Skip to content


علم اور تعلیم

اٹلانٹک کے اس کنارے پر ہم ہیں اور دوسرے پر ہے تاریک براعظم۔ دنیا ہر کچھ عرصے بعد بدلتی ہے ایسے میں ہر قوم نئی دنیا میں اپنا مقام بناتی ہے۔ ہم مسلمان چونکہ تعمیر سے زیادہ تخریب میں ماہر ہیں لہذا ہم ہر کچھ عرصے بعد ہونے والی تبدیلی کے نتیجے میں وجود میں آنے والی نئی دنیا میں اپنا مقام بنانے کی بجائے اپنا مقام ڈھونڈتے پائے جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہماری تلاش ہمیشہ سے جاری ہے اور جاری ہی رہے گی۔

مسلمانوں میں بہت کم باتیں ہیں جس پر یہ متفق ہیں ان میں سے ایک ہے اختلاف رائے۔ اختلاف رائے اچھی بات ہے مگر تب تک جب تک حدود میں رہے نہیں تو نسواں بل کی طرز پر کئی قسم کے بل نازل ہوتے ہیں جس میں حدود سے باہر اگر برے لوگ جائیں تو کوئی بات نہیں لیکن اگر کوئی اور جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعلیم کیا ہے؟ اس پر ہر کسی کی اپنی رائے ہوگی۔ میرے نزدیک تعلیم ہے علم کا جاننا یعنی جتنا میں جانتا ہوں وہ تعلیم ہے اور جتنا میں نہیں جانتا وہ علم ہے۔ علم حاصل کرنا اچھی بات ہے لیکن کچھ علوم کا نہ ہی حاصل کرنا بہتر ہے۔ ہم چونکہ اشرف المخلوقات کا ترجمہ مسلمان کرتے ہیں لہذا ہم ایسے علم حاصل کرنے میں بھی عار نہیں سمجھتے جن کا حاصل کرنا وقت کے زیاں سے زیادہ کچھ نہیں۔ کیونکہ اس کی وجہ ہے کہ ہم عام طور پر وقت آنے سے پہلے ہی اس علم کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

ہم چونکہ بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں لہذا ہر لمحہ ان پر تعلیم کے نام پر پڑے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے ہمارا لہک لہک کر ترانہ ختم نہیں ہوتا کہ ہمارا تعلیمی نظام بڑا ناقص ہے۔ نظام ہر جگہ کے کسی نہ کسی لحاظ سے ناقص ہی ہوتے ہیں اور اس میں ہر وقت بہتری لائی جا سکتی ہے۔

تاریک براعظم میں ایک ملک ہے موریطانیہ، اس میں حالات ہیں برصغیر پاک و ہند کے سے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن چونکہ ہماری خوش قسمتی تھی دنیا نے اس وقت اتنی ترقی نہیں کی تھی اس لئے سر سید احمد خان بچ گئے اور ہم پر ایک احسان کر گئے جسکا ہم شکریہ عموماُ پاکستان میں پڑھ لکھ کر اسی کو لتاڑ کر کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ اول مسلمان علاقائی طور پر مسلمان ہیں لہذا وہ دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا فضول سمجھتے ہیں دوسرے چونکہ دنیا کافی ترقی کر گئی ہے لہذا تاریخ کے دہرانے میں سب کچھ وہی ہے ایک سر سید نہیں ہیں۔

موریطانیہ کی حکومت پاکستانی حکومت کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔ لہذا موریطانیہ کی مسلمان آبادی نے اپنے بچوں کے سکولوں سے اٹھا کر گھر بٹھا لیا ہے۔ وجہ ہے حکومت کی طرف سے اسکولوں میں دی جانے والی مذہبی تعلیم پر پابندی۔ کیونکہ حکومت سیکولر ہے لہذا اس کی طرف سے اقدام کیا گیا ہے وجہ ہے کہ موریطانہ فرانس کی کالونی تھی جیسے ہم لوگ برٹش غلام ہیں لہذا فرانس کے قوانین سے تو آپ واقف ہی ہونگے اس کے اثرات وہاں تک جا رہے ہیں

سو مسلمانوں کے نزدیک تعلیم کا مطلب ہوا مذہبی تعلیم۔ تو باقی تعلیم کا کیا ہو گا؟ اس کو ہم BUY کریں گے۔ میری ایک ہی تمنا ہے وہاں کوئی عقلمند صرف اتنی عقل دے دے کہ اے الو کے پٹھے مسلمانوں بچوں کو اسکول بھیجو اور مذہبی تعلیم گھر پر دو ایک مذہبی تعلیم ختم کی ہے تو جو اسکول میں پڑھاتا تھا اس کو الگ سے 2٫2 روپے فی بچہ کے حساب سے جمع کر کے دو اور بچے اس کے پاس بھیجو اس کی بھی نوکری ختم ہوئی ہے اس کا بھی کام بن جائے گا تمہارا بھی نہیں تو 10 ہی سالوں میں سب کے سب جمعدار لگے ہوگے۔ مذہبی تعلیم دینا اسکول کے استاد کا کام نہیں ہے یہ تمہارا فرض تھا جسکو تم نے پورا کرنے کے بجائے دو ٹکے دے کر استاد کے سر تھوپ دیا۔

اپنی ہی نسل کے ساتھ ایسا بھیانک سلوک اور اوپر سے سوچنا ہم اپنی اولاد کا بھلا کر رہے ہیں۔ ہنسی آتی ہے اور رونا بھی۔ پھر الزام اللہ کو کہ یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا۔ کام کی بات اگر آپکا نا پسندیدہ ترین بندہ بھی کہہ رہا ہو تو مان لیجئے، اپنا فائدہ دیکھئے اکڑ نہیں۔ میرے نزدیک یہ سب جہالت نہیں ہے ظلم ہے۔ جہالت سے بدتر ظلم ہوتا ہے۔ سانپ اور درندے سنا تھا اپنی نسل کا خودی صفایا کرتے ہیں آجکل ان میں ہم مسلمان سرفہرست ہو گئے ہیں۔

 

Popularity: 4% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Posted in اردو.

