فریب

میرا گھر ایک سیدھا سادھا مذہبی گھرانہ تھا جہاں ہر شخص کو اخلاق اور آداب کے ساتھ رہتے ہوئے ہر جائز کام کرنے کی اجازت تھی۔ میرے ابو اچھے عہدوں پر فائز رہے تھے لہذا روپے پیسے کی کمی نہ تھی۔ ایسے میں مزید پڑھنے کی دھن سر پر سوار ہوئی تو امریکہ آن وارد ہوا۔ میرا مقصد سوائے پڑھائی کے کچھ نہیں تھا۔ اسلام اور مسلمانوں سے کچھ خاص قسم کے گورے بہت نفرت کرتے ہیں تو شروع میں تو اچھا نہ لگا مگر بعد میں عادت ہو گئی کہ میں اسلام کے فرائض سے دور ہو گیا۔ جیسے نماز اور روزہ اور دل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ اللہ نے حقوق اللہ معاف کر دینے ہیں مگر حقوق العباد نہیں۔

پڑھائی میں اچھا تھا جلد ہی PhD کر کے ایک کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر میرا تقرر ہو گیا۔ یہاں ریسرچ کے بہترین مواقع دستیاب ہوئے میری صلاحیتوں کو سب نے جانا تو ہر جگہ سے آفر ہونے لگی۔ پیسہ ہن بن کر برسا۔ شادی پاکستان میں جا کر کی خوش قسمتی سے بہترین بیوی ملی۔ مگر کچھ باتوں پر میرا اس سے جھگڑا ہو جاتا تھا۔ جیسے پہلے بچے کی پیدائش اور بعد میں اس کی پرورش پر جھگڑا ہوا مجھے بچے پالنے کا پتہ نہ تھا اور اس کو اپنی جاب پر بھی جانا ہوتا تھا اور یہ جاب بھی تو اس نے میرے ہی کہنے پر کی تھی۔ پورا ایک سال بے حد بد مزگی رہی۔ میرا بیٹا ایک سال کا ہوا تو بدمزگی کچھ کم ہوئی۔

دوسرے بیٹے اور پھر بیٹی کی پیدائش تک ہم دونوں کو گزارہ کرنا آ گیا تھا۔ ایک کام پر جاتا تو دوسرا گھر رہتا پہلا واپس آتا تب دوسرا کام پر جاتا۔ جب کبھی ایسا نہ ہو سکتا تو بچے ڈے کئیر میں چھوڑ آتے اور شام کو لے لیتے۔ آج جن بچوں کے ساتھ ہم نے ایسا کیا تھا ان کے پاس ہمارے لئے وقت نہیں۔ وجہ پڑھائی اور دوسری مصروفیات۔ میری بیوی نے بہت کہا کہ بچوں کے نام ایسے مت رکھو لیکن میں نہ مانا اور ان کے نام ایسے رکھے جیسے بالکل امریکیوں کے ہوتے ہیں۔ آج بچے اگر امریکی ہیں تو اس میں میرا ہی قصور ہے۔ بیوی نے بہت کہا بچے بڑے ہو رہے ہیں پاکستان چلیں مگر میں نے منع کر دیا کہاں کیا ہے وہاں سوائے لوٹ مار اور گند کے۔

بچوں کو نماز روزہ کچھ نہیں سکھایا نہ بتایا۔ بچے جوان ہو چکے ہیں مگر ابھی تک ان کو نہیں پتہ ایک دفعہ ایک مہمان گھر پر آیا اور اس نے کہا کہ بچے بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ تینوں نے کہا کہ شروع کروا دیں ہم باقی پڑھ دیں گے مہمان نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا تو مجھے اتنے عرصے میں خیال آیا کہ بچوں کو ہر طرح کی معلومات زبانی یاد ہیں مگر نہیں یاد تو کلمہ، بسم اللہ اور تعوذ۔ نماز تو بہت دور کی بات ہے میرے بچوں نے تو قراآن تک نہیں پڑھا۔ اف میرے خدایا یہ میں نے کیا کر دیا تھا۔ قراآن نماز نہ پڑھیں آنی تو چاہئے مگر میرے بچوں کو تو وہ بھی نہیں آتی اس میں قصور کس کا ہے؟

