بلاعنوان

لاہور میں ہمارے گھر کے بالکل آگے ایک مسجد تھی۔ اتنی پاس تھی کہ گھر سے نکلتے ہی اس سے ٹکر ہوتی تھی۔ مگر پھر بھی مجھے کبھی نماز باجماعت پڑھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ یہ کوئی فخر کا مقام نہیں۔ میں لاکھ کہوں کے ساری انتظامیہ دوغلی اور منافق تھی مگر دل کہتا ہے کہ نماز اللہ کے لئے تھی۔ خیر سارے نمازی مجھے لادین سمجھتے تھے اور میں عموماُ ان کی معلومات کی تصیح کی کوشش نہیں کرتا تھا۔ ان کے نزدیک میں ایک اچھے گھرانے کا بگڑا ہوا انسان تھا۔ چونکہ میری لادینی کے علاوہ میرے  میں کسی قسم کے اخلاقی نقص کا انکو پتہ نہیں تھا لہذا وہ کبھی کھل کر مجھے راہ راست پر لانے کی کوشش نہ کر سکے اس میں شائد میرے بزرگوں کی علاقے میں کمائی گئی 40٫50 سالہ عزت کا بھی کمال تھا۔

کل میرے ابو پاکستان سے واپس آئے ہیں۔ ان سے 2 زبردست باتیں پتہ چلیں ہیں۔ میں نے آج ایک PhD کی کہانی لکھنی تھی جو اس نے مجھے سنائی تھی مگر یہ کہانی زیادہ اچھی لگی لہذا اسی پر گزارہ کریں۔

میرے ابو اگست میں پاکستان گئے تھے۔ ستمبر میں رمضان شریف کا مہینہ آیا تو ہماری مسجد کی انتظامیہ نے حسب حال ایک حافظ لڑکے کو اجازت دے دی کہ تم اس دفعہ تراویح میں قرآن سنانا۔ ایک دوسرا لڑکا آیا اور اس نے کہا کہ مجھے اس دفعہ سنانا ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ تمہیں آنے میں دیر ہو گئی ہے لہذا پہلے ہی ایک لڑکے کو اجازت دی جا چکی ہے لہذا تم اگلے سال سنا دینا۔ اب جناب وہ لڑکا علاقے کے دو “معزز” لوگوں کے پاس گیا اور مسجد انتظامیہ کی شکائیت کی۔ ان “معزز” افراد نے مسجد انتظامیہ کو پیغام بھیجا کہ اس دفعہ اس لڑکے کو قرآن سنانے دو اور مسجد والے مان گئے۔

پہلا لڑکا بیچارہ کیا کرتا لہذا چپ ہو رہا جب محلے میں اس حرکت کی خبر پھیلی تو ایک پیر صاحب جو کہ محلے میں ہی اپنا آستانہ جمائے ہوئے ہیں اور عموماُ تعویز گنڈہ کرتے پائے جاتے ہیں نے کہا کہ ہر جمعے کو ان کو مسجد میں جمعہ سے پہلے اور بعد نعت پڑھنے کی اجازت دی جائے وہ بھی لاؤڈ سپیکر پر۔ مسجد انتظامیہ نہ مانی اور موقف پیش کیا کہ ایک تو اس کی اجازت نہیں دوسرے اس سے شور ہوتا ہے۔

بس لفظ شور ہونے پر قیامت مچا دی گئی۔ پیر صاحب اینڈ کمپنی نے کہا کہ نعت کے لئے شور کا لفظ کیوں استعمال کیا۔ چونکہ مسلمان صرف رمضان میں برے کاموں سے باز رہتے ہیں لہذا عید سے عین اگلے دن پھر مسئلہ اٹھایا گیا۔ لڑائی بڑھی تو پیر صاحب نے چونکہ اسلام کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے لہذا انہوں نے سپاہ صحابہ کی کمک منگوائی یہ لوگ موٹر سائیکل پر اسلحہ لئے وارد ہوئے۔ مسجد انتظامیہ کی طرف سے باہر سے لاہور آنے والی تبلیغی جماعتوں کی خاطر مدارت کا انتظام ایک عرصے سے جاری تھا جس کی وجہ سے ان کی لشکر طیبہ والوں سے سلام دعا تھی لہذا انہوں نے اسلام کی خدمت کے لئے ان کو پکارا۔ اب مسجد میں آمنے سامنے اسلحہ نکل آیا پولیس کی بھاری نفری 4 بسوں میں بھر کی آئی۔ سب کو نکال باہر کیا۔

چونکہ سپاہ صحابہ باہر کی ایک جماعت تھی جو علاقے میں قدم جمانے کی کوشش کر رہی تھی اور علاقے میں سوائے 3٫4 گھرانوں کے اور کوئی شیعہ گھرانہ نہیں لہذا لشکر طیبہ نے مسجد میں میٹنگ بلائی۔ خبر ملی کہ سپاہ صحابہ کی طرف سے پیش قدمی کی اطلاع ہے تو علاقے کے ناظم نے پولیس بلوا کر مسجد سیل کروا دی اور آج 3 ہفتے سے مسجد سیل ہے اور کوئی نماز نہیں پڑھی گئی۔

میں اصولی طور پر مسجد انتظامیہ کی طرف ہوں مگر لشکر طیبہ کی طرف سے جواب میں اسلحہ نکالنے کا مخالف ہوں۔ دوسرے میں شیعہ حضرات کے خلاف منافرت کے بھی خلاف ہوں۔ اگر وہ کلمہ پڑھتے ہیں تو میرے لئے مسلمان ہیں چاہے اور جو مرضی ان کا اعتقاد ہو۔ علاقے کے جو دو معزز افراد ہیں ان میں سے ایک پولیس کو مطلوب اشتہاری ہیں اور سارا دن گھر میں یا گھر کے آس پاس پھرتے ہیں مگر پولیس کو نظر نہیں آتے۔ دوسرے صاحب ایک کرپٹ ترین پولیس افسر ہیں اور ان جیسی کرپٹ شخصیت شائد ہی پولیس میں ہو۔ یہ اندر کی خبر ہے نہیں تو عام لوگوں نے لٹھ لے کر مولویوں کے خلاف پل پڑنا تھا۔

یہ چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں جنہوں نے عراق کی صورتحال سے ایندھن لے کے پاکستان میں فرقہ وارانہ ایسی آگ لگانی ہے جس میں نہ جانے کتنا جانی اور مالی نقصان ہونا ہے۔

Popularity: 5% [?]