264 views

5 Responses

Stay in touch with the conversation, subscribe to the RSS feed for comments on this post.

  1. زکریا says

    موریطانیہ کی اس خبر کا کوئی لنک؟

  2. یاسر خان says

    جناب عالی۔

    جیسا آپ نے لکھا موریطانہ ایک سیکولر حکومت ہے وہ مذہبی تعلیم ختم کریں تو الگ بات۔ پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ سنا ہے اب مشرف صاحب اب اسلامیات ختم کرنے والے ہیں۔ اس کا کوئی حوالہ تو نہیں بہرحال یہ بات عوام میں عام ہے۔

    پاکستان نام کا سہی بہر حال ہمارے بڑوں نے اس کے نام سے پہلے اسلامی لکھ کر جو غلطی کر دی ہے اس کا پاس تو رکھنا چاہیے یا نہیں؟

  3. admin says

    سسلام
    یہاں موریطانیہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے بہت سے صاحب ہیں ان سے ان کے حالات پتہ چلتے رہتے ہیں میں خود سے لکھی گئی ہر بات کی ذمہ داری لیتا ہوں لہذا اس خبر کی درستگی کا ذمہ میرا ہے۔
    پرنٹ میڈیا میں یہ خبر شائد نہ آئی ہو بہرحال موریطانیہ اتنا اہم ملک نہیں اور اگر آئی بھی ہو گی تو کم از کم بھی 4٫5 سال پہلے آئی ہو گی۔

    میں حکومتوں کے حرکات کے حق میں نہیں۔ لیلکن میں والدین کی حرکات کے حق میں بھی نہیں۔ حکومت کو آپ غیر ملکی سمجھیں جیسے ان کے خلاف تھے ان کے بھی خلاف رہیں لیکن بچوں کو گھر بیٹھا کر ان پر ظلم نہ کریں
    میرا موقف حکومتوں کی حمایت نہیں بچوں پر ہونے والے ظلم کو روکنا ہے۔
    پاکستان اسلام کے نام پر لیا تھا لیکن اب جو کچھ ہو رہا ہے اس میں حکومت ہی نہیں ہم لوگ بھی برابر کے قصور وار ہیں۔

  4. زکریا says

    بات آپ پر اعتبار کی نہیں مگر خبر کے لنک سے ڈسکشن آسان ہو جاتی ہے اور ہماری معلومات بھی بڑھتی ہیں۔

    موریطانیہ کی سیکولر حکومت کونسی ہے؟ پچھلے سال تک وہاں کا حاکم 20 سال سے حکمران تھا اور زیادہ‌تر وقت ایک پارٹی کا سٹیٹ تھا۔ 2005 میں فوج نے اس کا تختہ الٹ دیا۔ اس سال ریفرنڈم میں نیا آئین منظور ہوا ہے اور نومبر میں الیکشن ہوئے ہیں۔

  5. admin says

    سلام
    میں نے بھی اس کو اپنے پر اعتبار نہ کرنا نہیں لیا تھا میرا کہنا تھا کہ جتنا مجھے پتہ ہے اتنا لکھا ہے خود سے کچھ نہیں بنایا
    یہ سب باتیں مجھے موریطانیہ والوں نے پاکستان کے حوالے سے مثالیں دے دے کر سمجھائیں تھیں۔
    ریفرنڈم اور سب کچھ مجھے پاکستان کے اور مشرف کے حوالے سے سمجھایا گیا تھا۔ موریظانیہ کے حالیہ انتخابات کو ہمارے بلدیاتی انتخابات کی تشبیہ دی گئی تھی اور ان کے مطابق اصل انتخابات مارچ میں متوقع ہیں۔
    سیکولر اس لئے کہ مذہب اور ریاست کے معاملات علیحدہ علیحدہ ہیں۔ اور چونکہ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایسا اعلان کر رکھا ہے لہذا میں نے یقین کر لیا۔
    ان پر یقین کرنے کی وجہ ان کا چٹے ان پڑھ ہو کر بھی ہر بات کا پتہ ہونا ہے۔ چونکہ کشمیر سے لے کر پاکستانن کے ہر کونے کی ان کو معلومات تھی لہذا میں نے انکی معلومات کی درستگی پر شک نہیں کیا۔
    مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف ہے کہ مجھے 20 سال سے حکمرانی کرنے والے حکمران کے بارے میں کسی بھی قسم کی کوئی معلومات نہیں۔ اس کے علاوہ بھی میری کوئی بات غلط ہو تو ضرور بتائیے۔



Some HTML is OK

or, reply to this post via trackback.

CommentLuv Enabled