اسلام کے احکامات پر میں کھلم کھلا کہنے لگ گیا تھا کہ ان میں سے کچھ آؤٹ ڈیٹد ہیں جیسے سزائیں اور عورتوں کا پردہ اور عورتوں کی آدھی گواہی جیسی باتوں کو میں تبدیل کرنے کی بات کرتا تھا اب امریکی معاشرے کا اصل چہرہ دیکھا ہے تو جانا ہے کہ اسلام جیسا بھی تھا صیح تھا اور میں غلط۔

پاکستان کو ہر کام میں برا کہنا عادت بن گئی تھی۔ کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ کبھی پاکستان اس بری طرح یاد آئے گا۔ آج گھر میں اکیلا پڑا ہوں یا باہر نکل جاتا ہوں اور کچھ نہیں تو کاروبار میں پیسہ لگا دیتا ہوں پھر بھی ایک خلش سی ہے۔ بیٹی تیراکی کے مقابلے میں حصہ لیتی ہے پہلے برا نہیں لگتا تھا اب لگتا ہے۔ بیٹے لڑکیوں کے ساتھ باہر جاتے پڑھتے ہیں پہلے کبھی خیال نہیں آیا اب آتا ہے۔ میں بھول گیا تھا کہ حقوق اللہ معاف تھے مگر نئی نسل کی صیح تربیت نہ کرنا معاف نہیں تھا۔

میں نے اس شخص کی طرف غور سے دیکھا تھا یہ مجھے دو دن پہلے مال پر ملا تھا۔ اس وقت میں چائینیز کے ساتھ انصاف کر کے فارغ ہوا ہی تھا کہ وہ میرے پاس آ گیا اور اس نے مجھ سے پوچھا تھا تم ہندوستانی ہو؟ میں عموماُ زیادہ منہ نہیں کھولتا میرا کزن اس وقت ویڈیو گیمز کی دکان پر play station 3 اور Nintendo wii دیکھنے میں مصروف تھا مگر چونکہ میں اس وقت اچھے موڈ میں تھا فٹ کہہ دیا نہیں پاکستان سے۔ اس نے کہا کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ میں نے کہا شوق سے کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں وہ زیادہ تر انکوائری ہی کرتا رہا جو مجھے پسند نہیں مجھے نہیں معلوم اس نے مجھے یہ سب کیوں بتایا شائد اس کا کسی مانوس چہرے سے بات کرنے کو دل کر رہا تھا یا پھر میرے برے منہ کو دیکھ کر اس نے اپنا تعارف کرایا۔

اس شخص کی عمر میرے اندازے سے کسی طرح بھی 60 سال سے کم نہیں تھی۔ لیکن active ایسا تھا جیسے جوان ہو۔ اچھے کپڑے پہنے تھے براؤن رنگ کا اوور کوٹ پہن رکھا تھا ہر لحاظ سے مکمل تھا مگر اگر نہیں مکمل تھا تو دل کی طرف سے۔ امریکہ آ کر میں نے دو قسم کے مسلمان دیکھے ہیں ایک جو ہر حال میں مسلمان ہیں اور دوسرے جو سمجھتے ہیں کہ وقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ہر چیز میں تبدیلی آنی چاہئیے۔ حرام اور حلال کے چکر سے بے نیاز، مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ کھاؤ بھائی کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں اب حلال نہیں تو کیا کریں۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں اچھا تو پھر مچھلی لے لو کیوں چکن لیتے ہو؟ اس کا جواب نہیں ہوتا ان کے پاس۔

میں اس شخص کو تسلی نہیں دے سکتا تھا کیونکہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے میں اس کو پاکستان جانے کا مشورہ بھی نہیں دے سکتا تھا کیونکہ بوڑھے ہو کر امریکہ آپ کی ضرورت بن جاتا ہے۔ اتنے میں اس کی بیٹی کا فون آ گیا کہ اس نے شاپنگ مکمل کر لی ہے صدر دروازے پر آ جائیں اور وہ صدر دروازے کی طرف چل پڑا اور میں اپنے کزن کے پاس چلا گیا۔

Popularity: 4% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 4% [?]

