Skip to content


Change of Heart

آج کیا روشن اور خوبصورت دن ظلوع ہوا تھا۔ آج پھر بے حد گرمی تھی مگر پھر بھی میں سارا دن ہنس ہنس کر دہرا ہوتا رہا۔ تمام اردو بلاگران کے ساتھ بڑا وڈا ہاتھ ہو گیا ہے۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ جو تمام اڈیاں اونچی انچی کر کے قد بڑھا رہے تھے اب جھاگ کی طرح بیٹھے ہیں۔ ایک دو نے تو آئیں بائیں شائیں کرنا شروع کر دی ہے مگر پہلے

سب کے سب لائن بنا کر ادھر مرغے بنیں۔ اور پھر باجماعت ککڑوں کوں کی صدائیں بلند کریں۔ اور پھر سب خود مل کر اپنی بےوقوفی پر ہنسیں۔ یہاں مجھے کیمپ کینڈی کا اردو ورژن والا گیت یاد آ رہا ہے۔ جس کی آخری لائن تھی ارے تم کدھر جا رہے ہو آجاو آجاو لہذا ایک ایک کا مرغ بننا لازمی ہے۔ چاہے اس نے کسی کی بھی مذمت کی ہو بلاتخصیص۔ چاہے ایک لائں لکھی ہو چاہے بے حد افسوس کیا ہو چاہے مجھے کوئی اطلاع دی ہو مرغے بنو اور ہور چوپو اور ہور چھال مارو

مجھے نہیں معلوم یہ پریکٹیکل جوک تھا یا کیا۔ میں اپنے خیالات اس بارے نہیں لکھنا چاہتا کہ وہ خاتون یا مرد اب ماضی کا قصہ ہیں۔ مگر میرے پاس ایک سوال ہے۔ جی نہیں یہ وہ سوال نہیں ہے۔ یہ ہے اپنے نہ مان صاب کے لئے۔ ہن آرام ای؟ اردو ترجمہ۔ اب آرام آیا؟ نہ مان پر میرا آخری جوک اس کے بعد اس کی خلاصی کے اس کی رج کے مذکورہ مرد یا عورت کر کے جا چکا ہے۔ اور اس پر اگر نہ مان میں رتی بھر بھی شرم ہو تو اپنا معافی نامہ لگائے ورنہ میں سوال پوچھونگا۔

اوہ نہ مانی جوک تو رہ گیا۔ جیسے کہ دستور ہے کہ بچے کی پیدائش پر بتاتے ہیں کہ مبارک ہو بیٹا ہوا ہے تو ایسے  میں یہ پنگھوڑے سے بول اٹھے تھے۔ نہیں نہیں میں تو لڑکی ہوں۔ بس تب سے یہ نہ مان ہیں طوفان بدتمیزی کے بعد دو لوگوں نے اپنی ریپیوٹیشن اور اپنا ریکارڈ بحال رکھا۔ پہلے جناب بدتمیز صاب جو کہ کبھی غلط نہیں۔ ان کی بات کرنے کا انداز سو فیصد غلط ہوتا ہے مگر ان کی بات کبھی غلط نہیں ہوتی۔ دوسرے اپنے نہ مان صاب جو ایک دفعہ پھر کامیابی سے بےعزت ہوئے۔ اور آخر میں لوگوں کی منت کرتے پائے گئے کہ آپ یہ لکھ دیں تو میں یہ کر دونگا۔ مذمت ایک حد تک ہوتی ہے اس کے بعد آپ ذاتیات کی سیڑھیاں چڑھنے لگتے ہیں وہی ذاتیات جس میں آپکو دوسرے ملوث نظر آتے ہیں۔

نہ مان سے آگے بڑھتے ہوئے۔ ان صاحب یا محترمہ نے آپنی آخری پوسٹ میں کچھ گزارش کی۔ میرا خیال ہے ان کو علم تھا کہ یہ نکال باہر ہو چکے ہیں۔ خیر مجھے ان کے باہر ہونے پر تاسف ہے کیونکہ تمام غلط الفاظ کا استعمال میری طرف سے تھا جبکہ وہاں صرف اشارہ اور استعاروں سے کام لیا جا رہا تھا۔ بالکل انصاف کے ساتھ میں حد سے گزر رہا تھا وہ نہیں۔ مزید سیارے بارے کہنا نہیں چاہتا کہ درست بات غلط موقعہ پر غلط ہی لگتی ہے۔

