امریکہ دو جماعتی ملک ہے یعنی دو سیاسی جماعتوں میں رسہ کشی ہوتی رہتی ہے۔ میرا خیال تھا کہ جس طرح میڈیا میں دہشت گردی کا ہوا کھڑا کیا ہوا ہے لوگ ری پبلیکن پارٹی کو ہی ووٹ دیں گے۔ میرا یہ خیال صدام کو پھانسی دینے کی سزا کے اعلان کے ساتھ بدل گیا۔
امریکہ خود کو جمہوریت کا علمبردار کہلاتا ہے اور دو سو سال سے زائد عرصے کی جمہوریت پر اتراتا پھرتا ہے مگر اندر سے دیکھنے پر یہ جمہوریت انتہائی کھوکھلی ہے۔ میڈیا، انٹرنیشنل کمپنیوں پر کس کا قبضہ ہے یہ سب جانتے ہیں اور انہی کمپنیوں سے قرضہ لے کر اسی میڈیا کے مرہون منت سیاست دان کس قوم کے زیر اثر ہیں یہ بھی سب جانتے ہیں۔
عام طور پر ری پبلیکن پارٹی امیروں کی پارٹی سمجھی جاتی ہے اور ڈیموکریٹس غریبوں کی۔ وہ اس لئے کہ ڈیمو کریٹس عام طور پر امیروں پر اور کمپنیوں پر ٹیکس لگاتے ہیں اور وہ تیل اور گیس کمپنیوں کو من مانی کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ جبکہ ری پبلیکن پارٹی امیروں کی طرف دھیان زیادہ دیتی ہے اور ان کے مفاد کا زیادہ خیال کرتی ہے۔
ٹرن آؤٹ کا رونا ہر انتخابات پر رویا جاتا ہے۔ خود یہاں ٹرن آؤٹ تیس جالیس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔ کچھ آتے نہیں اور کچھ کو آنے دیا جاتا نہیں۔ کسیے؟ وہ ایسے کہ ری پبلیکن پارٹی کو پتہ پے کہ جتنے بھی غریب ہیں ان کی پچاس سے نوے فیصد آبادی افریقن امریکن پر مشتمل ہے۔ جو کہ ری پبلیکن پارٹی سے رنگ اور نسل کی بنا پر روا رکھے جانے والے تعصب کی وجہ سے نفرت کرتی ہے لہذا وہ ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔ اور چونکہ وہ جرائم میں بے حد ملوث ہوتے ہیں لہذا ان کے لئے قانون بنایا ہوا ہے کہ اگر کوئی کسی جرم میں ملوث ہے تو وہ ووٹ دینے کا حقدار نہیں۔ اب اس میں نچلے طبقے کا ہر فرد آ گیا چاہے گورا ہو یا کالا کیونکہ وہ غریپ ہے اور اس کو پتہ ہے کہ ڈیموکریٹس ہی ان کے لئے کچھ کرتے ہیں لہذا ان کو روکنے کے لئے یہ قانون ہے اور دوبارہ ووٹ کے لئے فیس ہے اب چونکہ غریپ ہے تو وہ اپنی فکر کرے یا ووٹ کی؟
دوسرا اگر موسم خراب ہے تو پچانوے فیصد افریقن امریکن گھر بیٹھے گیں کہ چلو ٹی وی دیکھیں ووٹ ڈال کر کیا کرنا بعد میں رونے روتے ہیں کہ یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا۔ ہمارا ڈیموکریٹ ہار گیا۔ اس کے برعکس ری پبلیکن کو ووٹ دینے والا چونکہ well mannered لہذا چاہے بارش ہو یا برف باری وہ ہر صورت جا کر ووٹ ڈالے گا۔
اب یہاں ورجینیا میں سارا دن بارش ہوتی رہی اور ایک منٹ کے لئے بھی نہیں رکی۔ صبح چار پانچ بجے شروع ہوئی اور الیکشن والے دن سے اگلے دن رات تک ہوتی رہی۔ اس کا نتجہ ری پبلیکن کے حق میں نکلا۔ افریقن امریکن گھروں میں بیٹھے رہے۔ میں نے جس سے بھی پوچھا اس نے یہی کہا نہیں میں گھر پر ہی رہا۔ مگر جتنے بھی ری پبلیکن تھے وہ سب کے سب جا کر ووٹ ڈالتے رہے۔ (امریکہ میں الیکشن پر چھٹی نہیں ہوتی پولنگ سٹیشن رات آٹھ نو بجے تک کھلے رہتے ہیں آپ دفتر سے لنچ بریک میں یا واپسی پر جا کر ووٹ ڈال آئیں سپیشل چھٹی کی ضرورت نہیں۔)
تیسرے جو یہاں پر ووٹنگ کے لئے مشینیں ہے ان پر بھی ڈیموکریٹس کو شبہ ہے کہ چونکہ افریقن امریکن کم پڑھے لکھے ہیں دوسرے ان کا دماغ زیادہ وقت غیر حاضر رہتے ہے لہذا وہ اس مشین کے طریقے کار کو صیح طور پر سمجھ نہیں سکتے اور نتیجتاُ ان کا ووٹ ضائع ہو جاتا ہے۔
میں نے ساری شام سی این این کی ویب سائیٹ اوپن کئے رکھی۔ بار بار اس کے پیج کو ریفریش کرتا رہا۔ سوائے ایک دو دفعہ کے ری پبلیکن پارٹی کے جارج ایلن ہی کو برتری حاصل رہی۔ اور کئ موقعوں پر ان کو ڈیموکریٹک امیدوار جم ویب پر بتیس ہزار ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔ پھر میں جا کر سو گیا۔ رات گئے کہیں “پرنس ولیمز” کاؤنٹی سے آنے والے ووٹوں کے نتائج نے فیصلہ ڈیمو کریٹک جم ویپ کے حق میں کر دیا۔ اب جم ویب کہتے ہیں میں جیتا اور جارج ایلن کہتے ہیں میں دوبارہ گنتی کرواؤں گا۔ خیر اگر سارے افریقن امریکن جا کرے ووٹ ڈال آتے تو شائد دوبارہ گنتی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
اگر دوبارہ گنتی کے بعد بھی ڈیمو کریٹ کی جیت ہوتی ہے تو یہ بڑی کامیابی ہے کہ ورجینیا ہمیشہ سے ری پبلیکن سٹیٹ رہی ہے۔ ابھی بھی سوائے چند علاقوں کے سارا ورجینیا ری پبلیکن ہے۔
Popularity: 11% [?]
Popularity: 11% [?]
270 views
Related Posts
- New Presidential coins On January 7, 2007, 0 Comments
- A new presidential dollar coin will be appearing in circulation beginning February 16, 2007. United States Mint officials for the first time revealed designs for the presidential dollar coin series at a November 20, 2006 ceremony held at the Smithsonian Institution’s National Portrait Gallery.The dollars are to be produced because of the Presidential $1 Coin


























0 Responses to “امریکی الیکشن 2006”
Please Wait
Leave a Reply