آج کیا روشن اور خوبصورت دن ظلوع ہوا تھا۔ آج پھر بے حد گرمی تھی مگر پھر بھی میں سارا دن ہنس ہنس کر دہرا ہوتا رہا۔ تمام اردو بلاگران کے ساتھ بڑا وڈا ہاتھ ہو گیا ہے۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ جو تمام اڈیاں اونچی انچی کر کے قد بڑھا رہے تھے اب جھاگ کی طرح بیٹھے ہیں۔ ایک دو نے تو آئیں بائیں شائیں کرنا شروع کر دی ہے مگر پہلے
سب کے سب لائن بنا کر ادھر مرغے بنیں۔ اور پھر باجماعت ککڑوں کوں کی صدائیں بلند کریں۔ اور پھر سب خود مل کر اپنی بےوقوفی پر ہنسیں۔ یہاں مجھے کیمپ کینڈی کا اردو ورژن والا گیت یاد آ رہا ہے۔ جس کی آخری لائن تھی ارے تم کدھر جا رہے ہو آجاو آجاو لہذا ایک ایک کا مرغ بننا لازمی ہے۔ چاہے اس نے کسی کی بھی مذمت کی ہو بلاتخصیص۔ چاہے ایک لائں لکھی ہو چاہے بے حد افسوس کیا ہو چاہے مجھے کوئی اطلاع دی ہو مرغے بنو اور ہور چوپو اور ہور چھال مارو
مجھے نہیں معلوم یہ پریکٹیکل جوک تھا یا کیا۔ میں اپنے خیالات اس بارے نہیں لکھنا چاہتا کہ وہ خاتون یا مرد اب ماضی کا قصہ ہیں۔ مگر میرے پاس ایک سوال ہے۔ جی نہیں یہ وہ سوال نہیں ہے۔ یہ ہے اپنے نہ مان صاب کے لئے۔ ہن آرام ای؟ اردو ترجمہ۔ اب آرام آیا؟ نہ مان پر میرا آخری جوک اس کے بعد اس کی خلاصی کے اس کی رج کے مذکورہ مرد یا عورت کر کے جا چکا ہے۔ اور اس پر اگر نہ مان میں رتی بھر بھی شرم ہو تو اپنا معافی نامہ لگائے ورنہ میں سوال پوچھونگا۔
اوہ نہ مانی جوک تو رہ گیا۔ جیسے کہ دستور ہے کہ بچے کی پیدائش پر بتاتے ہیں کہ مبارک ہو بیٹا ہوا ہے تو ایسے میں یہ پنگھوڑے سے بول اٹھے تھے۔ نہیں نہیں میں تو لڑکی ہوں۔ بس تب سے یہ نہ مان ہیں طوفان بدتمیزی کے بعد دو لوگوں نے اپنی ریپیوٹیشن اور اپنا ریکارڈ بحال رکھا۔ پہلے جناب بدتمیز صاب جو کہ کبھی غلط نہیں۔ ان کی بات کرنے کا انداز سو فیصد غلط ہوتا ہے مگر ان کی بات کبھی غلط نہیں ہوتی۔ دوسرے اپنے نہ مان صاب جو ایک دفعہ پھر کامیابی سے بےعزت ہوئے۔ اور آخر میں لوگوں کی منت کرتے پائے گئے کہ آپ یہ لکھ دیں تو میں یہ کر دونگا۔ مذمت ایک حد تک ہوتی ہے اس کے بعد آپ ذاتیات کی سیڑھیاں چڑھنے لگتے ہیں وہی ذاتیات جس میں آپکو دوسرے ملوث نظر آتے ہیں۔
نہ مان سے آگے بڑھتے ہوئے۔ ان صاحب یا محترمہ نے آپنی آخری پوسٹ میں کچھ گزارش کی۔ میرا خیال ہے ان کو علم تھا کہ یہ نکال باہر ہو چکے ہیں۔ خیر مجھے ان کے باہر ہونے پر تاسف ہے کیونکہ تمام غلط الفاظ کا استعمال میری طرف سے تھا جبکہ وہاں صرف اشارہ اور استعاروں سے کام لیا جا رہا تھا۔ بالکل انصاف کے ساتھ میں حد سے گزر رہا تھا وہ نہیں۔ مزید سیارے بارے کہنا نہیں چاہتا کہ درست بات غلط موقعہ پر غلط ہی لگتی ہے۔
مزید آگے بڑھتے ہیں۔ میں پریشان ہوں کے اپنا بارہ سنگھا اب کدھر جائے گا؟ خیر کچھ عجب نہیں کچھ عرصے بعد ننھے منے بلاگران سے پھر ایک ہاتھ ہو اور بے تحاشہ سینگ وہاں نکل آءیں۔ تب تک ہم سینگھو کے دکھ میں شریک ہیں۔
میں نے پچھلے ایک ماہ خود سے بہت پوچھا یہ کیا گند مچا رہے ہو؟ اور پوچھ کر پھر نیا گند ہی مارا۔ مگر خوشی کبھی نہیں ہوئی۔ الٹا مزید تعفن کا احساس ہوا۔ مٰں اس گندگی میں دھنستا ہی گیا۔ یہاں تک کہ اس گند کا حصہ بن گیا۔ احساس ختم۔ میں اپنے غصے طاقت اور ہمیشہ درست ثابت ہونے کے غرور میں زور لگا لگا کر گند میں گھستا گیا۔