مزید آگے بڑھتے ہیں۔ میں پریشان ہوں کے اپنا بارہ سنگھا اب کدھر جائے گا؟ خیر کچھ عجب نہیں کچھ عرصے بعد ننھے منے بلاگران سے پھر ایک ہاتھ ہو اور بے تحاشہ سینگ وہاں نکل آءیں۔ تب تک ہم سینگھو کے دکھ میں شریک ہیں۔

میں نے پچھلے ایک ماہ خود سے بہت پوچھا یہ کیا گند مچا رہے ہو؟ اور پوچھ کر پھر نیا گند ہی مارا۔ مگر خوشی کبھی نہیں ہوئی۔ الٹا مزید تعفن کا احساس ہوا۔ مٰں اس گندگی میں دھنستا ہی گیا۔ یہاں تک کہ اس گند کا حصہ بن گیا۔ احساس ختم۔ میں اپنے غصے طاقت اور ہمیشہ درست ثابت ہونے کے غرور میں زور لگا لگا کر گند میں گھستا گیا۔

جب آپ خود دوسروں کو نصیحت خود میا فضیحت ہوں تو آپ کی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ مجھے ویسے بھی نہیں کرتی۔ پہلا احساس تب ہوا جب کسی نے پوچھا اگر خان صاحب تمہارے دوست ہوتے تو تم کیا کرتے؟ میرے جواب سے پہلےمشورہ آیا خاں صاحب کو دوست سمجھ لو۔

دوسر احساس تب ہوا جب اسی دن عنیقہ کی بات پڑھی کہ اگر کچھ عرصہ بعد اپنی تحریر پڑھی تو کیا سوچونگا؟ میں اکثر اپنی تین چار سال پہلی پوسٹ پڑھ کر خود کی بےعزتی کرتا ہوں کہ میں اس وقت کتنا پاگل تھا۔ اب بھی ہوں۔

تیسرا احساس ہوا اپنے اوئے شاہ جی کی تحریر گاربیج ٹرک پڑھ کر۔ یقین مانیں مجھے اپنا آپ گاربیج ٹرک لگا۔ اسی طرح گند میں لتھڑا تعفن سے بھرا جس سے لوگ دور دور ہوں۔ جو کام میرے دوست نہ کر سکے۔ وہ کام شاہ جی نے کر دیا جس سے میری شائد تین چار سطروں سے زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔ اوئے شاہ جی آج سے تو میرا مرید۔ معاف کیجئے گا میرا مرشد

میں نے بڑا سوچا۔ میں وہ تھا جس کے بارے میں نہ جانے کس نے کہا تھا کہ واحد بدتمیز ہو جس کو لوگ اس کی تمام تر بدتمیزیوں کے باوجود پیار کرتے ہیں۔ اور کہاں میں اس حد تک آ گیا میں نے کس قدر گند پھیلا دیا۔ چاروں طرف لوگ سہمے کہ کچھ کہا تو بدتمیزی کرے گا۔ عزت کسے نہیں پیاری ہوتی۔ بدتمیزی اور بدتہزیبی عروج پر تھی۔ میں آپ سب سے معذرت کرتا ہوں۔ ان تمام سے جن کی میں نے واٹ لگائی ان تمام سے جو میرے سے خفا اور ناراض ہیں۔ مجھے بالکل احساس ہے کہ یہ ناراضگی یقین میرے توقعات پر پورے نہ اترنے کی وجہ سے ہے۔ حتی کہ مجھے نعمان سے بھی کوئی ذاتی خار نہیں اور اس کی بلاگنگ پر حملہ کرنے سے میں حتی المکان بچتا تھا کہ میں نے اس سے کھیل کھیلنے کے دوران جان لیا تھا کہ وہ کنفیوز ہو جاتا ہے اور پھر اپنے موضوع سے انصاف نہیں کر پاتا

