صدر بش روس کے دورے پر تھے اس دوران ایک جگہ صدر بش اور صدر پیوٹن نے اکٹھے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ایک سوال کے جواب میں صدر بش نے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ روس میں بھی اسی طرح کی جمہوریت قائم ہو جس کے لئے امریکہ ساری دنیا میں کوشاں ہے”۔ صدر پیوٹن نے فوراُ کہا نہ تو ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جیسے کہ عراق میں قائم ہوئی ہے نہ اس کے لئے غیر ملکی مداخلت برداشت کی جائے گی۔ اس پر سارے ہال میں ایک زور دار قہقہ گونجا اور امریکی صدر نے کہا نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔
اس کے بالکل برعکس جب پاکستان کے صدر امریکہ اپنی کتاب کی پروموشن کے سلسلے میں آئے تو انہوں نے ایک انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں کسی بھی غیر ملکی فوج کو پاکستان میں آپریشن کی اجازت نہیں دونگا اور اسی دن صدر بش نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ان کو پتہ چلا کہ “دہشت گرد” پاکستان میں کسی جگہ ہیں تو وہ بلا تامل اپنے کمانڈوز کو وہاں حملہ کرنے کا حکم دیں گے۔
باجوڑ میں جو کچھ ہوا اور کسنے کیا اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ حکومت کچھ کہے گی اور عوام کچھ۔ صرف یہ کہنا کہ امریکی انٹیلی جنس پر حملہ کیا گیا بے وقوفی ہے کون سا ملک ایسا ہو گا جو کسی کے کہنے پر اپنے ہی علاقے میں لوگوں کو قتل کرے؟ امن معاہدہ ہو رہا تھا تو پھر آگ برسانے کا مطلب؟
چلیں مان لیا 12 سے 16 سال کے بچوں کی بجائے اس چھوٹی سی جگہ پر دہشت گرد تربیت لے رہے تھے تو جناب آپ کیسے اس کی مانیٹرنگ کر رہے تھے دہشت گردوں نے آپ پر کیوں نہیں حملہ کیا اور کیا آپ نے قبائل سے ان افراد کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا؟ اور اگر وہاں واقعی میں دہشت گرد تھے تو وہ کیسے بے وقوف تھے جو امن معاہدہ کرنے دے رہے تھے؟
Popularity: 10% [?]
Popularity: 10% [?]
213 views
Related Posts
- None Found




























0 Responses to “باجوڑ”
Please Wait
Leave a Reply