248 views

 

 

Related Posts

  • آغا خان On April 18, 2008, 19 Comments
  • بڑے لوگ اتنے بھی بڑے نہیں ہوتے۔ اکثر بڑے لوگ بڑے فقیر ہوتے ہیں۔ ویسے فقیر بہت مالدار ہوتے ہیں۔ بچپن میں جب ہمارے گھر بلکہ دور دور تک پی ٹی وی کے انٹینے ہوتے تھے اور پی ٹی وی کو ایس ٹی این کے ساتھ یکجان کرنا مسئلہ ہوا کرتا تھا اور ہمہ وقت
  • Lord of the rings, the battle for middle earth 2 On March 29, 2007, 2 Comments
  • I like strategy games. infact I love playin them. I bought lord of the rings back in 2005 I guess but at that time I didnt have the 3d graphics card. It was a huge disappointment but since spending thousad to play a 30 rupees game wasnt a gud idea so I didnt bother but
  • Spiderman 3 On May 7, 2007, 2 Comments
  •  Spiderman, a movie I didnt watch coz I wanted to I watched becoz I had no other choice for the day. I hated the ending, thinking that it was the only part they ‘ll ever make and judging it totally opposite of the comic. I was so diappointed that I didnt bother buyin the next
  • Halo 3 On December 6, 2006, 0 Comments
  • Received an email containing information related to famous game Halo’s sequel Halo 3. Microsoft’s Bungie Studio is seeking gamers who could test out the new game and give real time feed back to enhance and refine the final product. A key part is the offering of multi player game aspect for the very first time through
  • Am i weird? On December 27, 2006, 0 Comments
  • I have been tagged by Zikria Ajmal for the meme where I have to write down 6 weird things about me. What I believe and most would agree is that I my self am weird. I can’t sit back and relax. I need something to do all the time even if its doesn’t worth at all and
  • Shut up & Drive On August 3, 2007, 2 Comments
  • I`m lookin for a driver who is qualifiedso if u think that you`re that one stepinto my rideI`m a fine tuned super-sonic speed machinewith the sun on topand a gangsta leanso if you feel it let me know (know , know)come now what you waiting for (for , for)my engine`s ready to explode (explode ,explode)so
  • Buy a Domain with Google On December 18, 2006, 0 Comments
  • One year domain registration for $10 Private domain registration to protect against spam at no extra cost Full DNS control and domain management Automatically configured to work with Google services Email, calendar, instant messaging, web pages and more also at no extra charge To make ‘getting started’ an easier process, we’ve partnered with a select
  • welcome vista On February 14, 2007, 0 Comments
  • Windows Vista, a long awaited version of windows was finally out for rtm in late december and for general public on 31st january. I have always been a windows fan and appriciate microsoft’s work (no doubt i am strongly agaisnt their pricing monopoly). I had windows 98 on my pc ever since 2001 when I purchased
  • سن تو سہی On January 7, 2008, 0 Comments
  • خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں اور کچھ دیا نہ دیا ایک ٹیپو سلطان ضرور دے دیا۔ ٹیپو سلطان کا لاکھ لاکھ شکر ہے وہ غداروں کا قلع قمع تو نہ کر سکا لیکن غداروں کو اپنا ایک قول دے گیا۔ اگر ٹیپو نہ ہوتا تو ہمارے سارے مرنے والے لیڈران اور چمچان
  • صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن On November 8, 2007, 4 Comments
  • مغری میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے بہت تشویشناک رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں جس کا صدر کو بالکل اندازہ نہیں۔ صدر کا انداز ایسے ہی ہے جیسے وہ سو کر اٹھے ہو کچھ سمجھنے میں عمر کے تقاضے کے تحت وقت لیتے ہوں۔ خاص طور پر صدر کے انگلش میں خطاب پر بہت


6 Responses to “فریب”

  1. 1 noman

    Time is the best teacher! show anything some time 2 minute results and some time 20 years lesson.
    May Allah forgive all of us!

  2. 2 اجمل

    اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کی ايسی فطرت بنائی ہے کہ آخرِ عمر اُس کو اپنی اصليت معلوم ہونے لگتی ہے مگر اُس وقت وہ تبديلی کے لحاظ سے معذور ہوتا ہے ۔ اِسی لئے کسی نے کہا ہے

    جوانی ہی ميں عدم کے واسطے سامان کر غافل
    مسافر شب کو اُٹھتے ہيں جو جانا دُور ہوتا ہے