صرف دو اردو بلاگر درست معنوں میں میرے سے عزت کروا سکے۔ ان کی میں دل سے عزت کرتا ہوں۔ پہلے میرا پاکستان دوسرے ابو شامل۔ ان دونوں نےمیری ہر بدتمیزی کے جواب میں مجھے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ ان کے دل میں  میرے خلاف کوئی غصہ دبا ہے۔ شاءد آپ یقین نہ کرے کہ میں ایک عرصے سے ابو بلاگر کی واٹ لگانے کی کوشش میں تھا مگر ہمیشہ ابو شامل کی وجہ سے نہیں لگائی کہ وہ سب سے ایکٹو ہے، جس دن یہ فہد کہار ہوا اس دن ابوبلاگر کے لئے ہم واپس آئیں گے۔

صرف ایک شخص ایسا ہے جس کے بارے میں میری رائے کبھی مثبت نہیں۔ وہ بار ہا سنگھا ہے۔ بار ہا سنگھے کو میں بے حد متعصب جانتا ہوں۔ جہاں نعمان اپنے آپ کو تبدیل کرنے اور اپنی پسند کے علاوہ دوسرے بلاگران کی رائے کو اہمیتے دیتے ہوئے مثبت تبدیلیاں لا رہا ہے وہاں بار ہا سنگھے سے یہ امید بالکل عبث ہے۔ میرا خیال ہے اس کا تعصب شائد کبھی ختم ہنہیں ہو گا۔ میں نے جب جب کوشش کی اس کو سمجھو وہ ہمیشہ متعصب ہی نکلا۔

جناب بدتمیز صاب کو صرف ایک افسوس رہے گا کہ وہ بارہ سنگھے پر اپنی نادر و نایاب پوسٹ نہ لکھ سکے۔

Popularity: 1% [?]

Posted in nevermind, peoples profile.


بکواس بند کرو

زنانہ وار بلاگنگ کرتے اپنے نہ مان صاب کو دو دن ہو گئے ہول پڑنے ختم نہیں ہو رہے۔ اب جا جا کر اور جگہ فرما رہے ہیں کہ جی آو اور کمنٹ کرو۔ میرا خیال تھا کہ کل میری پوسٹ کے بعد ان کو لکھ دینا چاہئے تھا کہ جی بدتمیز اپنی حرکات پر نہایت نادم اور معافی مانگ رہا ہے چلو معاف کریں پر جی دیسی بندے سے میں معافی مانگنے کے حق میں نہیں۔ کمینہ اور نیچ معذرت سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ چاہتا ہے کہ معافی ناک رگڑ کر مانگی جائے اور پھر اکڑتا پھرتا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر اگلے کو نیچے لگایا۔

اپنے خاور صاب نے ایک دنیا دیکھی ہے جی۔ مگر اب وہ اس سرحد پر ہیں جہاں ان کو گزرے زمانے کے بزرگوں میں شامل کر لیا جائے۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ زنانہ وار نہیں ہوتا۔ جی آجکل ہوتا ہے جی۔ ادھر نیویارک میں ہم کچھ ایسے مردوں کو جنکو مردانگی اتنی پسند آتی ہے کہ کسی مرد پر ریجھ جاتے ہیں کو ہم باجی ارشد کے نام سے پکارتے ہیں۔ اگر دو ہوں تو دوسرے کو باجی اور ساتھ کسی اور مردانہ نام کا اضافہ کر لیتے ہیں۔ فورا پتہ چل جاتا ہے جی کہ کسی گے کا ذکر شریف ہے۔ یہ گے جی بڑے زنانہ وار ہوتے ہیں جی۔ ان کے جذبات بالکل عورتوں کی مانند ہوتے ہیں جی۔

مردانہ وار جہاں تمغہ ہے وہاں زنانہ وار گالی ہے جی۔ اپنے نہ مان صاب مذمت کر رہے ہیں جی اس چیز کی جس میں یہ خود ملوث ہیں جی۔ فرماتے ہیں کہ جی اجمل صاحب اور میرا پاکستان انھے ہیں لہذا میں فیر تبصرہ کاپی پیسٹ کر دیتا ہوں۔ پر جی نعمان صاحب لوکاں کو انھے کہتے ہیں اور خود عقل کے انھے ہیں جی۔ باسی کڑھی میں پھونکوں سے ابالے مار رہے ہیں جی۔ اگر عقل ہوتی تو جی مذمت کرتے جیسے اپنے باو شاکر نے کی جی۔ پر جی کیچڑ میں چھال نہ مارنے کی نصیحت کر کے لوگ خود ہی چھال مار لیتے ہیں جی۔

