ابن صفی کے دیوانے
136 views 20 Comments Published March 9th, 2010 in nevermind, peoples profile, اردو, اردو بلاگنگ, بش کے دیس میں, دنیا نامہ, طنز و مزاح, فرق The Difference, میرے اقوال :P, پاکستان نامہ, کیوں؟.بحیثیت قوم ہم ابن صفی کے دیوانے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ان کے ایک آدھے ناول کے بعد مزید سے بچا لیا۔ ابن صفی کے صرف مذاحیہ جملے جو کہ علی عمران کی منہ زبانی وہ کہلواتے تھے یا مذاحیہ سچویشن ہی مزے کی تھی باقی جرم اور اس تک پہنچنا بالکل عام سا تھا۔ یعنی سامنے کی بات ہوا کرتی تھی۔ ابن صفی کے مقابلے مجھے اشتیاق احمد ایک زبردست رائٹر لگتا ہے اس کے بھی میں نے کل ملا کر سات ناول خریدے اور ایک دو کسی کے پڑھے ہونگے مگر اس کا انداز کہ سامنے کا مجرم مجرم نکلتا نہیں مجھے بہت بھایا۔
ابھی خاور کے بلاگ پر بات ہو رہی تھی کہ صفات کیونکر پیدا ہوتی ہیں اور کیسے رنگ معاشرہ نسل وغیر اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
میں ایک عرصہ سے ایک کانسپریسی تھیوری اندر ہی اندر پنپ رہا تھا کہ پاکستان میں دماغی کمزوری کے بڑے زبردست تجربات جاری ہیں جو خوراک یا ادویات کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ نتیجتہ لوگ عقل بند ہوتے جا رہے ہیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت یا ماحول کے مطابق بندوبست ان کے بس سے باہر کی بات ہے۔
درست غلط کی پہچان کم سے کم ہوتی جا رہی ہے اور حماقت کی انتہا پڑھتی جا رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ دین اور دنیا کو الگ الگ سمجھنے والے مسلمانوں کی اکثریت اسقدر بڑھ چکی ہے کہ تعجب ہوتا ہے، مجھے اب پکے نمازیوں اور مولویوں کے تمام قصے سچ لگنے لگے ہیں۔ خود میں ایسے کئی لوگوں کو جان گیا ہوں جن کے لئے آیات محظ ڈیکوریشن پیس رہ گئی ہیں اور غور و فکر سے ان کو کوئی غرض نہیں۔
پاکستان میں دماغی کمزوری کا ایک تجربہ واقعی جاری ہے اور اس کا نام ہے in breeding یعنی دوسرے الفاظ میں کزن میرج۔ خود میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنکی کزن میرج کا نتیجہ کوئٰ نہ کوئٰ ننھی جان کسی مہلک بیماری کی صورت جھیل رہی ہے۔ اور نتیجتہ ابنی صفی کے دیوانوں کی ایک لائن لگ گئی ہے۔ سامنے اور نظر سے اوجھل میں فرق لازمی کرنا ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کس نے خبر شائع کی تھی کہ اور آل ہمارے ملک میں قد میں کمی آ رہی ہے؟ وہ بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔
فیکٹس
امریکی کزن میرج معیوب سمجھتے ہیں۔
کزن میرج سے دماغی کمزوری کے ثبوت مل رہے ہیں۔
نوٹ
اس کو بہتر سمجھنے کے لئے یہ تصویر دیکھیں اور پھر سوچیں ہماری پوری قوم کی دماغی حالت کیا ہو گی؟
سوال
اور اگر یہی صورت جاری رہی تو پلینٹ آف دی ایپس میں سب سے زیادہ بندر کس ملک میں پائے جائیں گے؟
پوسٹ پسند نہ آئے تو
ابن صفی کی اچھائی کریں میری دھلائی نہیں۔
بحث، ویکپیڈیا کے لنکس پڑھے بغیر، کرنے سے گریز کریں۔
کیا کسی کو علم ہو اشتیاق احمد کے ناولز آنلائن کدھر سے ڈاونلوڈ کروں؟
Popularity: 1% [?]