    يہ حال صرف مغربی دنيا ميں جا کر ہی نہيں ہوتا اپنے مُلک ميں بھی کئی لوگ اِسی احساس کا شکار ہيں اور جسے وہ برتری سمجھ کر اِختيار کرتے ہيں دراصل احساسِ کمتری ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے جرمنی ۔ برطانيہ ۔ ہالينڈ ۔ بيلجيئم اور امريکہ کی سير کرائی اور اللہ کے فضل و کرم سے مسلمان رہتے ہوئے بڑی عزت پائی ۔ ميرے ساتھی جو وہاں جا کر اللہ کا قانون بھول گئے تھے اُن کی اتنی عزت نہ ہوئی ۔

  3. 3 اجمل

    کل ميں نے تبصرہ ابھی مکمل نہيں کيا تھا کہ مجھے کسی ضروری کام سے جانا پڑ گيا اور آپ کے سوال کا جواب رہ گيا ۔

    انسان کو پودہ لگانے سے پہلے سوچنا چاہيئے کہ پودہ پھلدار يا پھولدار ہو گا يا کانٹے دار ۔ جب پودہ درخت بن جائے تو پھر انسان کے قابو ميں نہيں رہتا ۔ اُس ساٹھ سالہ شخص نے کانٹے دار پودے لگائے جو تناور درخت بن چکے ہيں اور وہ اُنہيں اپنی مرضی پر ڈھالنے سے قاصر ہے چنانچہ اُس نے اپنے دل کو تسکين دينے کيلئے يہ طريقہ اختيار کيا ہے کہ جہاں کوئی جوان ہموطن ملے اُسے اس خطرہ سے آگاہ کرے تاکہ وہ جوان بروقت سوچ کر اپنے لئے کانٹے نہ بوئے ۔ بلکہ اپنی اولاد کو بھی تباہی سے بچائے ۔

    وما علينا الالبلاغ

  4. 4 admin

    سلام
    شائد ایسا ہی ہو۔ میرا بھی یہی خیال تھا لیکن اصل جواب تو وہی دے سکتا ہے میں کوشش کروں گا چھوٹا سا تو شہر ہے میرا کیا پتہ کسی دن نظر آ جائے تو میں اس سے ضرور پوچھوں گا۔

  5. 5 سعید

    آپکا مضمون پہلے بھی ایسا ہی تھا جو پڑھا اور اس میں بھی باہر گئے ہوئے لوگوں سے شکائیتیں ہی تھیں۔ باہر جانے والوں کی نہ جانے کتنی مجبوریاں ہوتی ہیں جو آپ نہیں سمجھ سکتے۔ ویسے بھی کوئی خوشی سے ایسا نہیں کرتا۔

  6. 6 Saba Syed

    Asalam o Alaikum
    hmmmm, is entry mien dukh hai, taasuf hai, malal hai, ya pachhtawa, jo bhi hai be’sood hai.
    Baharhaal mien is terha ke logon se kehna chahti hoon, ke apni saari jawani, saari mehnat, saari taqat ghairon mien sirf kerne ke baad, jin logon ko burhape mien Pakistan yaad ata hai, un se guzarish hai woh burhape mien bhi yahan ka rukh na karien. Pakistan ko un logon ke pachhtawon, malal aur tabooton ki zaroorat nahi hai. woh apne qabrien aur pachhtawe bhi wahin perdes mien rakhien.
    Pakistan agar ganda hai to hum sab is gandagi ka hissa hain, apni gandagi khud saaf kerni chahye, na ke aina dekhna chor dien.
    aur jo log yeh kehte hain ke hum to majboori mien perdes mien reh rahe hain, un se arz hai ke aadtien ya to behtreen ghulam hoti hain ya badtareen aaqa. agar woh badtareen aaqa hain to phir aadtien hi majbooriyan ban jati hain.

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • بدتمیز: گندم کی اسٹوریج کا مسئلہ؟
    • عبداللہ: :lol: :oops:
    • محمد ریاض شاہد: یار ادھر جو گندم پیدا ہو رہی ہے اس کے لئے سٹوریج...
    • عبداللہ: در حقیقت یہ ہوتے ہیں گھڑے کے مینڈک :oops:
    • عبداللہ: نہیں ہم امام مہدی اور حضرت عیسی کا انتظار کررہے!
    • اسماء پيرس: ہميں بيچوں کی کيا ضرورت ہمارے پاس گندے انڈوں کا سٹاک...
    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 815
    • Links to posts: 82
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2860
    • Comments per post: 3.51
    • Top3 commenters: -بدتمیز (659) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank:
    • Alexarank: 377368

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->