اپنے نہ مان صاب کو بڑا شوق ہے جی تبصرے کا فوری اور موثر جواب دینے کا۔ ایسے  میں چونکہ سوچنے سمجھنے کا بہت کم وقت ملتا ہے لہذا یہ پوسٹ سے بہت دور نکل جاتے ہیں جی۔ اپنے نہ مان صاب بدتمیز کی مذمت کرتے کرتے اجمل صاحب کی مذمت کرنے لگ گئے جی۔ کیا بچگانہ پن ہے جی؟ اب ان کی مذمت کون کرے جی؟ اور لوکاں سے  معصومیت سے پوچھتے پھرتے ہیں جی کہ میں کدھر ملوث ہوا جی؟

اور جی سچ پوچھو تو اس مذمت سے ہو گا کیا جی؟ کیا کر لو گے جی؟ میں بتاو جی؟ صرف اپنا جی خوش۔ نہ جی مجھے نہ کسی نے کہا تھا بدتمیزی کر اور نہ میں نے کسی کے کہنے پر کی جی۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ میں نے دوستوں کے کہنے پر شروع کی یا ان کی شہہ تھی تو اس کی غلط فہمی ہے جی۔ یہ میرا ذاتی فعل تھا جی۔ لہذا دوسرے ایک دوسرے پر الزام لگانا بند کریں جی۔ خاص طور پر اپنے عثمان صاب سے میرا کوئی ذاتی پرابلم نہیں۔ میں نے کل بھی اپنے ایک نورانی صورت اور سیرت دوست کا قول بیان کیا تھا جی۔ اگے ان کی مرضی

اپنے نہ مان صاب کو وہ بندے بڑے اچھے لگے جی جنہوں نے بیزاری کا اظہار خاموش رہ کر کیا جی۔ پر جی خود خاموش نہیں رہ سکے جی۔ کیونکہ جی مزمت کرنی تھی جی۔ نہ مان صاب ذاتی بغض کا بڑے عرصے سے شکار ہیں جی۔ میرے سامنے کھیل کود کر ادھر بڑے ہوئے ہیں جی۔ آجکل بلاگنگ کے جد امجد بننے کی خاطر ایشو کو رگڑا لگاتے ہیں جی۔

اپنے ایک ذوق والے دوست ہیں جی۔ پردے کے بڑے شوقیں ہیں جی۔ حدیث غلط لکھ گئے ہیں جی۔ کسی مسلمان کی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کا ذکر تھا جی۔ انہوں نے مسلمان پر پردہ ڈال دیا ہے جی۔ خیر جی ایک سوال ہے جی۔ آپ نے ایک دفعہ اردو محفل کے حوالے سے بڑی جذباتی بلاگنگ کی تھی جی۔ یہ حدیث اس سے پہلے پڑھی تھی کہ بعد میں؟

اپنا نہ مان صاب دل تو چاہ رہا ہے آپ سے ایک سوال پوچھوں۔ میرے سوال کا تو خوب علم ہو گا۔ خیر مہاشے جی تماشے چھوڑو اور بندے بنو بندے۔ جاو کام کو یا گھر ختم ہوا میلہ۔ تمہاری چاٹی سے مکھن نہیں برآمد ہونا۔ اور پنجابی میں نصیحت بھی جگت ہوتی ہے۔ کسی پنجابی سے پوچھ لینا انگلی کے پیچھے بازو کیوں بنا دیا رب نے؟ نہ ملے کوئی پنجابی تو گامے کمہار سے پوچھ لینا اس کے پاس صرف فحش کہانیاں ہی نہیں تشریحات بھی ہیں۔

جناب بدتمیز صاحب موجودہ صورتحال سے بور ہو چکے ہیں لہذا کوئی نیا ایشو لایا جائے بین ڈالنے کو تین دن کافی ہوتے ہیں۔

Popularity: 1% [?]