یہ تحریر لکھتے ہوئے فرض کیا جا رہا ہے کہ آپ کو تمام بنیادی باتوں اور متعلقہ ٹرمز کا علم ہے۔
آئی پی ایڈریس اگر سٹیٹک ہو تو تبدیل نہیں ہوتا۔ جیسے تمام ویب سائٹس کے آئی پی ایڈریس سٹیٹک ہوتے ہیں۔ یا آپ کا آئی ایس پی بھی کچھ اضافی پیسوں کے ساتھ آپ کو سٹیٹک آئی پی فراہم کرتا ہے۔
ڈائنامک آئی پی عام طور پر ورچوئلی ہر ڈیوائس کا آئی پی ایڈریس ہوتا ہے جو کہ کسی آئی ایس پی کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوتی ہے۔ یعنی آپ کے کمپیوٹر یا انٹرنیٹ سے متصل ہر ڈیوائس کا آئی پی ایڈریس مستقل نہیں ہوتا اور تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
جیسے ورجینیا میں میرے گھر کا آئی پی ہر چوپیس گھنٹے بعد تبدیل ہو جاتا ہے۔ جبکہ یہاں نیویارک میں شائد ہفتہ مہینے بعد ہوتا ہے۔
اگر آپ کا آئی پی سٹیٹک ہے تو وہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ میں نے کبھی نیٹورک پر تجربہ نہیں کیا کہ انٹرنل آئی پی کیا ایک ہی رہتا ہے یا نہیں۔ لیکن اگر آپ کا آئی پی ڈائنامک ہے تو اس کا دورانیہ معلوم کر کے آپ کھل کر روزانہ دھاندلی مار سکتی ہیں تاقتیکہ آپ کو بین نہ کر دیا جائے۔ جی جی میرے منہ میں خاک۔
پہلے آئی پی چیک کریں نیچے دی گئی سائیٹ سے جو بھی نمبر نظر آ رہے ہونگے یہ آپ کے کمپیوٹر کا ایڈریس ہے۔ اس کے بعد ان نمبرز کو کسی جگہ کاپی کر دیں ایک دو دن مقررہ وقت پر اپنا ائی پی چیک کریں اور دیکھیں تبدیل ہوتا ہے ک نہیں۔
خود سے اگر آپ کے پاس کیبل یا ڈی ایس ایل موڈیم ہے تو اس کو کم از کم ایک منٹ کے لئے پاور آف کر دیں۔ سرور سے دوبارہ کنیکت ہونے کی صورت میں اس کو نیا آئی پی مل جائے گا۔ موڈیم سے زیادہ کھیلنے سے پرہیز کریں کچھ خراب ہو تو مجھ سے ہرگز رابطہ نہ کریں۔
Popularity: 1% [?]
ہمارے محبوب وزیراعظم نے پھر فرمایا ہے۔
51 views 3 Comments Published March 2nd, 2010 in طنز و مزاح, پاکستان نامہ.گھڑے کے مینڈک اور انٹرسٹنگ فیلو
125 views 8 Comments Published March 1st, 2010 in اردو, اردو بلاگنگ, بش کے دیس میں, دنیا نامہ, طنز و مزاح.دو مینڈکوں کو ایڈوینچر سوجھا سوچا نزدیکی گھڑے میں ڈبکی لگائیں۔ اول تو یہ اعتراض ہونا چاہئے کہ گھڑا کیوں jar کیوں نہیں۔ چونکہ میں ایک ان پڑھ بندہ ہوں لہذا گھڑے پر ہی اکتفا کریں۔ اب گھڑے والے بھِی ان پڑھ گھڑے میں پانی کی بجائے دودھ ڈال رکھا تھا۔ پہلے تو دونوں مینڈک بڑے گھبرائے اور لگے بحث کرنے۔ پھر پڑھا لکھا مینڈک تو کتاب کھول کر بیٹھ گیا۔ انپڑھ نے دو چار ہاتھ پیر مارے۔ بالائی جمع کی اور چھلانگ مار کر باہر نکل گیا۔ یہ کہانی میں نے بچپن میں پڑھِ تھی سمجھ اب لگی۔ معذرت میں بڑا ہی ناسمجھ ہوں۔
اگر آپ کی کسی سے لڑائِ ہو تو آپ کیا کریں گے؟ خوب کوسیں گے۔ کوسنا تو خواتین کا بہترین ساتھِی ہے۔ اگر خاتون کا موڈ درست نہیں تو وہ کوسنے میں ہی مصروف ہو گی۔ لڑائی پر کیا موقوف اگر آپ کسی کو ناپسند کرتے ہیں چلیں ناپسند تو دور کی بات اگر آپ کا نظریاتی مخالف ہی ہو تو آپ اسکو مناسب عزت نہیں دے سکتے۔ اور سنا ہے اس کو کہتے ہیں کلچرل تضاد۔
