کہ اگر گھر کا خرچہ نہ چل رہا ہو نہیں تو کسی ضرورت مند کی راہ میں نہیں آنا چاہئے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ باہر جاکر نوکری کرنا ضروری نہیں۔ صلاحیت کے اظہار کے برابر مواقع ہر مرد و عورت کو دستیاب ہونا چاہئے۔ چاہے وہ میدان گھر کا ہو، تعلیم کا ہو، کاروبار کا ہو یا ملازمتوں کا۔
دوسری بات بھی صلاحیت کی ہے۔ اگر کوئی لڑکی کسی کام کے لئے زیادہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتی ہے تو یقینا اسے دس نسبتا کم صلاحیت والے لڑکوں پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ یہ کوئی دلیل نہیں کہ پہلے لڑکوں کو روزگار دو پھر عورتوں کو۔ اگر عورتوں میں زیادہ صلاحیت ہے تو ضروری نہیں کہ مردوں کو ہی ترجیح دی جائے۔
آپ کا انداز بہت اچھا ہے۔آپ نے بالکل صحیح لکھا۔ لوگ کام دھندہ کرنے کی بجائے فضول بحوث میں اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتے ہیں وہی وقت ملک و قوم کے کام آ سکتا ہے۔ فضول بحوث کی تعریف میرے نزدیک؛ ہر وہ بحث جس میں ایک طرفہ یا دو طرفہ ہٹ دھرمی شامل ہو فضول ہے۔
نعمان ایک لڑکی کو دس لڑکوں پر اہمیت کیوں، کیا لڑکے انسان نہیں؟ دوسرے آپ کی یہ بات خود ایک چیز کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ عورت کمزور ہے۔اس لیے ایک کے کام کو دس پر اہمیت دینی چاہیے۔ بالکل دینی چاہیے۔ لیکن کچھ کام عورتوں کے کرنے والے نہیں ہوتے۔ کیا عورتوں سے اینٹیں اور سیمنٹ اٹھوانا انہیں حق دلوانا ہے یا ان پر ظلم؟ دوسرے عورت اور مرد کی اصناف میں جو فرق فطرتا ہیں وہ کبھی بدلا نہیں جا سکتا۔ عورت کی عزت کرنی چاہیے۔ اسے آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے لیکن ایک حد کے اندر رہتے ہوئے۔ ورنہ یہی لڑکیاں بعد میں امریکہ کینیڈا جا کر “اپنی مرضی“ کرتی ہیں اور نام ہمارا “روشن“ ہو جاتا ہے۔
سلام
نعمان پاکستان میں ہی نہیں ہر جگہ نوکری ضرورت ہے نہ کہ صلاحیت کا اظہار۔ ہاں جن خواتین کی میں نے بات کی ان کے لئے نوکری ضرورت نہیں بلکہ صلاحیت کا اظہار ہے۔ صلاحیت کا اظہار اچھی بات ہے اگر آپ کسی اور کی راہ میں نہ آئیں۔ اگر دس لڑکے ضرورت مند ہیں اور ایک نے صلاحیت کا اظہار کرنا ہے تو کیا اس کو فوقیت دی جانی چاہئے؟
کیا صلاحیت کا اظہار لے دے کر صرف نوکری رہ گیا ہے؟ اپنے اپنے مقام سے دیکھنے کا فرق ہے آپ کے نزدیک پیمانہ صلاحیت کا اظہار ہے میرے نزدیک ضرورت ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر کسی کو ضرورت ہے تو وہ آ کر نوکری کرے نہیں تو صلاحیت کا اظہار اور بھی طریقوں سے ہو سکتا ہے یا نہیں؟
میں جب لاہور میں bscs کر رہا تھا تب میرے ایک دوست نے اپنے بھائی کو کہہ کر میرے لئے کسی جگہ نوکری کا بندوبست کیا۔ میں انٹرویو دئیے بغیر آ گیا۔ وجہ تھی کہ وہاں ایک لڑکی آئی اور اپنی دوست سے جو کہ ریسپشنسٹ تھی سے باتیں کرنے لگی ان کی باتوں کو سن کر مجھے اس کے حالات کا پتہ چلا اس کے والد فوت ہو گئے ہوئے تھے اور بھائی سب چھوٹے تھے۔ وہ سب سے بڑی تھی میں اس کی راہ سے ہٹ گیا ایک اس کی ضرورت میری ضرورت سے بڑی تھی دوسرے وہ جگہ اس لڑکی کو وہ عزت دے سکتی تھی جیسی عام طور پر نوکریوں پر نہیں ملتی۔ اس کی کوالیفیکیشن بی اے کے بعد کمپیوٹر کا ایک ڈپلومہ تھی اور میری bscs undergoing اگر میں جاتا تو مجھے نوکری مل جاتی پوسٹ ڈیٹا اینٹری اور اسی طرح کے کچھ کام تھے۔ ابھی امریکہ آنے سے پہلے مجھے کسی کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ وہاں 13000 کما رہی ہے۔ ساتھ میں اس کی چھوٹی بہن بھی 6000 تک کہیں پڑھا کر کما رہی ہے۔ مجھے ان کی نوکری تکلیف نہیں دیتی لیکن جن کو صرف “صلاحیت کا اظہار” کرنا ہوتا ہے ان سے خار ہے۔
میں چونکہ ناقص عقل رکھتا ہوں لہذا میرے نزدیک تو یہی ہے کہ جسکو ضرورت ہے اس کو نوکری دو۔ اور صلاحیت کا اظہار روزگار کے معاملے سے ذرا ہٹ کر ہو کیونکہ مجھے بھوک کی تکلیف کا اندازہ بالکل بھی نہیں لیکن غربت کا اندازہ بہت اچھی طرح ہے۔
میں ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کہ آپ سے بات کرتے ہوئے اسلام کا حوالہ نہ دوں وجہ آپکو غیر اسلامی ثابت کرنا نہیں ہوتا بلکہ چونکہ مجھے ایسے لوگوں سے بہت واسطہ پڑا ہے جو اسلام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں لہذا میں خود ویسا بننے سے بچتا ہوں۔ میں اگر فطرت کی طرف سے دیکھو تو مجھے عورت کی صلاحیت کا اظہار نوکری کی صورت میں ملنے میں ناکامی ہے۔ عورت کی فطرت کچھ اور ہے۔ جسکو اس قسم کی بحثیں اور چیلنج اس طرح کے کام کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
مغرب میں پہلی جنگ عظیم سے پہلے اس قسم کی کسی بات کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ ہسٹری چینل پر پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کے حالات کا بہت مشاہدہ آجکل پیش کیا جا رہا ہے آپ اس کو ضرور دیکھیں۔
نپولین نے شائد کہا تھا مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دونگا۔ اس نے بھول کر بھی اچھی ورکرز کا نہیں نام لیا تھا۔ امریکہ میں اگر کوئی ماں اپنے بچے کے نخرے اٹھا رہی ہوتی ہے تو یقین کریں پاس کوئی نہ کوئی ضرور کہتا ہے کہ کاش میری ماں بھی ایسی ہوتی۔ وجہ؟ اسی صلاحیت کے اظہار نے خاندان اور رشتے ختم کر دیئے ہیں۔
میں پھر کہوں گا کہ ہم سب اپنے اپنے طریقے سے اس کو دیکھتے ہیں۔ لہذا ہمارا مشاہدہ کسی کو اچھا اور برا بناتا ہے۔
یاسر آپکی بات کچھ کو آگ لگا سکتی ہے ان کے نزدیک میز کرسی والی نوکری برابری میں ہے لیکن باقی کام برابری میں نہین ہونگے۔ بھول کر بھی کسی محفل میں ایسی بات مت کریں خواتیں زبان کی ہی نہیں ناخنوں کی بھی تیز ہوتی ہیں۔
نعمان لکھتے ہیں:
لوگ آدھی ترقی بھی نہیں کر سکے لیکن الٹی سیدھی بحثیں اور کام کرنے خوب آ گئے ہیں۔ اپنا وقت اور طاقت کسی صیح جگہ بھی استعمال کر لیا کریں۔
نعمان بھول گئے کہ:
اوپر سے آپ کے مطلب کی تعریف نہ کہ جائے تو بھی آگ لگ جاتی ہے اور طعنے تو ایسے ایسے کمال آتے ہیں کہ اللہ توبہ
hi
this post isnt related to weirdness i think u wanted to post ur tag to the other post.
I am sorry I dotn kno how to tag, can you help me?
Sorry, that’s some weird result of the trackback autodiscovery by Movable Type and the trackback code in your blog. I didn’t mean to trackback this post. You can delete it if you want.