Posted in nevermind, peoples profile.


WTF?

کس کس نے نہر کنارے نماز پڑھتے تین دوستوں کا لطیفہ سنا ہوا ہے؟

جب دو فریقین لڑنے جاتے ہیں تو باقی لوگوں کی حیثیت تماشائی سی ہوتی ہے۔ کوئی کہتا ہے دانت توڑ دو کوئی کہتا ہے اور مارو۔ کوئی مکے کا کہتا ہے تو کوئی لات کا۔ میں نے خبردار کیا تھا کہ ان لوگوں کی حیثیت اس سے زہادہ کچھ نہیں۔ مگر صد قابل احترام خاتون کچھ سننے سے انکاری تھیں۔

ان کا استدلال ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے بات ختم کر دی تھی۔ جی ہاں تین دفعہ۔ مگر مٕعذرت کے ساتھ اگر آپ نے بدتمیزی کی تھی تو بات دو طرح سے ختم ہوتی ہے۔ یا جوابی بدتمیزی سے یا معذرت سے۔ آپ نے کبھی مٕعذرت کی؟ اوہ آپ تو کبھی غلط تھے ہی نہیں۔ آپ جوابی بدتمیزی وصول کر کے چپ رہتے۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ آپ صرف اس سے اندازہ لگا لیں کہ آپ کو شہہ فراہم کرنے والے اور آپ خود کس زبان کا استعمال کر رہے تھے؟ کتنی گالیاں بکی گئیں؟ اوہ کیا آپ مجھے دیکھا سکتی ہیں جہاں کسی کو بازار سے ثابت کیا گیا؟ مثال اور الزام میں فرق جوش میں نہیں ہوش میں نظر آ سکتا ہے۔

اردو بلاگستان میں عورتیں کم ہے کی بڑی دھوم تھی۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عموما سرپرست یعنی باپ بھائی یا شوہر آنلائن ایکٹویٹیز مانیٹر کرتے ہیں اور پھر مشغلے سے ہٹا دیتے ہیں۔ میں نے خاتون کی ہر پوسٹ کے بعد کم از کم ایک دو دن کا وقفہ دیا کہ شائد کچھ حالت میں بہتری کا امکان ہوں مگر پوسٹ اور ان پر تبصرے قوال اور ہمنوا کی مدہوشی کا مظہر تھے۔ میرے وقفے کو خود خاتون کے اپنے الفاظ میں یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

میرا ایک دوست ہے۔ اس کو اپنے ہر دوست سے شکائت ہے۔ میں نے اس کو کہہ بھی دیا تھا کہ تمہیں ہر دوست سے مسئلہ ہے سوائے ایک کے۔ یہ ہر کسی کی شان میں کچھ نہ کچھ کہہ چکا ہے۔ وقت آنے پر شائد اس قدر اخلاقی ہمت نہیں پاتا کہ اپنے کہے کو قبول کرے لیکن میں منہ پر بات کہنے کی ہمت رکھتا ہوں جو میں آپ کی پیٹھ پیچھے کہوں گا وہی آپ کے منہ پر کہوںگا۔ اور مجھے دوغلا پن نہیں پسند۔ آگر میں آپ کو پسند نہیں کرتا تو میں کبھی آپ کے ساتھ نہیں چل سکتا۔

مجھے صرف ایک دوست نے کہا تھا کہ دفعہ کر اس قصے کو چھوڑ اور وہ جعفر تھا۔ جعفر کا کہنا تھا کہ یہاں مرغے کی ایک ٹانگ والا حساب ہے لہذا مٹی ڈالنے میں عافیت ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی اور دوست دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مجھے سمجھایا یا تنگ آ کر لکھا تو وہ یقینا hallucination کا شکار ہے۔ ریکارڈ کی درستگی کے لئے کہ ہماری کبھی اس معاملے پر بات نہیں ہوئی سوائے ایک دفعہ کہ جسمیں صاحب نے ہرگز یہ نہیں کہا تھا کہ تم غلط ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ تمہارے کہنے کا انداز درست نہیں اس کے علاوہ ان کو کچھ یاد ہو تو وہ ضرور مجھے آگاہ کریں۔