میرا ایک جاننے والا اپنی فیملی واپس پاکستان شفٹ کرنا چاہتا ہے۔ وجہ؟ صرف اتنی کہ کہیں اس کے بیٹے بڑے ہو کر اس کو نام سے مخاطب نہ کر دیں۔ امریکہ میں باپ کو یا ابا جان کہا جاتا ہے یا پھر نام سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ اگر باپ کی عزت کی جاتی ہے تو اس کو ڈیڈ یعنی ابا جان بلایا جاتا ہے۔ اور اگر فیملی کا شیرازہ بکھر چکا ہو یعنی ماں باپ میں طلاق واقع ہو اور بچے باپ کے خلاف ہوں یا باپ خراب ہو اور بچوں کو مار پیٹ کرتا رہا ہو تو ایسی صورت میں باپ کو بچے عموما نام سے مخاطب کرتے ہیں۔ اب ہمارے لوگ عام طور پر ابا جان کی انگلش کو ڈیڈ کہنا کلچرل تضاد کہتے ہیں۔ جیسے لوگ شائد پاخانہ یا ٹٹی کہنا مناسب نہ سمجھیں مگر بھرے مجمع میں shit shit کی گردان سے نہ جانے کیا prove کرنا چاہتے ہیں۔
اور پھر کلچرل تضاد تھا نہیں ابھِی ابھی پیدا ہوا ہے۔ اب سے صرف سو سال پہلے تک مغرب میں عورتیں اسی طرح “ڈھکی”ہوتی تھیں جیسے ہمارے معاشرے میں اور شادی سے پہلے تعلقات اور دوشیزہ نہ نکلنا اسی طرح ناقابل معافی جرم تھا جس کو ہم آجکل غیرت کے نام پر کہتے ہیں۔ میں پہلے امریکہ کے بارے میں کافی پوسٹس لکھ چکا ہوں کہ امریکہ پیزا ڈیلیوری بلونڈ حسیناوں اور ساحل سمندر سے کافی بڑا ہے۔ ان سے مستفید ہو کر اپنی اپنی کچرل تضاد درست کریں۔ اسی طرح بے تکلفی میں بل اور پروفیشنلزم مین مسٹر بل کلنٹن میں بہت فرق ہے۔ بیٹھک اور چوراہے میں فرق ملحوظ خاطر رکھنا لازمی ہے۔
چلئے میں ایک بندے کو اسحاق کہتا ہوں گورا اس کو آئزک کہتا ہے۔ میں ایک کو اسماعیل کہتا ہوں گورے اس کو اشماعیل کہتے ہیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ یہ ایک ہی اشخاص ہیں؟ دنیا کے تین بڑے مذاہب بغیر کسی کلچرل تضاد کے خدا سے ہر دعا کے بعد آمیں کہنے پر مجبور ہیں۔ اور پھر میرے نزدیک کلچرل تضاد کے اس ترازو پر ہم گراوٹ کا شکار ہیں۔ ہم اپنی اقدار سے گر کر کپڑے جھاڑ کر کھسیانی ہنسی ہنستے اس کو کلچرل تضاد کا نام دیتے ہیں۔
میری عادت ہے کہ اگر میرے ساتھ ایک ہی واقعہ دو دفعہ ہو تو میں چونک پڑتا ہوں۔ میں نے دو مختلف گوروں کو مختلف اوقات میں نوٹ کیا۔ دونوں صورتوں میں وہ نان گورے سے الجھ پڑے تھے اور فراہم کردہ خدمات سے مطمئن نہیں تھے۔ ان دونوں نے میری توقع کے برعکس ان لوگوں کے بارے کوئی برا لفظ نہِں نکالا اور صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا۔ “he was an interesting fellow” اور بات ختم۔
ہم کسی معاملے پر اچھی مثالیں پیش کر سکتے ہیں یا بری۔ مگر من حیث قوم ہم بری حرکت کر کے بری مثال پیش کر کے کیوں سرخرو ہونا چاہتے ہیں؟ میں نے کچھ عرصہ پہلے secrets of body language نامی ڈاکیومینٹری کا حوالہ دیا تھا جو لوگ صرف نام لینے نہ لینے پر حیران ہیں وہ اس سے مستفید ہوں کہ اس سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔
Popularity: 1% [?]
ہمارے محبوب وزیراعظم نے فرمایا ہے۔
43 views 5 Comments Published February 28th, 2010 in پاکستان نامہ, پاکستانی سیاست.ہمارے بچے جہاز میں پیدا ہوتے ہیں۔
یا اللہ اتنی بڑی زمین پر سارے پاگل ایک جگہ ہی اکٹھے کرنے تھے.؟
Popularity: 1% [?]



![Indiana Jones and the Kingdom of the Crystal Skull [Blu-ray]](http://ecx.images-amazon.com/images/I/51qtKmtIPgL._SL160_.jpg)
![The Happening (Special Edition + Digital Copy) [Blu-ray]](http://ecx.images-amazon.com/images/I/510hZIYZ5IL._SL160_.jpg)
![The Forbidden Kingdom (2-Disc Special Edition) [Blu-ray]](http://ecx.images-amazon.com/images/I/51JC%2BFhQYOL._SL160_.jpg)
![Land of the Lost [Blu-ray]](http://ecx.images-amazon.com/images/I/611zbj2BeOL._SL160_.jpg)

