صد افسوس

گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے میں نے اس شخص کا حلئیہ دیکھا تھا۔ وہ کالے کپڑوں میں ملبوس تھا کالی پتلون اور کالی ہی جیکٹ یا کوٹ۔ بو ٹائی لگائے ہوئے۔ داڑھی رکھے ہوئے جی ہاں وہی داڑھی جو مسلمان رکھے تو دہشت گرد اور کوئی اور رکھتے تو No problem سر پر کالی ٹوپی اور سائڈ سے ہندؤں کی بودی کی طرح کی زلفیں ٹوپی سے جھانکتی ہوئی۔۔ اس کے بعد ہم سڑک پر آ گئے اور میں مزید کچھ سننے یا دیکھنے سے محروم ہو گیا۔

یہودی، یہ ایک لفظ قبرستان میں بھی جا کر بولیں تو مردے اٹھ کر ان کو گالیاں دینے لگ جائیں۔ “جدید اسلام” میں ان کو گالیاں دیئے بغیر اسلام پورا نہیں ہوتا۔ ہاں اصلی اسلام میں یہودیوں سے تجارت بھی تھی اور معاہدے بھی۔ یہ بلاشبہ دنیا کی سب سے متنازعہ قوم ہے۔ ان سے نفرت کی حد نہیں۔ لیکن اگر آپ نے غلطی سے ان کی تعریف کر دی تو پہلے تو آپکو حیرانی بھری نظروں کا سامنا ہو گا اور اگر آپ نے ذرا زیادہ ہمت کی تو فٹ یہودیوں کی جان چھوڑ کر آپ کی مذمت شروع ہو جائے گی۔

مجھے یہودی پسند ہیں۔ اس بیان پر شائد لوگوں کو لگے کہ میں پی کر آیا ہوں لیکن یہ سچ ہے۔ ( کہ مجھے یہودی پسند ہیں یہ نہیں کہ میں پی کر آیا ہوں) خیر مذاق ایک طرف یہ دنیا کی ان قوموں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے ماضی سے ہمیشہ سبق سیکھا۔ 40 سال کی سزا ان کو آج تک یاد ہے لہذا یہ ویسی حرکتیں نہیں کرتے جیسے ہم مسلمان کرتے ہیں۔ اس لئے میں ان کو سراہتا ہوں۔

ہندو اور مسلمان کیوں متحدہ ہندوستان میں نہیں رہ سکتے تھے اس کا اندازہ تو ہوتا ہی رہتا ہے ایک بڑا فرق جو میں نے یہاں دیکھا کہ پاکستانی عام طور پر افریقن امریکن سے نفرت کرتے ہیں یا کم از کم ان کو ناپسند کرتے ہیں جبکہ گوری چمڑی کے پیچھے پیچھے ہوتے ہیں۔ ہندو اس کے برعکس افریقن امریکن کو گوروں پر ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستانی یہودیوں کو یہاں خاصا پسند کرتے ہیں یا کم از کم ڈرتے ہیں جبکہ ہندوں ان کو سخت نا پسند کرتے ہیں جبکہ گورے تو بغیر کسی وجہ کے یہودیوں کو گالیاں دے دیتے ہیں۔ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اگر یہاں کسی بات پر متفق نظر آئی تو وہ یہودیوں کے خلاف کچھ کہنے میں ہچکچاہٹ تھی۔

کل Harrisonburg میں جب ہم اپنے میزبانوں کے سٹور سے رات کو نکل رہے تھے تو کچھ دیسی صاحب باہر کھڑے یہودیوں پر بات کر رہے تھے۔ جب میں باہر نکلا تو مجھے اتنا سنائی دیا کہ میں ایک ڈاکٹر مجھے نہیں پتہ ہوگا ؟ مجھے زیادہ بہتر پتہ ہے میری معلومات تم سے زیادہ ہیں۔ تم ہو کیا ایک معمولی سے چکن پروسیسنگ فارم پر کام کرنے والے۔  وہ اتنی زور سے بولا تھا کہ ارد گرد کے سب لوگ اس کو دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں پاس ایک کار جو کھڑی تھی اس میں سے وہی بندہ باہر نکلا اور بولا معزز حضرات مجھے افسوس ہے لیکن یہودیوں کی جو تعریف اس معمولی سے چکن پروسیسنگ فارم پر کام کرنے والے نے کی ہے وہ بالکل درست اور مکمل ہے۔ تم پڑھ لکھ کر دوسروں کو ذلیل سمجھتے ہو اسی لئے تمہارا یہ حال ہے۔ آج ڈائیلاگ کی ضرورت ہے پر تم لوگ آپس میں اتنے مصروف ہو باہر کیا خاک بات کرو گے۔ اسی طرح لڑ لڑ کر مر جاؤ گے۔ ایک یہودی ہو کر اسی بات کہنا کتنے بڑے ظرف کی بات ہے یہ وہی سمجھ سکتا ہے جسکو ظرف کا پتہ ہو۔ افسوس صد افسوس ہم مسلمان ہو کر مسلمان نہیں۔

