میری کچھ باتوں پر میرے دوست نے کہا کہ تم باہر کے ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں سے کچھ زیادہ نالاں ہو اور بلا وجہ بھی ہو ان کو اتنا کریڈٹ تو دو کہ وہ یہ سب کرتے شرماتے نہیں۔ اور جیسے ہیں ویسا ظاہر کرتے ہیں۔
باہر رہنے والے بہت اچھے ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ اگر آپ مذہب کے ان معیارات کو جو کہ مجھ جیسے کم عقل مرتب کرتے ہیں کو ایک طرف رکھ دیں تو ان میں سے اکثر لوگ بہترین ہیں بلکہ اگر سچ کہوں تو یہاں مذہبی لبادے میں رہ کر چوری چکاری کرنے والے زیادہ ہیں۔ اور مذہب سے پرے پرے رہنے والے انسانیت کے حوالے سے بہترین اشخاص ہیں اور میرے نزدیک یہی لوگ اصل مسلمان ہیں۔
لیکن چونکہ مجھے بات سمجھانا نہیں آتی لہذا میری بات صیح طرح سمجھ نہیں آتی۔ میں عام زندگی میں بولنے سے زیادہ سننے میں یقین رکھتا ہوں۔ سنی ہوئی بات بھی کم از کم دس پندرہ دفعہ دوبارہ سننے کی ہمت مجھ میں موجود ہے۔ جھوٹے مذہبی لوگوں سے میں بیزار ہوں لیکن ان کی بھی قسمیں ہیں ایک جو سمپل مذہبی ہیں۔ دوسرے جو مذہب کے لبادے میں منافق ہیں۔ اب اگر کوئی کہے کہ مولوی منافق ہیں تو مجھے اس سے اختلاف ہے میرے نزدیک مولوی نہیں وہ بندہ منافق ہے جو کہ مولوی کے لبادے میں ہے۔ لیکن چونکہ مذہب سے بیزاری کئی وجوہات کی بنأ پر ہم میں آ جاتی ہے لہذا ہم مولوی کو منافق کہتے ہیں نہ کہ بندے کو، منافق بندہ ہوتا ہے عہدہ نہیں۔
اگر کسی کو لگتا ہو کہ میں حق اور باطل کے کردار تخلیق کر کے ان کی جنگ چھڑوا کر حق کی فتح دیکھاتا ہوں تو یہ سراسر غلط ہے۔ مجھے اسلام کی طرف داری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اگر یہ سچا ہے تو اس کو جھٹلانے والا ایک دن حقیقت جان لے گا اور اگر یہ جھوٹا ہے تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔
اب میں ان پاکستانیوں سے کیوں نالاں ہوں؟ پہلی وجہ پاکستان پر شرمندگی یا اعتراضات۔ مانا یہاں سختی ہے تو آپ اپنا تعلق کھلے عام بیان کرنے سے گھبراتے ہیں بلکہ قتل ہونے تک کا خدشہ ہوتا ہے لیکن بات تب میرے گلے سے نہیں اترتی جب آپ پاکستان کی برائی کھلے عام کرتے ہیں۔ ایسے ہی صاحب کو میں نے Petersburg کی چند جگہوں کی سیر کروائی تھی اور پوچھا تھا کہ ہے ذرا سا بھی فرق اس میں اور اس گندگی میں جسکی آپ باتیں کرتے ہیں تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگ گئے تھے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں میری برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے لکھا کہ مذہبی معیارات ایک طرف رکھیں تو یہ لوگ انسانیت کے لحاظ سے بہترین ہیں۔ اخلاقی پہلو سے یہاں یہ ڈنڈی مار جاتے ہیں۔ میں کسی شخص میں پہلے اس چیز کی تلاش کرتا ہوں کہ اخلاقی پہلو سے یہ کس معیار کا ہے۔ مذہی حوالے سے تک بندی میں بعد میں کرتا ہوں۔ اگر آپ غیر مذہبی ہیں تو میرا آپکا گزارہ ہر حال میں ممکن ہے لیکن اخلاقی پہلو سے کسی کوتاہی کے باعث میرا آپکا نباہ مشکل ہے۔
مجھے لوگوں کے مذہبی ہونے یا نہ ہونے پر اعتراض نہیں بلکہ اعتراض ان کے دہرے معیارات پر ہے۔ پاکستان کی کسی چیز کو آپ معاف کرنے کے روادار نہیں تو پھر امریکہ کی بات پر بھی ویسے ہی تنقید کریں یا ویسے ہی ناپسندیدگی ظاہر کریں۔
اگر بالکل منصفانہ انداز میں دیکھا جائے تو ہم سب غیر مذہبی ہیں لیکن دو بڑے طبقات میں منقسم ہیں ایک وہ جو کھلم کھلا اپنے آپ کو غیر مذہبی کہتا ہے دوسرے مجھ جیسے منافق جو کھلے عام اعتراف کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اسی لئے میں غیر مذہبی ہونے کے دعویٰ دار سے زیادہ توقع رکھتا ہو کہ اگر ان میں اتنی جراٰت ہے تو وہ باقی معاملات میں بھی دہرے معیارات سے پرہیز کرے گے لیکن افسوس ابھی تک سوائے ایک کے مجھے کوئی ایسا دوسرا نہیں ملا۔
Popularity: 12%
Popularity: 12%
165 views
Related Posts