جب آپ خود دوسروں کو نصیحت خود میا فضیحت ہوں تو آپ کی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ مجھے ویسے بھی نہیں کرتی۔ پہلا احساس تب ہوا جب کسی نے پوچھا اگر خان صاحب تمہارے دوست ہوتے تو تم کیا کرتے؟ میرے جواب سے پہلےمشورہ آیا خاں صاحب کو دوست سمجھ لو۔
دوسر احساس تب ہوا جب اسی دن عنیقہ کی بات پڑھی کہ اگر کچھ عرصہ بعد اپنی تحریر پڑھی تو کیا سوچونگا؟ میں اکثر اپنی تین چار سال پہلی پوسٹ پڑھ کر خود کی بےعزتی کرتا ہوں کہ میں اس وقت کتنا پاگل تھا۔ اب بھی ہوں۔
تیسرا احساس ہوا اپنے اوئے شاہ جی کی تحریر گاربیج ٹرک پڑھ کر۔ یقین مانیں مجھے اپنا آپ گاربیج ٹرک لگا۔ اسی طرح گند میں لتھڑا تعفن سے بھرا جس سے لوگ دور دور ہوں۔ جو کام میرے دوست نہ کر سکے۔ وہ کام شاہ جی نے کر دیا جس سے میری شائد تین چار سطروں سے زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔ اوئے شاہ جی آج سے تو میرا مرید۔ معاف کیجئے گا میرا مرشد
میں نے بڑا سوچا۔ میں وہ تھا جس کے بارے میں نہ جانے کس نے کہا تھا کہ واحد بدتمیز ہو جس کو لوگ اس کی تمام تر بدتمیزیوں کے باوجود پیار کرتے ہیں۔ اور کہاں میں اس حد تک آ گیا میں نے کس قدر گند پھیلا دیا۔ چاروں طرف لوگ سہمے کہ کچھ کہا تو بدتمیزی کرے گا۔ عزت کسے نہیں پیاری ہوتی۔ بدتمیزی اور بدتہزیبی عروج پر تھی۔ میں آپ سب سے معذرت کرتا ہوں۔ ان تمام سے جن کی میں نے واٹ لگائی ان تمام سے جو میرے سے خفا اور ناراض ہیں۔ مجھے بالکل احساس ہے کہ یہ ناراضگی یقین میرے توقعات پر پورے نہ اترنے کی وجہ سے ہے۔ حتی کہ مجھے نعمان سے بھی کوئی ذاتی خار نہیں اور اس کی بلاگنگ پر حملہ کرنے سے میں حتی المکان بچتا تھا کہ میں نے اس سے کھیل کھیلنے کے دوران جان لیا تھا کہ وہ کنفیوز ہو جاتا ہے اور پھر اپنے موضوع سے انصاف نہیں کر پاتا
صرف دو اردو بلاگر درست معنوں میں میرے سے عزت کروا سکے۔ ان کی میں دل سے عزت کرتا ہوں۔ پہلے میرا پاکستان دوسرے ابو شامل۔ ان دونوں نےمیری ہر بدتمیزی کے جواب میں مجھے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ ان کے دل میں میرے خلاف کوئی غصہ دبا ہے۔ شاءد آپ یقین نہ کرے کہ میں ایک عرصے سے ابو بلاگر کی واٹ لگانے کی کوشش میں تھا مگر ہمیشہ ابو شامل کی وجہ سے نہیں لگائی کہ وہ سب سے ایکٹو ہے، جس دن یہ فہد کہار ہوا اس دن ابوبلاگر کے لئے ہم واپس آئیں گے۔
صرف ایک شخص ایسا ہے جس کے بارے میں میری رائے کبھی مثبت نہیں۔ وہ بار ہا سنگھا ہے۔ بار ہا سنگھے کو میں بے حد متعصب جانتا ہوں۔ جہاں نعمان اپنے آپ کو تبدیل کرنے اور اپنی پسند کے علاوہ دوسرے بلاگران کی رائے کو اہمیتے دیتے ہوئے مثبت تبدیلیاں لا رہا ہے وہاں بار ہا سنگھے سے یہ امید بالکل عبث ہے۔ میرا خیال ہے اس کا تعصب شائد کبھی ختم ہنہیں ہو گا۔ میں نے جب جب کوشش کی اس کو سمجھو وہ ہمیشہ متعصب ہی نکلا۔
جناب بدتمیز صاب کو صرف ایک افسوس رہے گا کہ وہ بارہ سنگھے پر اپنی نادر و نایاب پوسٹ نہ لکھ سکے۔
Popularity: 1% [?]