مسلمان کسی بھی بات میں اعتدال پسند نہیں ہیں۔ یہودیوں کا نام سنتے ہی ایسے تن جاتے ہیں اور پھر جو دھواں دار باتیں کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ میری غلطی میں نے اسلام کی تاریخ ایسے ہی پڑھ لی لہذا مجھے مسلمانوں کے دونوں طبقات پر ہنسی آتی ہے۔ ان پر بھی جو ان کا نام سنتے ہی مار دھاڑ شروع کرنے کی کرتے ہیں اور ان پر بھی جو بلاوجہ ان کی وکالت شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کہا گیا ہے کہ یہ آپکے دوست نہیں تو یہ بھی تو نہیں لکھا کہ دشمن ہیں ان کو چن چن کر مارو۔

ہمارے ان سے معاہدے تھے اور تجارت بھی۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں آپ بھی کر سکتے تھے اگر آپ کے پاس اتنی ٹیکنالوجی اور طاقت ہوتی۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپ ان کی تعریف ہی بدل دیں یا پھر اس میں کمی بیشی کریں۔ آج تجارت کا نام لو تو ایسے بدکتے ہیں جیسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے پھر “اسلامی حکومتیں” دوسرے طریقوں سے ان سے تجارت کر لیتیں ہیں۔ اگر حکومتیں عوام کو اعتماد میں نہیں لیتیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ مذہبی جماعتیں اسلام کے نام پر کھیل شروع کر دیتی ہیں۔ یاد رہیں میں نے مذہبی علما نہیں مذہبی سیاست دانوں کی بات کی ہے۔ اور مزے کی بات ہے ان بیک ڈور راستوں سے ہونی والی تجارت کا ان مذہبی جماعتوں کو پتہ ہوتا ہے لیکن یہ اس پر کچھ نہیں کرتیں۔

 اپنے ذہن سے سوچنا اچھی بات ہوتی ہے۔ مسلمانوں کا زیریں طبقہ کم علم مولویوں کے دماغ سے سوچتا ہے اور بالائی طبقہ ایسے میڈیا سے جسکا کام ہی الٹی سیدھی باتیں ہیں۔ یہودیوں سے نفرت کرنا مجھے عجیب اس لئے لگتا ہے کہ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کی تو ہم کیوں کریں؟ لیکن جو بات بتا دی گئی اس پر قائم بھی رہنا چاہئے ان سے بات کریں اور چوکنے بھی رہیں یہی کافی ہے۔

Popularity: 6% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 6% [?]

234 views

 

 

