ہوش کے ناخن
122 views Published November 29th, 2006 in اردو, امریکہ نامہ, پاکستان نامہ.دسمبر شروع ہوا چاہتا ہے۔ نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ پھر کوئی ایسی ویسی حرکت ہونے لگی ہے۔ غیر محسوس طریقے سے بہت کچھ ہو رہا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں مگر دماغ ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہے۔
عموماُ مسلمانوں میں سے قدامت پسند طبقے کو لتاڑا جاتا ہے کہ یہ بڑے بدمزاج ہیں اور جلد بدتمیزی اور بد گوئی پر اتر آتے ہیں مگر red neck کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ان کے سامنے ذرا آپ عیسائیت کے کسی معاملے میں کچھ کہہ کر دیکھیں اگر آپ کی اچھی خاصی طبعیت صاف نہ کر دیں تو پھر کہئے گا۔
امریکی عوام اتنی بری نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔ ان لوگوں کو ہم لوگوں ہی نے ایسا بنایا ہے۔ کلچرل فرق اتنا اہم فیکٹر نہیں جتنا ہماری حرکات ہیں۔ پاکستان میں عام فیشن ہے کہ باہر جانے کے خواب دن میں بھی آتے رہتے ہیں ابو پر غصہ آیا یا ٹیچر سے مار پڑی یا صدر نے کچھ کیا اور آپ نے بیان داغ دیا کہ میرا بس چلے تو باہر چلا جاؤں میں عموماُ ایسے موقع پر کہتا ہوں کہ گھر سے یا کھال سے؟ امریکی ایسے نہیں یا یوں کہہ لیں کہ مغربی عوام ایسی نہیں یہ اپنے ملک پر جان دیتے ہیں حکومت کو چاہے دن رات کوسنے دیں مگر ملک سے پیار کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ بھی ہو کہیں نہ کہیں سے امریکہ گھسا لیتے ہیں اور کوئی جلوس نکالا تو اس میں امریکی پرچم جلانا لازمی ہے۔
میں نے ایک پیمانہ بنایا ہوا ہے کہ اگر ایک خبر لوکل نیوز پیپر میں نہیں آئی یا اس کی 10×12 کی تصویر نہیں چھپی تو معاملہ ابھی دبا نہیں۔ اگست میں جو کچھ ہوا اور پوپ کے بیان کے بعد جو ہوا اس کا اختتام ابھی نہیں ہوا۔ امریکی انتخابات کے ختم ہونے کا انتظار ہو رہا تھا۔ اب پوپ سے کام دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔
امریکہ میں ایک شخص نے امریکی پرچم جلایا اس کو پولیس پکڑ کر لے گئی مگر عدالت نے اس کو بری کر دیا مگر اس کے محلے داروں نے اس سے لاتعلقی اختیار کر لی اور مجبوراُ اس کو وہ جگہ چھوڑ کر جانا پڑا۔ اب پاکستان میں جلسہ ہوا امریکی پرچم جلایا جا رہا ہے اور اس پر آگے ہو ہو کر تصویر کھینچوائی جا رہی ہے۔ ایسی تصویر جب یہاں چھپتی ہے تو ایک پاکستانی کے بارے میں کیا تاثر بنتا ہے وہ مجھے پتہ ہے کہ جیسے ہی کسی کو میں بتاتا ہوں کہ میں کہاں سے ہوں وہ پہلے تو فوراُ چونک جاتا ہے اور دوسرا سوال ہوتا ہے کہ تم نے انگلش کہاں سے سیکھی؟ اور پھر ویلکم ٹو امریکہ کہتے ہیں۔
پہلے پوپ نے بیان دیا جو کہ انتہائی متنازعہ تھا ان کا جو بھی مطلب تھا انہوں نے ایک فریق کی بات کی مگر اس کو جو جواب ملا اس کا ذکر کرنے سے کترا گئے۔ نتیجتاُ مسلمانوں کے اس طبقے نے جو دماغ کی بجائے جذبات سے سوچتا ہے نے پوپ کے خلاف اچھا خاصا احتجاج کیا۔ پھر فرانس نے ترکی کے خلاف قانون پاس کر کے ترکی کو آگ لگا دی۔ اب امریکی انتخابات ختم ہیں اور پوپ ترکی کے دورے پر ہیں ان کے خلاف جو مظاہرے ہو رہے ہیں وہ ان کے بیان سے زیادہ فرانس کی حرکت کے خلاف ہیں مگر چونکہ عیسائی دنیا کسی اور ہی کی عینک سے چیزیں دیکھنے کی عادی ہے تو ان کی طرف سے جلد ہی کسی شرانگیزی کی امید ہے۔
پاکستان میں مولویوں کا آلہ کار بننے کی بجائے عقل سے کام لیں ہماری حکومت میں شامل خواتین و حضرات کا تعلق مرد اور عورت کی بجائے کسی تیسری جنس سے ہے۔ اس ڈرامے کا مقصد صرف اپنے اپنے اقدار کو طول دینا ہوتا ہے۔ میں اجتجاج کے حق میں ہوں مگر یہ لوگ عام مسلمانوں کو استعمال کرتے ہیں۔
مجھے یہودی پسند ہیں آپ ان کے کسی مقدس انسان کی بے حرمتی کر کے دیکھیں اگر آپ زندہ بچ گئے تو بڑی بات ہوگی۔ جینا حرام ہو جاتا ہے۔ میل گبسن کا حال دیکھ لیں ابھی تک اس کی جان عذاب بنی ہوئی ہے۔ دوسرے یہ لوگ انتقام لیتے ہیں نہ کہ توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ دوسرے کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مسلمانوں کا ابتدائی زمانہ دیکھ لیں وہ لوگ بجائے جلسے کرنے کے انتقام لے لیا کرتے تھے اسی سے سب لوگ خوفزدہ رہتے تھے کہ اگر کچھ کیا تو ہماری باری آ جانی ہے۔ اب بجائے اپوزیشن کا آلہ کار بننے کے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے ان سے انتقام لیں مگر وہ لینا مشکل ہے کہ اس سب کی عادت ہوئی ہوئی ہے۔ مگر جلوس نکال کر نعرے لگا کر پتہ نہیں کونسا ثواب کمایا جاتا ہے۔
Popularity: 10%
Popularity: 10%
122 views
Related Posts
- عقلمند اور قانون On November 18, 2006, 0 Comments
- امریکہ تارکین وطن کا ملک ہے۔ یہاں ہر قوم اور ملک کے لوگ رہتے ہیں۔east North کی طرف tolerance زیادہ ہے مگر جیسے جیسے south یا west کی طرف جائیں لوگوں کی بہت بڑی تعداد red neck ہے۔ امریکی ریاست Nevada کی ایک county کی council نے 2 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے ایک
Random Posts








اچھا لک ہے!! مگر یار فونٹ میں اردو نسخ ایشیا اور پاک نستعلیق سیٹ کردو!!! ونڈو 98 والوں کو آسانی ہو جائے گی!