عثمان صاب ایک نیا اضاف ہیں۔ آپ عموما دو طرفہ پالیسی کے تحت تبصرے کرتے ہیں۔ خاتون کے بلاگ پر عموم جاہل تبصرے کرتے ہیں جن کو  پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ مگر ان کے تبصرے پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ پڑھا لکھا بندہ اور کام؟ عثمان صاب کے بارے میں میرے اسی دوست کا کہنا تھا جسکو میں quote کرتا ہوں۔ پینتیس سال کا ٹھرکی۔ عثمان صاب ضرور غور کریں کیا کھویا کیا پایا۔

عنیقہ نہ جانے کیسے اخلاقیات کی بات کر لیتی ہیں۔ ان کے بلاگ پر اینٹی پنجاب تبصرے درجنوں کے حساب سے ہوتے ہیں۔ ان کو condemn کرنے کا ان کو کبھی خیال نہیں آیا ڈیلیٹ کرنے کا تو دور کی بات۔ شائد اخلاقیات کی بات یہاں دب جاتی ہے۔

نہ مان صاب نے ایک پوسٹ کی۔ تماش بینوں والی۔ آپ کرنا تو مذمت چاہ رہے ہیں مگر مرمت کرتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ تہذیب کا رونا رویا جا رہا ہے مگر One sided آپ واہیات پن کہہ کر خود کس چیز کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ آپ کی اپنی تہذیب کدھر ہے جناب؟ آپ کی تین غلط فہمیاں تھیں۔ پہلی عنیقہ نے دور کر دی۔ وہ پہلے فرما چکی ہیں کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ مصروف ہیں۔ مگر نہ مان صاب کچھ اور رنگ دینا چاہ رہے تھے۔ دوسری غلط فہمی ان کو ایک اور بلاگر کے حوالے سے ہوئی۔ شاءد سبھی ان کو ویلے لگتے ہیں۔ تیسرے اجمل صاحب۔

یہاں ایک سوال۔ کیا موجودہ صورتحال کے تناظر میں اب کسی بھی جگہ عورت کی بات کرنا جرم ہو گا؟ کیونکہ نہ مان صاب نے اجمل صاحب کی جس پوسٹ کا لنک دیا وہاں کیا قابل اعتراض بات ہے؟ نہ مان صاب کے مستقل قاری جانتے ہیں کہ وہ اجمل صاحب سے شدید بغض کا شکار ہیں۔ نہ مان صاب نے یاسر سے پوچھا کہ ان کو دیکھایا جائے کہاں ذاتی حملے ہوئے۔ اگر میں دیکھا دوں تو کیا نہ مان صاب شرمندہ ہو نگے؟ نہ مان صاب سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹنے سے پرہیز کریں۔

مجھے یقین اپنے دوست سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے خاص طور پر نجی محافل میں کچھ کہنا اور منہ پر کچھ۔ یہاں یہ لازم ہے کہ تمام لوگوں کی حیثیت فریقین نہیں صرف تماشائی کی ہے۔ جو لوگ گالم گلوچ کر رہے ہیں یا افسوس کا اظہار کر رہے ہیں آپ اپنے مشغلے میں مصروف رہیں۔ جن لوگوں نے مجھے احساس دلایا کہ جو ہوا غلط ہوا مگر وہ کسی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور ان کے نزدیک غلط الفاظ کا تبادلہ دونوں طرف سے ہوا میں ان کی خاطر اپنے موقف میں تبدیلی لا کر اپنا signature question پوچھنے سے احتراز کر رہا ہوں۔ اور جلد ہی اپنی پوسٹس کو نظروں سے ہٹانے کا انتظام کرتا ہوں۔

 

Popularity: 1% [?]

Posted in nevermind.


Protected: مزید گستاخیاں

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Popularity: 1% [?]

Posted in nevermind, peoples profile.


Protected: مجھے لڑائی کرنی ہے۔

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Popularity: 1% [?]

Posted in Fun, Songs, Videos.




1,143 views