Related Posts

  • Harrisonburg On December 16, 2006, 3 Comments
  • آج ہم Harrisonburg گئے یہ شہر کافی بڑا ہے۔ یہاں ایک انتہائی مزے کی بات ہوئی جو میں آج نہیں کل بتاؤں گا میں اپنے ارد گرد ایک خاص قسم کے پاکستانی امریکی دیکھ دیکھ کر تنگ آ گیا تھا۔  میرا آج جانے کا بالکل موڈ نہیں تھا بس ایسے ہی سب گھر والوں کی
  • Updating On August 9, 2008, 0 Comments
  • updating in progress, 1:40pm EDT = 11:40pm Pakistan Standard Time I hope everything goes smooth and we dont face any problem with themes atlest after the update. or will have to revert back AKPC_IDS += "39,";Popularity: 6% [?] Share and Enjoy:
  • The Big R On January 8, 2008, 2 Comments
  • with this ever growing problem of being insane I seem to lost control of a few things like "dil" "jigar" & "gurda(s)" as if I care? enjoying this beautiful sunny day of January when it feels like spring I think is the time to declare myself a complete idiot (some of you already
  • Setting up a Wireless Network On August 12, 2007, 0 Comments
  • Setting up a home network is a breeze now a days. thanks to linksys (a branch of cisco) routers. all you have to do is to follow the instructions, sit back and relax. they ask you to insert the cd first since windows is preloaded with drivers so you may end up having a completely
  • welcome vista On February 14, 2007, 0 Comments
  • Windows Vista, a long awaited version of windows was finally out for rtm in late december and for general public on 31st january. I have always been a windows fan and appriciate microsoft’s work (no doubt i am strongly agaisnt their pricing monopoly). I had windows 98 on my pc ever since 2001 when I purchased
  • قدیر مرحوم کی دوزخ سے چیٹ On January 11, 2008, 4 Comments
  • قدیر مرحوم نے میری بے لاگ رائے کا ذکر کیا ہے۔ میں آگے لوگوں کے نزدیک ظالم  بے رحم اور بے حس ہوں۔ یہ رائے کیوں دی گئی بہت سے لوگ تو ویسے ہی مجھ سے متفق ہونگے۔ کچھ شائد مجھے کہیں یار اتنا سخت نہیں کہنا تھا۔ مجھے کہنے سے پہلے یہ چیٹ پڑھیں


4 Responses to “صد افسوس”

  1. 1 اظہر الحق

    یار بدتمیز آپ تو واقعٰی ہی بد تمیزی پر اتر آئے (مزاق کر رہا ہوں بھائی)
    ٹھیک کہا آپ نے کہ یہودیوں پر دوستی سے منع کیا ہے باقی باتوں سے نہیں حتہ کہ ان سے (یہودی لڑکی سے) شادی تک جائز ہے ، اور یہ بھی کہ یہودی کے ہاتھ کا مذبح (کوشر) بھی جائز ہے ۔ ۔ ۔ مسلہ یہ نہیں ہے یہودیوں سے نفرت کا ، مسلہ ہے فلسطین کی زمین ( جس پر ہم آج کل خود ہی آپس میں دست و گریباں ہیں اور یہودی تماشائی ہیں )
    ویسے اس قوم کے اندر سیکھنے کی صلاحتیں کافی ہیں ، مگر ایک بات جو انکی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ابھی تک حضرت موسٰی (ع) کے زمانے سے ہی جگہ جگہ سے اپنی “برتری“ کی وجہ سے نکالے گئے ہیں کسی جگہ بھی یہ چین کے ساتھ نہیں بیٹھ سکے ، مصر کی وادیوں سے لے یروشلم کی گلیوں تک یہ قوم ایسے ہے مار کھاتی رہی ہے ، پچھلے دو تین سو سالوں کا ریکارڈ ہی دیکھ ہیں ، افریقہ سے نکلے تو روس پہنچے روس کے زار سے مار کھائی تو جرمنی میں جا بیٹھے اور پھر وہاں سے موجودہ اسرائیل تک پہنچنے تک انہیں دو ہزار سال لگے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اب شاید عیسائیوں کے “ایونجل“ عقیدے کے مطابق وقت آیا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ کہ یہ لوگ ۔ ۔ ۔ اس پوزیشن پر پہنچیں کہ دنیا انکے قبضے میں ہو اور پھر وہ وقت بھی آئے جب ایک درخت بھی کہے کہ میرے پیچھے یہودی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اسے مار دو ۔ ۔ ۔ وللہ اعلم بالصواب

  2. 2 اجمل

    قرآن ميں جو درج ہے وہ اللہ کا فرمان ہے اور غلط نہيں ہو سکتا ۔

    ميرا واسطہ يہوديوں سے نہيں پڑا ليکن ہندوؤں ۔ عيسائيوں ۔ دہريوں اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں سے پڑا ہے اور ميں کہہ سکتا ہوں کہ يہ سب جب بھی موقع ملے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے نہيں چوکتے اور بظاہر دوستی کا اظہار کرتے ہوئے بھی ايسا کرتے ہيں ۔