- رائے عامہ On October 27, 2007, 3 Comments
- رائے عامہ بنانا بھی ایک مزے کا کام ہے۔ پاکستان میں یہ عام طور پر وقت پڑنے پر بنایا جاتا ہے۔ اور جو نہ مانے اس پر کبھی صدر پاکستان راکٹ مارتے ہیں تو کبھی 12 مئی کی “چھٹی” دی جاتی ہے۔ رہی سہی کسر لال مسجد کو لال/پیلا کر کے یا اسلام آباد کے
- ہوتا کہ نہیں ہوتا On October 21, 2007, 3 Comments
- میں جس علاقے میں رہتا ہوں اس کو tri-cities کہتے ہیں۔ وجہ ہے کہ تین شہر بہت قریب قریب اور بالکل جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں میرے شہر کا تو آپ کو علم ہے۔ اس کے پڑوس میں ہیں hopewell اور petersurg۔ اس علاقے میں کچھ عرصے سے بہت ترقیاتی کام ہو رہا ہے۔ اس
- فوج ۲ On April 28, 2007, 1 Comments
- امریکی عوام واضح طور پر جنگ کے خلاف ہو چکی ہے۔ 6 سال کے طویل عرصے میں صدر بش کا اسٹیج کیا ہوا ڈرامہ اختتام پذیر ہے۔ اگر کوئی کہے کہ صدر بش اینڈ کمپنی بری طرح ناکام ہوئی ہے تو یہ اس کی بےوقوفی ہی ہو گی۔ صدر بش اپنے مقاصد میں کامیاب ہو
Random Posts









پرانے زمانے میں ایک لفظ بولا جاتا تها ـ ریا کار ـ
ریا کار ایسے شخص کو کہتے هیں جو مذہبی شوشاء کرکے معاشرے سے عزت کا تقاضا کرتا ہے ـ
ریاکار کا لباس حلیه اور ماتهے پر محراب هاتھ میں تسبیح اور بات بات میں خود کو اسلامی ظاهر کرنے کی ڈرامے بازی
آچ زمانه ایسا آ گیا هے که اگر کوئی بهی پاکستانی کسی ریاکار کو دیکھتا هے تو بجائے اس ریا کار کی ریاکاری کو بُرا سمجهنے کے خود بهی ریاکار بن جاتا هے ـ
آپ لوگوں کی باتیں خاموشی سے سننے کا ہنر جانتے هیں مگر میں جهوٹے کو جهٹلا دیا کرتا هوں ـ
اب تک میں نے کتنے هی ریاکاروں کے منه سے بخث کے دوران یه سنا هے که
جاء اوئے میں نہیں قرآن نوں مندا ـ
جاؤ میں نہیں قرآن کو مانتا ـ
آپ بهی ان ریاکاروں سے پوچها کریں که
یه ریاکار کیا هوتا هے ـ
اور قران کی باتیں کریں تو ان میں سے پچانوے فیصد خود کو کم علم هونے کا کہـ کر فرار کی کوشش کرتے هیں ـ
آپ پاکستانیوں سے نہیں ان ریاکاروں سے تنگ هیں ـ
باقی امریکه میں رہنے والے پاکستانی لوگوں کا حال وهي هے
جو ایک چوہڑے کا بڑے شہر میں جا کر هوتا هے که کسی طرح میرا ماضی میرا پیچها چهوڑ دے ـ
ان پاکستانیوں میں سے جس کا بهی رنگ روپ زرا سا پاکستانیوں سے مختلف هو ـ
وه آپنی پوری کوشش کرتا هے که میں چُوہڑا ظاهر نه هوں اور پاسپورٹ نکال نکال کر آپنی نیشنیلٹی دیکهاتا هے که میں پاکستانی نہیں هوں ـ
آپ نے جو بحث چھيڑی ہے ميں اپنی جوانی ميں بہت کر چکا ہوں ۔ نتيجہ يہ ہوا کہ ميں ريٹائر ہو گيا اور اپنے لوگ پہے سے زيادہ خراب ہو گئے مگر وہ سجھتے ہيں کہ اُنہوں نے ترقی کر لی ہے ۔
بلاگ سپاٹ پر پابندی کی وجہ سے پاکستان ميں بسنے والے بلاگ سپاٹ کے بلاگ کھولنے ميں دقت محسوس کرتے ہيں ۔ چنانچہ ميں نے اپنے بلاگ مندرجہ ذيل جگہوں پر منتقل کر ديئے ہيں ۔ اپنا ريکارڈ درست فرما ليجئے ۔ شکريہ
۔ اُردو بلاگ ۔ ميں کيا ہوںhttp://iftikharajmal.wordpress.com
۔ انگريزی بلاگ ۔ حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے http://iabhopal.wordpress.com
نہیں آج کل ریا کاروں نے بھی ترقی کر لی ہے یہ ہر حلئے میں مل جاتے ہیں۔
افتخار انکل آپکے لنک شامل کر لئے ہیں چونکہ اردو سیارہ پر نہیں ہوئے ہوئے تھے تو میں نے پہلے اس لئے نہیں کئے کہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کونسا اب فرنٹ پر ہے ۔
لنک شامل کرنے کا شکريہ ۔ زکريا 22 دسمبر سے سير پر نکلا ہوا ہے اور مجھے معلوم نہيں کہ اور کسے کہوں اسلئے اُردو سيّارہ پر تبديلی نہيں کرا سکا
ہاہاہا
گھر کا بھید لنکا ڈھائے ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ اردو ویب کے زمہ دار 3 لوگ ہیں آپ کے بیان سے تو لگتا ہے کہ صرف ایک ہی ہیں۔ خیر مذاق ایک طرف آپ ان کا فارم فل کر دیں تینوں میں سے جو بھی دیکھے گا آپ کا بلاگ شامل کر دے گا۔