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • Sphinn
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Mixx
  • Google Bookmarks
  • Blogplay
  • Reddit
  • RSS
  • StumbleUpon
  • Technorati
  • FriendFeed
  • LinkedIn
  • Live
  • MySpace
  • Twitter
  • Yahoo! Bookmarks
  • Yahoo! Buzz

Popularity: 5% [?]

215 views

 

 

Related Posts

    None Found


5 Responses to “بلاعنوان”

  1. 1 نعمان

    پاکستان میں اسلام کی خدمت ایسے ہی کی جاتی ہے۔ افسوس۔ اور اس قسم کے واقعات پاکستان بھر کے شہروں میں عام ہوتے جارہے ہیں۔ قومی میڈیا انہیں رپورٹ کرنے سے گریز کرتا ہے لیکن مساجد پر قبصوں کی لڑائیاں پاکستان میں کافی عام ہیں۔

  2. 2 میرا پاکستان

    اسی بارے میں علامہ اقبال نے جواب شکوہ میں ایک جگہ لکھا ہے
    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
    کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

    ہماری ایک نظم کا بند بھی اسی موضوع پر ہے
    بلوچی پنجابی سندھی ہوں
    سنی شیعہ وہابی ہوں
    حبشی عربی عجمی ہوں
    فرقہ بندی میں غرقان ہوں
    میں نام کا مسلمان ہوں

  3. 3 اجمل

    باقی باتيں مسجد اور محلہ کی تو آپ جانتے ہوں گے ۔ ميں صرف يہ کہوں گا کہ ہماری قوم کو نام نہاد پيروں اور پير پرستوں نے تباہی کے دہانے پر پہنچا ديا ہوا ہے اور اگر يہ نہ سنبھلی تو فنا ہو جائے گی

  4. 4 admin

    سلام
    لاہور میں ایسی لڑائیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ زیادہ تر ایسی اظلاعات گنجان آہاد اور پسماندہ علاقو سے آتی تھی۔ میرا علاقہ تو اچھا بھلا تھا۔
    میں پیری مریدی کے سختی سے خلاف ہوں شائد کوئی صوفیا کرام کے معتقد مجھ سے متفق نہ ہو مگر ایسے لوگ اب نہیں ملتے۔
    ہمارا اصل مسئلہ مذہب میں سیاست کی انوالومنٹ ہے۔ ہم لوگ مذہب میں اخکامات کی بجائے ذاتی پسند نہ پسند کا خیال رکھتے ہیں۔

  5. 5 محمد شاکر عزیز

    کچھ اسی طرح کا واقعہ میرے شہر میں بھی پیش آچکا ہے۔ وہ محلہ ہمارے محلے سے متصل ہے اور اب وہ مسجد بند کردی گئی ہے اس کی ابھی تعمیر بھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ یہاں جھگڑا دیوبندیوں اور بریلویوں کے درمیان تھا۔

Leave a Reply




CommentLuv Enabled



Free Clipart

Obama for 08

الٹی سیدھی

Asides

  • just a test post for the movie, 10,000 bc with sabre toothed cat and mamoth and evalot :P

    - #
  •  

    Recent Comments:

    • بدتمیز: فراست یہ میں نے پہلے پی پڑھ لیا تھا اور آخری لائن بہت...
    • فراست: http://www.slate.com/id/206422 7/
    • عمار ابنِ ضیاء: مسئلہ یہ نہیں‌ہے کہ میرے امی ابو میری کزنز لے کر...
    • بدتمیز: خاور: اسلام میں‌ بھی حکم نہیں ہے بلکہ وضاحت تھی اس حکم کی...
    • ریحان: اب اگر میرے والدین آپس میں کزنز تو میں پھر زہنی مریز کنفرم
    • ڈفر: لو جی گئی بھینس پانی میں میں تو سوچ رہا تھا گھر والے سناتے...
    • راشد اشرف: ہم تمام دوستوں کو فیس بک پر جناب ابن صفی کے فرزند ڈاکٹر...
    • راشد اشرف: جناب ابن صفی کے لازوال کردار،استاد محبوب نرالے عالم...
    • راشد کامران: دین میں کچھ چیزوں کو کرنے کی اجازت ہوتی ہے یعنی اگر...
    • محمد ریاض شاہد: جعفر تصحیح کا شکریہ .-= محمد ریاض شاہد´s last blog...

     

    Recent Trackbacks:

    Most Viewed

    • Users Online: 0
    • Registered Users: 2
    • Posts: 814
    • Links to posts: 81
    • Links per post: 0.10
    • Top3 commented posts: مہاجر (51) جہیز (42) بھگوڑا کون؟َ (35)
    • Comments: 2853
    • Comments per post: 3.50
    • Top3 commenters: -بدتمیز (658) -راشد کامران (104) -راہبر (87)
    • Pagerank:
    • Alexarank: 383858

     

    SideRSS Error: Something bad happened! Try again later.

    Subscribe

    Subscribe to my RSS Feeds

    -->