    کالے کپڑوں والے جس شخص کا آپ نے ذکر کيا ہے ميرے خيال ميں وہ ربی تھا اور ايسے ربی ہيں جو اسرائيل کی حمائت نہيں کرتے دوسرے لفظوں ميں صيہونيت کی حمائت نہيں کرتے ۔ تاريخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اکثر جنگيں عيسائيوں ۔ ہندوؤں اور دہريوں نے لڑيں يہوديوں نے نہيں البتہ بغير جنگ کے اپنا مقصد حاصل کرنے کے وہ ہميشہ سے ماہر ہيں ۔

    کسی بھی شخص کو لعن طعن کرنے کی دين اسلام ميں ممانعت ہے خواہ وہ دشمن ہی کيوں نہ ہو ۔ رہے ہمارے ہموطن تو دين اسلام سے دوری کی وجہ سے لعن طعن کرنا اور کيڑے نکالنا ان کا وطيرہ بن چکا ہے اگر غير مسلم نہ ملے تو اپنے لوگوں حتٰہ کہ اپنے احباب اور رشتہ داروں کے خلاف شروع ہو جاتے ہيں ۔

    آپ نے يہ بھی صحيح لکھا کہ يہوديوں ميں يکجہتی ہے ۔ يہودی ۔ ہندو اور ايک اسلام سے منحرف لوگوں کی ايک جماعت اپنے اپنے لوگوں سے يکجہتی ميں اپنی مثال آپ ہيں ۔ يہ بھی صحيح ہے کہ اکثر پاکستانيوں کے ذہن پر گوری چمڑی سوار ہے ۔

    ہمار ی قوم کا سب سے بڑا مسئلہ ملک ميں عمدہ تعليمی سہوليات کی عدم موجودگی اور قوم کی اکثريت کا علم سے لگاؤ نہ ہونا ہے ۔ سنديں درجن حاصل کر لی جائيں ليکن جب تک علم کی والہانہ طلب نہ ہو گی قوم جاہل ہی رہے گی ۔

    وللہ علم بالصواب ۔

  3. 3 میرا پاکستان

    کہتے ہیں کبھی کبھی آدمی بیوقوف سے بھی کام کی باتیں سیکھ لیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکن جب کسی غلطی کی وجہ ڈھونڈتے ہیں تو وہ ہر ایک کو بولنے کا برابر کا موقع دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کا دشمن کوئی اچھا فعل کر رہا ہے تو اس کی تعریف کرنے اور اس کے فعل کی کاپی کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہۓ۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے سو دو سو سال ہوۓ ترقی کی ہے اور ان کی ترقی کا کیا راز ہے، مسلمانوں کو اسے جاننے میں دیر نہیں لگانی چاہۓ۔ مگر ہم مسلمان تنگ نظر ہیں اور دشمن کی ہر بات پر تنقید کرتے ۔ اگر ماڈرن بننے کیلۓ تقلید بھی کرتے ہیں تو دشمنوں کی بری عادتوں کی۔ ہمارے موجودہ حکمران ٹولے کی اکثریت یورپ پلٹ ہے مگر مجال ہے جو انہوں نے یورپ کی ایک بھی اچھی عادت امپورٹ کی ہو۔ سچائی یہی ہے کہ اگر ہم صرف یورپ کی نقل کرتے ہوۓ انصاف اور کرپشن کو اپنے معاشرے سے ختم کرہیں تو دنوں میں ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوسکتے ہیں۔ مگر ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم خود بھی سوۓ ہوۓ ہیں اور ہمارے حکمران بھی فی الحال غیروں کے ہاتھوں بکے ہوۓ ہیں۔

  4. 4 admin

    سلام
    ان کو مار پڑتی رہی تو ہمیں کیا کم پڑی؟ ہمارے ساتھ بھی تو ایس ہی ہوتی رہی ہے۔ ہم سب اسی امید پر ہیں کہ درخت بولیں پر پہلے ایسی خصلت تو پیدا کریں کہ درخت بھی بولیں ابھی تک تو سب درخت ان کے لئے بول رہے ہیں۔
    علم سے زیادہ ہم لوگ ظالم ہیں ہمارا معاشرہ جاہل نہیں بلکہ ظالم معاشرہ ہے۔ علم کی طلب سے زیادہ انصاف پسندی اہمیت رکھتی ہے۔

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...
    • ریحان: اب اگر میرے والدین آپس میں کزنز تو میں پھر زہنی مریز کنفرم

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2859
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (658) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank:
    • Alexarank: 382622

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->